ترہگام کے صارفین بجلی کی باربار کٹوتی سے پریشان

رسیونگ اسٹیشن کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا مطالبہ

23 مارچ 2020 (06 : 12 AM)   
(      )

اشرف چراغ
کپوارہ//ہری ترہگام کپوارہ کا رسیونگ اسٹیشن لوگوں کیلئے دردسر بن گیا ہے کیونکہ ریسونگ اسٹیشن کے باربارائور لوڈ ہونے کی وجہ سے علاقہ میں بجلی کی غیرضروری کٹوتی کی جارہی ہے۔ترہگام کے لوگوں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ 7برس سے اس علاقہ میں بجلی کابحران جاری ہے اور محکمہ بجلی اس بحران کوقابو کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک دہائی قبل ہری کے مقام پرایک رسیونگ اسٹیشن کی بنیاد ڈالی گئی جہاں سے ترہگام اور ملحقہ علاقوں کو بجلی فراہم کی گئی لیکن دس سال کے دوران آبادی میں اضافہ کی وجہ سے محکمہ بجلی نے سینکڑوں صارفین کو بجلی کے کنکشن دیئے تاہم ابھی تک دس برس قبل رسیونگ اسٹیشن میں نصب کئے گئے ٹرانسفارمرسے ہی بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ ترہگام کے علاوہ، آورہ ،لدرون ،لدرناگ ،زرہامہ ،مڑ ہامہ ،کارواری ،ہندی ،ہری بالا اور پائین ،ڈولی پورہ ،کنن ،پوشہ پورہ ،بابا گنڈ ،ہائین ،چک ڈولی پورہ کے علا قے مذکورہ رسیونگ اسٹیشن سے منسلک ہیں اور اب اس رسیونگ اسٹیشن میں نصب بجلی ٹرانسفار مر کی صلاحیت بھی کم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں آئے روز اس رسیونگ اسٹیشن سے بجلی کا ٹ دی جاتی ہے ۔ ترہگام کے لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ ترہگام سے لفٹ واٹر سپلائی سکیم کا درو مدار بجلی پر منحصر ہے تاہم بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پینے کے پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوتی ہے جبکہ یہاں کی مساجد کو فراہم ہونے والے پانی کی سپلائی بھی متا ثر ہوتی ہے ۔لوگو ں نے کہا کہ 4سال قبل اس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کپوارہ دور ے کے دوران علاقائی بہبود کمیٹی اور ٹریڈرس فیڈ ریشن ترہگام کو یقین دلا یا تھا کہ ترہگام رسیونگ اسٹیشن کا درجہ بڑھا کر اس میں بڑے صلاحیت والے بجلی ٹرانسفار مر کو نصب کیا جائے گا اور محکمہ کے اعلیٰ حکام کو ہدایت بھی دی تھی لیکن4سال گزر جانے کے با وجود بھی ان کے احکامات پر کوئی عمل در آمد نہیں ہوا ، جس کی سزا صارفین کو بھگتنی پڑتی ہے ۔لوگو ں نے لیفٹنٹ گو ر نر انتظامیہ سے مذکورہ ریسونگ اسٹیشن کی صلاحیت بڑھانے کا مطالبہ کیا ۔
 

تازہ ترین