جموں کشمیرکی200حج وعمر ہ کمپنیاں بند ہونے کی دہلیز پر

مارچ میں2000زائرین سعودی عرب جانے سے رہ گئے

تاریخ    23 مارچ 2020 (06 : 12 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر //جموں و کشمیر میں یکم مارچ 2020سے لیکر 22مارچ 2020تک 2ہزار افرادعمرہ کرنے سے رہ گئے ہیں جبکہ ماہ صیام کے دوران عمر پر جانے کی خواہش رکھنے والے افراد اب کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں حج و عمرہ کمپنیز کا کہنا ہے کہ 200کمپنیا ں بند ہونے کی دہلیز پر ہیں جسکی وجہ سے 2ہزار سے زائد لوگوں کا روز گار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں وبائی بیماری کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے جسکی وجہ سے سعودی عرب کے شہریوں کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی زائرین کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ سعودی عرب حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں عمرہ کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کو نہ صرف مایوسی ہوئی ہے بلکہ لوگوں کو عمرہ کی زیارت پر لینے والی کمپنیوں کو زبردست مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جبکہ پابندی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھی 2ہزار افراد 22دنوں کے اندر عمرہ کرنے سے رہ گئے ہیں جس کا براہ راست اثر جموں و کشمیر میں حج و عمرہ کرنے والے کمپنیوں کو بھی اٹھانا پڑا ہے اور یہ کمپنیاں بند ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئی ہیں۔ آل جموں و کشمیر ایسوسی ایشن آف حج و عمرہ کمپنیز کے صدر فیروز احمد کا کہنا ہے کہ حج و عمرہ کرانے والی کمپنیوں کو زبردست مالی نقصان سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ فیروز احمد نے بتایا ’’ یکم مارچ سے 22مارچ 2020تک 2ہزار سے زائد افراد نے عمرہ پر جانا منسوخ کردیا کیونکہ سعودی عرب نے دونوں مقامات مکہ مکرمہ اور مینہ منور ہ کو تمام زائرین کیلئے فی الحال بند کردیا ہے‘‘۔ فیروز نے بتایا ’’ اب صرف عمرہ پر جانے والے لوگ ہی زیارت پر نہیں جاسکتے بلکہ ماہ صیام کے دوران بھی لوگوںکا سفر بھی ناممکن لگ رہا ہے اور اگر صورتحال ایسی رہی تو حج کرنا بھی ناممکن لگ رہا ہے۔ فیروز نے بتایا ’’ عالمی ادارہ صحت اور دیگر ماہرین نے علان کیا ہے کہ کورونا وائرس 15اپریل 2020کے بعد قہر پیدا کرسکتا ہے اور ایسی صورتحال میں لوگوں کاحج پرجانا بھی ناممکن لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کوئی ٹھوس چیز فروخت نہیں کرتے لیکن اس کے بائوجود بھی ایکconceptفروخت کرنے کیلئے کئی تیاریاں کرنی پڑتی ہیں اور اس Conceptکو فروخت کرنے کیلئے تیاریوں پر لاکھوں روپے صرف کرنے پڑتے ہیں۔  انہوں نے کہا’ عمرہ اور حج پرکسی کو بھیجنے کیلئے ہمیں ایک سال قبل ہی ایئرلائنز، ہوٹلوں اور ویزا پر رقومات صرف کرنی پڑتی ہیں جو ہم پہلے ہی کرچکے ہیں‘‘۔ فیروز احمد نے کہا ’’ تمام حج و عمرہ کمپنیوں نے پہلے سے ہی کافی رقومات انتظامات پر صرف کردیئے ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے عمرہ بند ہونے سے مالی مشکلات میں کافی حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’جی ایس ٹی اور بجلی کا بل31مارچ2020تک ادا کرنا ہے اور دوسری جانب بینک سے لئے گئے قرضوں کی قسط ادا کرنا بھی ناممکن لگ رہا ہے اور ایسی صورتحال میں بھی سرکاری تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ فیروز نے بتایا ’’ صورتحال جلد ٹھیک نہیں ہوئی تو جموں و کشمیر میں قائم 200حج و عمرہ کمپنیز بند ہونے کی دہلیز پر پہنچ جائیں گی۔  انہوں نے کہا’’ اگست 2019کی وجہ سے ہماراکام 6ماہ بند رہا ، پھر سردیوں کی وجہ سے کاروبار ٹھپ پڑا تھا اور اب جب صورتحال پھر سے بہتر ہورہی تھی تو کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈائون کی وجہ سے ہم شدید نقصانات سے دو چار ہورہے ہیں اور ایسی صورتحال میں ملازمین کی تنخواہیں واگذار کرنا ناممکن بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ حج و عمرہ کمپنیز کو بچانے کیلئے ریاستی سرکار کو چند معاملات جن میں جی ایس ٹی ، بجلی بل اور دیگر صورتحال کو دیکھتے ہوئے نرمی برتنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں 200حج و عمرہ کمپنیز بند ہوگئی تو ان سے 2ہزار سے زائد کنبے متاثر ہوںگے۔
 

تازہ ترین