تازہ ترین

بیتے موسم کا خط

افسانہ

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ناصر ضمیر
یہ گناہ ہے
اور جُرم بھی
ویسے بھی میری پیشہ وارانہ ذمہ داری اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں ایسا کروں۔
پر۔۔۔۔ پر اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو میرے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی۔ یہ بند لفافے میں پڑا خط میرے اعصاب پر بُری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ مجھے لفافہ کھول کر یہ خط پڑھنا ہی ہوگا تب جاکے مجھے چین ملیگا اور قدرے راحت بھی ۔
یہ خط ایک شخص کی دل کی دھڑکن ہے جسے وہ اپنے سے جُدا نہیں کرنا چاہتا تھا پر میرے کہنے پر اُس نے آج یہ کیا ۔ یہ خط منان صاحب کا ہے ۔ منان صاحب کیا غضب کے آدمی ہیں اِس دلچسپ شخص سے ملاقات میری خوش بختی ہے۔ 
لگ بھگ د و سال قبل جب میری پوسٹنگ یہاں رائے گنج پوسٹ آفس میں ہوئی تو میں پہلے ہی دن سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھانے میں جُٹ گیا ۔ پہلے ہی دن سینکڑوں چھٹیا ںرجسٹر پوسٹ کرنا ، کمپیوٹر سے رسیدیں نکالنا،مسافت کے حساب سے پیسے لینا، ریز گاری نہ ہونے پر چڑ جانا ، وقفے وقفے سے چائے کے گھونٹ اور کیمپوٹر پر تھرکتی اُنگلیاں ۔۔۔ یہ سب ہوہی رہاتھا کہ ایک شخص کاونٹر کے سامنے ہاتھ میں لفافہ لئے کھڑا تھا ۔
جی فرمایئے ۔
یہ خط رجسٹر پوسٹ کرنا تھا ۔
آفس کے سبھی ساتھی میری طرف دیکھ رہے تھے اور مُسکرا رہے تھے۔ میں کچھ سمجھ نہیں پایا ۔
جی جی لایئے ۔
وہ شخص، جو کونٹر پر لگی تار کی جالی کے اُس طرف تھا،کچھ پریشان سا ہوا۔ کچھ کچھ گھبرانے لگا۔ پھر خط میری طرف بڑھاتے ہوئے جٹ سے واپس مڑااور حال نُما کمرے میں بچھے بنچ پر بیٹھ گیا ۔
ارے اِنہیں کیا ہوا؟ میں نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا ۔
میرے ساتھی نے مجھے بتایا ۔ یہ منا ن صاحب ہیں۔آپ سے قبل میری پوسٹنگ جب یہاں پر ہوئی تب سے اِنہیں دیکھ رہا ہوں ۔ ہر ورکنگ ڈے پر یہاں آتے ہیں ، قطار میں کھڑے ہوجاتے ہیںاور جب اپنی باری پر کونٹر پر آتے ہیں تو خط پوسٹ کرنے کے بجائے گھبرا کر اور پریشان حالت میں واپس چلے جاتے ہیں۔
کیا پاگل ہیں ۔۔۔ میرا مطلب ہے دماغ میں کوئی خلل وغیرہ ۔
میں نے اضطراری کیفیت میں پوچھا ۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے، پر پتہ نہیں اِنکے ساتھ کیا مسئلہ ہے ۔جو یہاں ہم سے پہلے کام کرتے تھے اُن کے مطابق چھ سات برس سے ایسا ہی کرتے آرہے ہیں۔ پر کسی کو کو ئی علمیت نہیں کہ کیا مسئلہ ہے ۔
 میں نے دیکھا منان صاحب بالکل صحیح بندے نظر آرہے تھے۔پاگل پن کے کوئی بھی آثار اِن میں نہیں تھے۔عمر لگ بھگ ساٹھ پینسٹھ سال کی تھی، سنجیدہ چہرہ ، آگے کے بال جڑ چکے ، باقی کے بال کالے اور سفید ، موٹی موٹی مونچھیںجن سے اُوپر کا ہونٹ بالکل بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔چھوٹی چھوٹی مگر خوبصور ت بُھوری آنکھیں ، خوش لباس ۔۔۔ چیک کوٹ ، بلیک پینٹ ، گلے میں سُرخ رنگ کا مفلر ڈالے ہوئے کچھ سوچ رہے تھے 
کچھ دیر بعد وہ پوسٹ آفس سے باہر چلے آئے ۔
پھر ایسا ہر working dayہوتا رہا۔ 
آج نہ جانے کیوں اور کہاں سے میں نے ہمت جُٹائی جوں ہی منان صاحب خط ہاتھ میں لئے اپنی باری پر کاونٹر کے نزدیک پہنچ کر واپس مڑے کہ میں اپنی کُرسی سے اُچھلا اور کیبن سے باہر آکر منان صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا وہ ہمیشہ کی طرح کسی گہری سوچ میں تھے ۔کیا بات ہے منان صاحب ۔
اُنہوں نے سر اُٹھا یا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صرف اتنا کہا ۔
ہوں ۔۔۔۔پھر ایک لمبی آہ بھری۔
تھوڑے وقفے کی بعد گویا ہوئے کچھ نہیں بیٹا۔۔۔ نہایت محبت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
یہ خط رجسٹر نہیں کرایئے گا ۔ میں نے پوچھا۔
ہوں۔۔۔۔۔۔پھر سر اُٹھا کر میری طرف متذبذب نظروں سے دیکھا ۔۔کچھ نہ کہا اور اُٹھ کر چلے جانے والے ہی تھے کہ میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُن سے کہا چلئے نیچے کنٹین میں چائے پیتے ہیں۔
وہ میری طرف دیکھ کر مُسکرائے ۔
تھوڑی دیر بعد ، گرم گرم چائے کی دو پیالیاں ہمارے سامنے رکھی ہوئی تھیں اور میں نے گفتگو کا آغاز یوں کیا ۔
میرا نام ضمیر ہے کچھ دن پہلے ہی میری پوسٹنگ یہاں ہوئی ہے ۔ ہر ورکنگ ڈے آپ کو یہاں دیکھتا ہوں ۔۔پر آپ سے کبھی بات نہیں ہوپائی۔ کچھ بتایئے نا ۔
کس بارے میں ۔اُنہوں نے تعجب سے جواب دیا ۔
اپنے بارے میں ۔۔۔۔جی اپنے بارے میں کچھ بتایئے ۔میں نے زور دیکر پوچھا ۔
وہ مُسکرایئے کوٹ کی داہنی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا ، سگریٹ سُلگایا اور دھواں کچھ منہ سے ، کچھ نتھنوں سے چھوڑتے ہوئے کہنے لگے۔
’’ اب مجھے بھی یاد نہیں کہ میں کون ہوں ، خیر جتنا یاد آتا ہے اُتنا بتا تا ہوں ۔
متوسط طبقے کا ایک عام انسان ، اوسط درجے کے ایک سرکاری ملازم تھا ۔جوانی میں کافی عشق کئے ۔ پھر شاعری کی دیوی مہربان ہوئی، کبھی کبھی کہانیاں بھی لکھیں۔۔۔ حُسن کی پرستش کرتا رہا ، کافی خوش مزاج رہا ہوں پھر شادی ہوئی اور بچے بھی ۔ پھر اچانک محسوس ہونے لگا زندگی کے بچے کچھے دن شاید ایسے ہی گذریں گے ۔ پر پتہ نہیں کیوں کچھ کمی سی محسوس ہورہی تھی ۔ لڑکپن سے جوانی تک یا پھر ادھیڑ عمر ہونے تک خواب میں جسے دیکھتا تھا وہ کبھی نہ ملی۔ 
کون ؟ میں نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا ۔
ایک حسین پیکر جس کا نام میں نے من ہی من ’’ خواب رُتوں کی شہزادی ‘‘ رکھا تھا ۔ عمر کی چالیس بہاریں بھی گذر چکی تھیں ۔۔۔۔۔ پھر ایک روز !
ایک روز کیا ؟میں نے حیرت سے پوچھا 
منان صاحب مسکرائے اور کہنے لگے، پھر میں نے ایک دن اُسکو دیکھا ۔
کس کو ’’ خواب رُتوں کی شہزادی ‘‘ ؟کو میں نے یہیں سے جواب دیا۔
جی۔ وہ پھر مُسکرا کر بولے۔
 ایک دن ایک سمینار میں اُس کی جھلک دیکھی ۔ دُنیا جیسے تھم گئی ۔ مجھے اس بات کا قطعی امکان نظر نہیں آرہا تھا کہ شاید میں اسے اِس زندگی میں دیکھ پائوں گا ۔پر شومئی قسمت وہ ایک جھلک دیکھا کر غائب ہوگئی ۔مگر میری اضطرابی کیفیت رنگ لائی ۔ جلد ہی قسمت مجھ پر مہربان ہوگئی اور اُن سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ملاقات اب تک یاد ہے۔
میں نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ یوں لگا کہ جیسے وہ میرے تخیّل سے اُتر کر آئی ہو ۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ میں نے اس جیسی خوبصورت لڑکی پہلے کبھی دیکھی نہ تھی ،مگر سچ یہ ہے کہ ویسی نہ دیکھی تھی ، کچھ تھا ضروراس میں ، اس کی آنکھوں میں ایک خاموش شرارت تھی، اس کی مسکراہٹ میں زندگی مسکراتی تھی اور وہ جب دھیمی آواز میں باتیں کرتی تو یوں لگتا تھا کی جیسے چاروں طرف جھل ترنگ سے بج رہے ہوں۔ میں نے اسے آج دوسری دفعہ دیکھا تھا مگر ابھی تک اس سے کوئی بات نہ ہوپائی تھی ۔ یوں تو میں، میرے دوستوں کے مطابق، ہر فن مولا تھا ۔ اچھا مقرر، بذلہ سنج ۔ادبی حلقوں میں میری خوب پذیرائی ہوتی اور مشاعرے تو میں یوں چٹکی بجاتے ہی لوٹ لیتا تھا ۔ مگر آج وہ سامنے تھی تو مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میرے پاس لفظوں کا اکال پڑا ہے۔ میری زبان گنگ اور میں اُسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ مجھے یوں متذبذب دیکھ کر ہلکے سے مسکرائی اور دھیمے لہجے میں اُسی جلترنگ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’ آپ سے ملکر بے حد خوشی ہوئی‘‘۔
’’جہ ۔۔۔جی ۔۔۔جی ۔۔۔مجھ مجھے بھی‘‘ بڑی مشکل سے بول پایا تھا ، جیسے کسی نے گہری نیند سے جگایا ہو‘‘۔
’’ آ ۔ آپ کیوں نہیں آتی ہیں ہماری محفلوں میں؟ میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی ڈالا مگر آج مجھے پہلی بار عجیب محسوس ہورہا تھا۔ مجھے اپنے ہی الفاظ اجنبی سے معلوم ہورہے تھے۔
’’ آئیں گے کبھی جلدی کیا ہے‘‘۔ وہ اسی دلربائی مگر معصوم انداز میں بول رہی تھی۔ کانوں میں پھر ایک بار جل ترنگ بج اُٹھا۔ 
’’ میڈم۔ صاحب باہر انتظار کررہے ہیں‘‘۔ شوفر نے آکر اطلاع دی۔ 
’’ او۔ ہاں آرہی ہوں‘‘۔ اس نے کچھ یاد کرکے اپنے مخصوص انداز میں کہا اور میری طرف مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ منان صاحب اب اجازت دیجئے۔ خُدا حافظ‘‘ کہتے ہوئے وہ شوفر کے پیچھے پیچھے نکل گئی اور پل بھر کو میرے چہرے پر بھی مسکراہٹ ٹھہری ۔ میری خالی نظر وں نے دو ر تک اس کا تعاقب کیا اور پھر ایک بار سکتے کی سی حالت مجھ پر طاری ہوگئی۔
میں نے لاکھ اپناسر جھٹکنے کی کوشش کی مگر وہ بار بار ذہن میں کسی خیال یا کسی پیکر میں ڈھل کر سامنے آتی رہی۔ اب تک کبھی ایسی حالت نہ ہوئی تھی ، میں بہت پریشان تھا کہ اچانک فون کی بیل ہوئی تو پھر ایک بار چونکا۔
’’ ہاں پاپا پروجیکٹ کے لئے مجھے مصنوعی پیڑ، آئیس کریم سٹکس، گلیو اور پوسٹر کلرس چاہیں۔ دیکھئے بھولیئے گا نہیں‘‘۔ میری بارہ سال کی بیٹی نے مجھے کوئی تیسری بار یاد دلایا ۔ میں نے بے خیالی میں حامی بھرلی اور مشاعرہ پڑھنے چلا گیا۔ مصدق اور عامر کے درمیانی نشست پر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر میں ہی مشاعرہ شروع ہونے والا تھا ۔ مجھے بھی چند غزلیں، جو میں نے حال ہی میں کہی تھیں،سُنانی تھیں۔ مگر میرا دل تو اچاٹ ہوچکا تھا ۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ دنیا کی ساری رونق اپنے ساتھ لے گئی ہو۔ ماحول میں عجیب سی گھٹن در آئی تھی ۔ میرا نام لیا گیا تو میں پھر ایک بار چونک پڑا۔ دل چاہ رہا تھا کہ معذرت کرلوں مگر ایسا کرنا گویا اپنے لئے نہ جانے کتنے سوالات کا در کھولنا تھا۔ سو بادل نہ خواستہ میں ڈائیس پر آیا تو ایک دم سے مجھے اس کی مسکراتی ہوئی آنکھیں یاد آئیں۔
جاگتے میں بھی سوتی ہیں
کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں
خواب ہی پروتی ہیں
کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں۔
میں نے اس کے تصّور میں اپنی نظم پڑھی تو ہر طرف واہ واہ اور مکرر مکرر کی آوازیں گونجنے لگیں۔ ایسا نہیں تھا کہ آج پہلی بار میں نے مشاعرے کو لوٹا ہو مگر آج مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جو کچھ میں نے کہا اس کا لفظ لفظ سچا ہے۔ میں نے سچ میں ان لمحوں کو جیا تھا ۔
کیا تم اس بات پر یقین کرو گے ،سگریٹ اپنے پیر تلے مسلتے ہوئے منان صاحب کہنے لگے ۔کس بات کا یقین منان صاحب۔
کہ عشق کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور نہ کوئی حد ۔ انہوں نے چائے کی پیالی پر نظریں اُٹھا کر میری طرف اعتماد سے دیکھا۔ مجھے اِس کا کوئی خاص تجربہ نہیں ۔
میں نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔
منان صاحب پھر شروع ہوگئے۔
ہم ملنے لگے ملاقاتوں کا سلسلہ چل پڑا۔
شادی شُدہ اور بال بچوں والی وہ بھی تھی اور میں بھی، مگر میری ضد کو پورا کرنے کی خاطروہ مجھ سے ملنے آتی رہی ۔
میں نے بارہا اُس سے کہا۔
آپ دیوی ہیں۔
دیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!وہ مسکراتی ں۔
دیوی ۔۔۔۔۔ اور میں آپ کا داس۔۔۔۔ کیا میں آپ کے پیروں کو چوم سکتا ہوں۔
ہرگز نہیں ۔۔۔ وہ گھبرا کر جواب دیتی ۔ میں کہتا چلئے کوئی بات نہیں۔
اور میں اس کے پیروں کی دھول اپنے آنکھوں پر ملتا۔
اور خود کو دُنیا کا خوش نصیب انسان تصور کرتا۔ پھر پتا ہی نہیں چلا کہ کیسے دیکھتے ہی دیکھتے 20سال گذر گئے ۔ بچے کب بڑے ہوئے اور کب اُنکی شادیاں ہوئیں۔ پر۔۔۔پر وہ اپنی بیٹی ،جسے وہ زیادہ لاڈ پیار کرتی تھیں اور جو بیرون ملک مقیم ہوئی تھیں،کے ساتھ اس کے پاس وہیں چلی گئی۔
میں نے اُسے اکثر کہاکہ میں اُسکے بغیر جی نہیں سکتا، وہ سنجیدہ ہوتی اور کہتی ایسا نہ کہا کریں۔
آج سات سال دو مہینے اور دس دن ہوگئے وہ واپس نہیں آئیں۔ اس کے بغیر جو زندہ رہنے کا اور جینے کا کُفر مجھ سے ہوگیا ہے اُس کی روداد اور معافی اس خط میں لکھی ہے۔ روز آتا ہوں کہ یہ خط ارسال کروں پر یہ خیال ستاتا ہے کہ کہیں اس کا خط جوا ب نہ آیا تو میرے بھرم کا کیا ہوگا یا پھر اگر یہ خط اس کی بیٹی داما د یا ان کے بچوں کے ہاتھ لگا تو کیا ہوگا ۔ اسی لئے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی میں نے سارا ماجرا سمجھنے کی کوشش کی اور منان صاحب سے پوچھا۔
اگر آپ کو اپنی محبت پر یقین ہے تو ان سب باتوں کی کیوں پرواہ کرتے ہیں۔ لایئے خط مجھے دیجئے، میں اسے رجسٹر کرتا ہوں ۔ منان صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے کوٹ کی جیب سے خط نکالا اور میر ی طرف بڑھایا۔
چلنے سے پہلے منان صاحب میری طرف مڑے اور مجھے غور سے دیکھا اور مسکرائے۔
اب یہ خط میرے سامنے پڑا ہے اس میں مقناطیسی کشش ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔
نہیں۔۔۔۔۔نہیں۔
میں یہ خط نہیں پڑوں گا ۔ یہ منان صاحب کی امانت ہے
اس میں انہوں نے اُن تمام تکالیف کی روداد رقم کی ہوگی جو انہوں نے اپنی محبت سے دوری کی وجہ سے محسوس کی ہے۔
نہیں نہیں۔۔۔ یہ گناہ ہے اور جُرم بھی ۔
پر ۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔۔ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میں کیسے سنبھل پائوں گا ۔ مجھے اس تمام اضطراری کیفیت سے کیسے نجات ملے گی۔ منان صاحب جیسی پر کشش اور دلچسپ شخصیت اُن کی داستان عشق سننے کے بعد اب یہ لازمی ہوگیا ہے کہ میں یہ خط پڑھوں۔
اُف خُدایا۔
یہ کیسی اذیت یہ کیسی مصیبت ہے جو مجھ پر نازل ہوگئی ہے۔ لفافہ کھولنے پر میں حیرت اور پریشانی کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہوں کیونکہ لفافے کے اندر ایک کورے کاغذکے سوا کچھ بھی نہیںتھا۔
 
���
سوپور،موبائل نمبر؛9419031183,7780889616
nasirzameer77@gmail.com
 
 
 
 
 
 

تازہ ترین