آئی او سی سے اولمپک طے وقت پر کرانے کے فیصلے کا جائزہ لینے کا مطالبہ

تاریخ    22 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی/ٹوکیو اولمپک طے وقت پر کرانے پر آمادہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) سے اپنے فیصلے کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ٹوکیو اولمپک 24 جولائی سے نو اگست تک منعقد ہونا ہے ۔آئی او سی اور جاپان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود اولمپک طے وقت پر منعقد ہونا ہے ۔لیکن اسپورٹس اینڈ رائٹس الائنس (ایس آراے ) اور ورلڈ پلئیر ایسوسی ایشن (ڈبلیوپي اے ) نے آئی او سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا جائزہ لے اور ساتھ ہی اس مسئلے کے بارے میں کھلاڑیوں سے بات کرے ۔دنیا کے 168 ممالک میں پھیل چکے کورونا وائرس 'کووڈ 19' کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اب تک اس خطرناک وائرس سے 11،248 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ قریب 269،482 لوگ اس سے متاثرہ ہوئے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں تمام کھیل مقابلے یا تو آگے کی تاریخ کے لئے ملتوی کئے جا چکے ہیں یا پھر منسوخ کر دئے گئے ہیں۔ایک طرف جہاں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اولمپک ملتوی کیا جائے تو دوسری طرف ٹوکیو اولمپک کی مشعل جمعہ کو جاپان پہنچ گئی۔اولمپک مشعل کو ایتھنز سے لے کر ایک چارٹرڈ طیارہ ٹوکیو 2020 گو متسوشما میاگی واقع جاپان کے فضائیہ اڈے پر پہنچا۔تین بار کے اولمپک طلائی فاتح تادھیرو نومورا اور ساوري یوشیدا نے طیارے سے مشعل کو وصول کیا اور انتظار کر رہے ٹوکیو 2020 کے صدر یوشرو موری کے حوالے کر دیا۔ان دونوں کھلاڑیوں اور موری کو ایتھنز میں مشعل برداری کرنے والی تقریب میں جاپانی وفد کا حصہ ہونا تھا لیکن اس وفد کو ہی تحلیل کر دیا گیا تھا- ورلڈ پلئیر ایسوسی ایشن (ڈبلیوپي اے ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برینڈن شواب نے کہا کہ آئی او سی کو اولمپک طے وقت پر کرانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کھلاڑیوں کے ساتھ اور بات چیت کرنا چاہئے ۔ شواب نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا اس وقت ایک وبا کی گرفت میں ہے اور اولمپک جیسے بڑے کھیل ایوینٹ کے انعقاد پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ خطرہ مسلسل بڑھ ہی رہا ہے اور بات چیت میں کھلاڑیوں کے نمائندوں کو شامل کیا جانا چاہئے ۔ ٹوکیو اولمپک کے لئے کوالیفکیشن ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ جاپان کے شہر ٹوکیو کو 11 ہزار کے قریب کھلاڑیوں کی میزبانی کرنی ہے اور 50 فیصد سے زیادہ کھلاڑی ان کھیلوں کے لئے کوالیفائی کر چکے ہیں۔ باقی کھلاڑیوں کو کوالیفکیشن یا درجہ بندی کی بنیاد پر اولمپکس میں داخلہ ملنا ہے ۔ایس آر اے کا ایک حصہ ہیومن رائٹس واچ میں ڈائریکٹر مکی وارڈن نے بھی کہا کہ کھیل اداروں کو اس وقت اور شفاف ہونے کی ضرورت ہے ۔ وارڈن نے کہاکہ یہ خطرناک وائرس لوگوں کی صحت، لوگو ں کے حقوق، روزگار اور کیریئر پر گہرا اثر ڈال رہا ہے اور اس نے ساتھ ہی ان کروڑوں لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے جن کی زندگی کھیل کی صنعت پر منحصر ہے ۔ کھیل اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے لئے ایسا ماحول یقینی بنائیں جہاں خطرہ نہ کے برابر ہو۔ جاپان اولمپک کمیٹی کی بورڈ رکن کاوري یاماگوچی نے بھی کہا ہے کہ اولمپک کھیلوں کو ملتوی کر دیا جانا چاہئے کیونکہ کورونا وائرس کے خطرے کی وجہ سے کھلاڑی اپنی پوری تیاری نہیں کر پائیں گے ۔ آئی او سی کے ایک رکن نے بھی اولمپک کرانے کی ضد کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے جبکہ بہت سے کھلاڑیوں کا کہنا ہے آئی او سی کا فیصلہ کھلاڑیوں کو خطرے میں ڈالے گا۔یاماگوچی نے کہاکہ آئی او سی کا اولمپک منعقد کرنے پر آمادہ رہنا کھلاڑیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ میں اس معاملے کو 27 مارچ کو جاپان اولمپک کمیٹی کی بورڈ میٹنگ میں اٹھاؤں گی۔ میں امریکہ اور یورپ سے آنے والی خبروں کو دیکھ رہی ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کھلاڑی اپنی عام ٹریننگ تک نہیں کر پا رہے ہیں۔ آئی او سی کی رکن ہیلی وکین ھیسر نے کھیل کو جاری رکھنے کے فیصلے کو بے حس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے ۔ ہیلی وکین ھیسر نے کہاکہ یہ بحران بہت بڑا ہے ۔ اگر ہم کھیلوں کو شیڈول کے مطابق منعقد کرتے ہیں تو ہم اس خطرناک وائرس کے خطرے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ کھلاڑی ٹریننگ نہیں کر پا رہے ہیں، سفر کرنا مشکل ہے اور مارکیٹوں اور اسپانسرز کی حالت خراب ہے ۔ انسانیت کی موجودہ خراب حالت کو دیکھتے ہوئے اولمپکس کرانا صحیح فیصلہ نہیں ہو گا۔ موجودہ اولمپک پول والٹ چمپئن کیٹرینہ اسٹیفانڈی سمیت کئی کھلاڑیوں نے کہا کہ آئی او سی کا فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کیا یہ مناسب ہے کہ جب وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے پورے ملک کو بند کر دیا گیا ہے تو ایسے میں کھلاڑی عام ٹریننگ کس طرح کر سکتا ہے ۔ اولمپک کھیل ملتوی نہیں کئے جا رہے ہیں، منسوخ نہیں کئے جا رہے ہیں، تو کیا آئی او سی ہمیں خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ اس سے پہلے جاپان حکومت کے چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشیھدی سگا نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود ٹوکیو مقرر پروگرام کے مطابق اولمپکس کی میزبانی کرے گا۔ حکومت اپنی تیاریوں کو جاری رکھے گی اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے ساتھ مل کر اولمپکس منعقد کرے گی۔ کھیلوں کو ملتوی نہیں کریں گے اور کھیل اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے ۔ جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے بھی کہہ چکے ہیں کہ کھیلوں کا فیصلہ وقت پر کریں گے ۔آئی او سی بھی ٹوکیو اولمپک کھیلوں کے لیے مقررہ وقت پر کرنے کے لیے پرعزم ہے ۔ آئی او سی نے کہا ہے کہ یہ ایک بے مثال مسئلہ ہے اور اس کا بے مثال حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ ہم ایک حل تلاش کرنا چاہتے ہیں تاکہ کھلاڑیوں پر کم سے کم اثر پڑے اور کھیل کی سالمیت اور کھلاڑیوں کی صحت بنی رہے ۔ یو این آئی 
 

کورونا کے سبب تھامس ابیر کپ ملتوی

کوپن ہیگن/بی ڈبلیو ایف تھامس ابیر کپ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کو کورونا وائرس کے خطرے کے سبب ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ 16 سے 24 مئی تک منعقد ہونا تھا اور اسے اب 15 سے 23 اگست تک منعقد کیا جائے گا۔بیڈمنٹن ڈنمارک نے ہفتہ کو ایک پریس ریلیز میں یہ جانکاری دی۔ بیڈمنٹن ڈنمارک، عالمی بیڈمنٹن فیڈریشن (بي ڈبلیوایف)، اسپورٹس ایوینٹس ڈنمارک اور ارھس میونسپلٹي نے ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا فیصلہ اجتماعی طور پر لیا ہے ۔اس سے پہلے بی ڈبلیو ایف نے کورونا وائرس کے خطرے کے سبب پانچ اور ٹورنامنٹ جمعہ کو معطل کر دیے تھے ۔ بی ڈبلیو ایف نے ایک ہفتے پہلے اپنے تمام ٹورنامنٹ 12 اپریل تک معطل کر دیے تھے ۔ بی ڈبلیو ایف نے ایک بیان میں بتایا کہ پانچ اور ٹورنامنٹوں کو معطل کیا گیا ہے ۔ معطل ٹورنامنٹوں میں تین کانٹی نینٹل چمپئن شپ شامل ہیں جو اولمپک کوالیفکیشن کے لئے آخری موقع ہیں۔ بیڈمنٹن کے لئے درجہ بندی کی مدت 26 اپریل ہے ۔
 

تازہ ترین