تازہ ترین

وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی چیف سیکریٹریوں کیساتھ اہم مشاورت | 31مارچ تک ملک بھر میں لاک ڈائون کا فیصلہ

جموں کشمیر انتظامیہ کا سبھی ضلع ترقیاتی کمشنروں کے نام تحریری حکم صادر، فیصلے پر مکمل عملدر آمد کرنے کی تلقین

تاریخ    23 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(عکاسی:حبیب نقاش)

نیوز ڈیسک
نئی دہلی +سرینگر// بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 369 پہنچنے اور 7 افراد کی ہلاکت کے بعد وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے بھارت بھر میں31مارچ تک مکمل لاک ڈائون کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دوران سبھی ٹرینیں، میٹرو اور بین ریاستی ٹرانسپورٹ بند رہیگا ،نیز ملک کے 75اضلاع میں ہر طرح کی عوامی آمد و رفت بند رہے گی۔اس بات کا فیصلہ کرنے کیلئے اتوار کی صبح وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری نے سبھی ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں کے چیف سیکریٹریزکے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میٹنگ کی۔ میٹنگ میں سبھی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں کورنا وائرس کے حوالے سے اُٹھائے جارہے احتیاطی تدابیر کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ویڈیو کانفرنس کے دوران سبھی ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں جنتا کرفیو کو31مارچ تک لاک ڈائون میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ ریل سروس ، میٹرو ٹرین اور بین ریاستی ٹرانسپورٹ سروس بھی بند کی جائے۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری نے چیف سیکریٹریوں سے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر من وعن عمل کیا جائے تاکہ اس مہلک وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ ضروری خدمات سے تعلق رکھنے والی ٹرانسپورٹ سروس کو بحال رکھا جائے نیز سبھی ریاستوں اور یوین ٹریٹریوں کی انتظامیہ اپنے حساب سے خود اس بارے میں دیگر ضروری فیصلے کرے گی۔ میٹنگ میں جنتا کرفیو کے عوامی رد عمل کو خوش آئندہ قرار دیکر کہا کہ لوگوں میں شعور پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔اس میٹنگ کے بعد بھارت کے ریلوے بورڈ نے ایک اہم میٹنگ میں ملک بھر کی سبھی ٹرینوں کو 31مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کیا تاہم مال بردار ریل گاڑیاں بدستور چلتی رہیں گی۔ریلوے نے اتوار کو قریب 1000ٹرینیں بند کی تھیں۔ مختلف ریاستوں کے درمیان چلنی والی بس سروس بھی 31مارچ تک معطل کردی گئی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت آنے والی بین الاقوامی پروازیں پہلے ہی معطل کی جاچکی ہیں۔اس فیصلے کے بعد جموں کشمیر انتظامیہ نے31مارچ تک تمام عوامی و سرکاری اداروں، کاروباو و تجارتی مراکز اور سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا  فیصلہ لیا،تاہم لازمی سہولیات اور اشیاء فراہم کر نے والے اداروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم کی طرف سے ٹنل کے آر پار تمام20ضلع ترقیاتی کمشنروں کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یہ بندشیں اتوار8بجے سے 31مارچ6بجے تک جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کورنا وائرس وباء کے پھیلائو کو روکنے اور اس کی منتقلی کی زنجیر کو توڑنے کیلئے یہ بندھ لازمی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے’’ سماجی دوریوں،جیسا کہ لوگوں کے مابین نزدیکی روابط کو کم از کم بنانا یا ختم کرنا کو نافذالعمل بنانا لازمی ہے،اس لئے ضلع ترقیاتی کمشنر یا ضلع مجسٹریٹ فوجداری قانون دفعہ144 اور آفات سمای انتظامی ایکٹ مجریہ2005کے تحت متعلقہ اضلاع میں تمام تنصیبات(کاروباری،سرکاری،تجارتی،سماجی،مذہبی،فلاحی وغیر) ماسوائے لازمی سروس و بنیادی اشیاء فراہم کرنیوالے اداروں اور مراکز کو22مارچ شام8بجے سے31مارچ 6بجے تک بند رکھنے کے احکامات جاری کریں‘‘۔ چیف سیکریٹری نے بتایا کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے اس سلسلے میں پہلے ہی لازمی سروس اور بنیادی اشیاء کی فہرست جاری کی ہے۔ چیف سیکریٹری کا کہنا تھا’’ تمام مال بردار گاڑیاں بشمول بنیادی اشیاء ڈھونے والی گاڑیوں کو اس بندھ کے دوران ضلع ترقیاتی کمشنروں کی طرف سے اجراء کئے گئے مخصوص اجازت ناموں کے تحت چلنے کی اجازت ہوگی،جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر اس سلسلے میں لازمی انتظامات کریں گے۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر نے ہی لازمی سروس سے جڑے لوگوں کو بغیر کسی مشکل کے انکے کام کرنے کے مقامات پر پہنچنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔ حکم نامہ میں کہا گیا’’ ضلع ترقیاتی کمشنر عوامی مقامات پر لوگوں کے تمام مجموعوں کو  صرف3افراد تک محدود کریں گے‘‘،جبکہ انہیں  ہدایت دی گئی کہ ان ہدایات کا اطلاق سختی کے ساتھ  فوری طور پر کیا جائے۔صوبائی کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں۔
 

تازہ ترین