کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    19 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال:کرونا وائرس کی وجہ سے سبھی لوگوں کو Senitizerاستعمال کرنے کی بہت تاکید کی جاتی ہے ۔ حالانکہ اس میں الکحل کی بہت مقدار ہوتی ہے جبکہ الکحل کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ ناپاک ہوتا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ Senitizer استعمال کرنے کے بعد ہاتھ پاک رہتے ہیں یا ناپاک اور کیا پانی استعمال کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، یا پانی کا استعمال ضروری ہے۔ اگر کپڑوں میں لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔
عبدالعزیز زرگر،رعناواری، سرینگر
 

کرونا وائرس

سینی ٹائزر کے استعمال میں کوئی شرعی ممانعت نہیں

 
جواب:صفائی اور جراثیم کو ختم کرنے کیلئے Senitizer ایک ایسا مائع Liquidہے جس میں الکحل بھی ہوتا ہے۔ الکحل مختلف چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انگور اور کھجور بھی ہے۔ان دو سے جو الکحل تیار ہوتا ہے وہ حرام بھی ہے اور نجس بھی۔ یہ الکحل مہنگی شرابوں اور بہت قیمتی دوائوں میں استعمال ہے جبکہ پیٹرول، سبزیوں اور دوسرے پھلوںسے تیار ہونے والا الکحل جو نسبتاً سستا ہوتا ہے ۔ یہ الکحل ہی زیادہ تر استعمال میں ہوتا ہے ۔ چنانچہ ماہرین کی رائے کے مطابق عطریات، پرفیوم اور Senitizer میں یہی الکحل استعمال ہوتا ہے۔ اس الکحل کے متعلق حضرت امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ یہ حرام تو ہے، لیکن نجس نہیں ہے اور آج تمام علما، فقہا چاہے وہ کسی بھی مسلک کے ہوں اس رائے کو اختیار کرچکے ہیں ۔ امام اعظم  کی بالغ نظر کی معراج کے کرشمہ وقفہ وقفہ سے سامنے آنے کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ بھی ہے اور یہی اُن کے امام اعظم ہونے کی وجہ ہے۔ بہرحال Senitizer میں اگرچہ ساٹھ یا ستر فیصد الکحل ہے مگر خارجی استعمال کی اجازت ہے اور وہ داخلی استعمال میں پینا ویسے ہی حرام ہل ےجیسے شراب مگر جسم کے باہر کےکے استعمال یا کپڑوں میں اس کے چھڑکائو کی اجازت ہے۔
لہذا Senitizerاستعمال کرنا درست ہے ۔ مسلم شریف کی شرح تکملہ فتح الملہم میں اس کی تفصیل اور وجوہات موجود ہے۔ مسجدوں کے وضو خانوں ، غسل خانوں یا اندر کے حصوں میں اگر ایسی دواپاشی ہو جس میں الکحل شامل ہوتو اس کی بھی گنجائش ہے۔
 سوال:۔آج کل لوگوں کا عقیدہ  طرح طرح سے خراب ہوتاجا رہا ہے۔ اس لئے تو چند باتوں کے متعلق سوالات پیش خدمت ہیں۔
(۱) بہت سارے لوگ درویشی کے دعویدار لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم طرح طرح سے پریشان ہیں ہمارے معاملے پر نظر کریں ۔ کتاب دیکھ کر ہم کو بتائیں کہ ہم کو یہ سب پریشانیاں، تنگدستیاں، بیماریاں کیوں ہیں؟
(۲) اسی طرح اخباروں میں کچھ لوگ اشتہار دیتے ہیں کہ گیارہ منٹ میں مسئلہ حل ہوگا یا گیارہ گھنٹے میں پریشانیاں ختم ہونگی۔ پھر مقدمہ ہو، جادو ہو، ساس بہو کے جھگڑے ہوں اولاد نہ ہونے کی پریشانی ہو، نامردی ہو،بانجھ پن ہو وغیرہ یہ سارے مسائل چند منٹوں میں یا چند گھنٹوں میں حل ہونے کا دعویٰ اس طرح ہوتا ہے کہ حل نہ ہوا تو اتنے ہزار انعام۔۔۔۔ یہ آئے روز اخبارات میں آتا ہے۔
(۳) اسی طرح کچھ لوگ دوسرے فقیر نما لوگوں کو ہاتھ دکھاتے ہیں ،پھر کہتے ہیں کہ ہماری قسمت دیکھیں، وہ کچھ دیکھ کر بتاتے ہیں کہ یہ ہونےو الا ہے ۔اس سب کے متعلق شریعت اسلام کا کیا حکم ہے اس کا جواب عنایت فرمائیں؟
غلام مصطفیٰ خان ،بمنہ سرینگر
 

اللہ کے حکم کے بغیر کسی اَمر میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا

 
جواب:۔اسلام میں بنیادی چیز عقیدہ ہے۔ا س لئے کہ تمام اعمال چاہئے وہ فرائض ہوں یا سنت ہوں اور تمام ممنوعات ،چاہئے وہ حرام ہوں یا مکروہات ، یہ سب کچھ اُس عقیدہ کا نتیجہ ہوتا ہے،جو ایک ایمان والا مسلمان اپنے دل و دماغ میں پختگی کے ساتھ قائم رکھتا ہے۔ ان عقائد میں عقیدہ ٔتوحید، عقیدۂ رسالت، عقدۂ ختم نبوت، عقیدۂ آخرت اور عقیدہ ٔتقدیر اہم عقائد ہیں۔ عقیدہ توحیدکا ثمر ہ یہ ہے کہ مومن اپنے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھا کر رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ، مالک، متصرف اور تمام نظام چلانے والا صرف اللہ ہے۔ تمام اختیارات اسی کے دست قدرت میں ہیں اور وہی تمام مخلوقات موجودات اور معدومات کا علم کلی رکھتا ہے۔ اس کی حیثیت کے بغیر کوئی پتہّ بھی نہیں ہل سکتا ہے اور وہی آئندہ ہونے والے تمام امور کا کلی یا جزوی علم رکھتا ہے ۔ غرض کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کی ذات عالیٰ کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سب کو بطور عقیدہ اپنے دل میں بساکر رکھے۔ دوسرے عقیدۂ تقدیرکا ثمرہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے پہلے سے طے کر رکھا ہے اور اسی کے امر اور حیثیت سے سب کچھ انجام پاتا ہے کسی امر میں کوئی تغیر یا تبدیل یا تو ہو ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی تغیر ہوتا ہے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے۔
اس عقیدہ ٔ توحید اور عقیدۂ تقدیر کے بعد کسی ایمان والے شخص کےلئے اس کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ کسی کاہن، جیوتشی، ساحر، ہاتھ دیکھنے والے کسی درویش کے پاس جائے اور اس سے اپنے مستقبل کے متعلق معلومات کرے۔ پھر اس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ مانے۔ اس سلسلے میں واضح اور صاف حدیث ہے حضرت رسول اکرم ﷺ   نے فرمایا جو کسی (غیب کی خبر یں بتانے والے) کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی، اس نے اس قرآن کو جھٹلادیا جو مجھ پر نازل ہوا ہے یہ حدیث ترمذی میں ہے۔
اس لئے اس طرح کی تمام ان غلط حرکات، جو شرک اور باطل عقیدہ کا نتیجہ ہیں،سے پرہیز کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ ایسے تمام لوگ جو مستقبل کے متعلق تو ہماتی بنیاد پر خبریں سنائیں ان کو معاوضہ دینا بھی حرام ہے اور اُن کی یہ کمائی بھی حرام ہے ۔ اخبارات میں  فلاں بابا یا کالے شاہ وغیرہ یا اس طرح کے عنوانات سے جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں اُن سے عقیدے خراب ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ غیب کی خبریں سنانے اور لوگوں کی تقدیر بنانے کے جھوٹے دعوے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد صرف اپنے لئے پیسہ جمع کرنا ہے۔ وہ تمام لوگوں کے کمزور عقیدے اور توہم پرستی کے مزاج کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ بہر حال ایسے لوگو کے پاس جانا بھی منع ہے اُن کی بات سننا بھی منع ہے اور اس کے سچ ہونے کا عقیدہ رکھنا ایمان کے لئے خطرہ ہے بلکہ بعض کتابوںمیں یہ لکھا ہے کہ اس قسم کے عقیدہ پر کفر کا حکم لگ جاتا ہے۔
سوال:-نمازوں کے اوقات میں کافی وسعت ہے۔ اس وسیع وقت میں ہم اوّل وقت میں بھی نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخری وقت میں بھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ افضل کیا ہے ۔ کون سی نماز اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اور کون سی نماز دیر سے یعنی نمازکی تعجیل وتاخیر کے متعلق اسلام کا حکم کیاہے ؟
ماسٹر محمد یوسف شیخ ، سرینگر
 

نماز میں تعجیل وتاخیر 

 
جواب:-نماز کے اوقات کاوقت آغاز اور وقت اختتام دونوں کی تفصیل وتعین احادیث میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے ۔ اوقات نماز میںچونکہ وسعت ہے کہ اوّل وقت سے لے کر آخر تک اتنا وقت ہوتاہے کہ ادائیگی نماز کے باوجود کافی وقت باقی رہتاہے ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتاہے کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے یا درمیانِ وقت میں یا آخری وقت میں ۔اس سلسلے میں بھی احادیث میں پوری تفصیل موجود ہے ۔ اس کا اجمالی بیان یہ ہے ۔
نماز فجر کی ادائیگی کا افضل وقت کیاہے ؟ اگر اکثر نمازی اذانِ فجر کے وقت یا اُس کے متصل بعد مسجد میں موجود ہوں تونمازِ فجر اوّل وقت میں اداکرنا افضل ہے ۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام غلس(اندھیرے)میں ہی فجر کی نماز ادا فرماتے تھے ۔ (بخاری عن جابر)۔ اور بخاری ومسلم میں یہ بھی ہے کہ اذان فجر کے بعد حضرت نبی علیہ السلام اتنے وقفے کے بعد فجر کی جماعت کھڑی فرماتے تھے کہ جس وفقہ میں ساٹھ سے سو آیات قرآنی کی تلاوت ہوسکے ۔ یہ وقفہ دس پندرہ منٹ کا ہوتا ہے ۔ عہد نبویؐ میں چونکہ حضرات صحابہ تہجد کی ادائیگی کے بعد اذان سے پہلے یا اُس کے متصل بعد مسجد میں حاضٗر ہوتے تھے ۔اس لئے اول وقت یعنی غلس میںنمازِ فجر اداہوتی تھی ۔ آج بھی اگر اکثر نمازی مسجد میں موجود ہوں تو افضل یہی ہے کہ اوّل وقت فجر اداکی جائے ۔ چنانچہ رمضان المبارک میں چونکہ اکثر نمازی سحری کھانے کے بعد اذان کے بعد ہی مسجدوں میں موجود ہوتے او ربقیہ بھی اول وقت جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے افضل یہ ہے کہ اوّل وقت نمازِ فجر ادا کی جائے لیکن اگراکثر نمازی اول وقت میں حاضر نہ ہوں اور اول وقت جماعت کھڑی کرنے کی بناء پر اکثر نمازیوں کی جماعت فوت ہونے کا خدشہ ہوجیساکہ آج کی عمومی صورتحال یہی ہے کہ اذانِ فجرکے فوراً بعد جماعت کھڑی کی جائے تو اکثر نمازی جماعت سے محروم ہوجاتے ہیں حالانکہ جماعت کی نماز تنہا کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ اجر کا سبب ہوتی ہے۔(ترمذی)
اس صورت میں تاخیر سے نماز فجراداکرنا افضل ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فجر کی نماز خوب روشنی آنے کے بعد(اسفار)ادا کرو۔ اجرو ثواب زیادہ پائوگے ۔ یہ حدیث ترمذی وغیرہ میں ہے او رصحیح حدیث ہے ۔ ایک حدیث میں ہے نمازفجرکومنّور کرو۔ یعنی خوب روشنی آنے کے بعد اداکرو۔ تو گویا عام دنوں میں نماز کی جماعت اوّلِ وقت کے بجائے اخروقت میں اداکرناافضل ہوگا اور اس کی وجہیں دو ہیں ایک تو حدیثِ نبویؐ جو اوپر نقل ہوئی ۔ دوسرے تکثیر جماعت جو شرعاً مطلوب اور باعث زیادتی اجرہے ۔اب سوال یہ ہے کہ تاخیر کی حد کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے پچیس تیس منٹ پہلے جماعت کھڑی کی جائے۔ مسنون قرأت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد دس پندرہ منٹ طلوع آفتاب کو باقی رہیں گے ۔اس طرح اُن احادیث کامصداق بھی واضح ہواجن میں اول وقت فجر کی ادائیگی کا حکم ہے اور ان احادیث کا موقع عمل بھی متعین ہوا جن میں خوب روشنی یعنی تاخیر کے نماز اداکرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کے وقت کے اگردوحصے کئے جائیں تو پہلے حصہ کوغلس اور دوسرے حصہ کو اسفار کہتے ہیں۔ اسفار میں جماعت اداکرنے کی احادیث ترمذی ،ابودائود ، نسائی ، ابن ماجہ ، مصنف ابن ابی شبیہ اور مسند احمد ہیں اور وجہ فضیلت تکثیر جماعت اور نمازیوں کو جماعت سے محروم ہونے سے بچانا بھی ہے اور ان احادیث پر عمل کرنا بھی جن اسفار یعنی اچھی طرح روشنی آنے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم ہے۔نماز ظہر سردیوں میں اوّل وقت ، اور گرمیوں میں تاخیر سے پڑھنا افضل ہے ۔ چنانچہ بخاری ، مسلم ،ترمذی ،ابودائود وغیرہ تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہے کہ حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا جب گرمی سخت ہوتو نمازظہر اُس وقت پڑھو جب ٹھنڈک آچکی ہو۔ یہ متعدد احادیث متعدد صحابہؓ سے مروی ہیں ۔ اس لئے افضل یہ ہے کہ گرمیوں میں ظہر کی نماز دو بجے کے بعد ہی پڑھی جائے تاکہ ان تما م احادیث پر عمل ہوسکے ۔ نماز عشاء کے متعلق افضل یہ ہے کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر جائے تو نماز عشاء پڑھی جائے ۔چنانچہ حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں حکم دیتاکہ نمازعشاء ثلت لیل (ایک تہائی) رات گزرنے کے بعد پڑھیں تو افضل یہی ہے مگر آج کے عہد میں اتنی تاخیر سے نمازِ عشاء کا وقت رکھا جائے تو اکثر نمازیوں کے لئے یہ مشکل ہوگا ۔ اس لئے نماز عشاء غروب شفق کے بعد پڑھی جائے ۔شفق کوجغرافیہ کی اصطلاح میں Twilight کہتے ہیں ۔ اس غروب شفق کاوقت کسی بھی مستند اوقات نماز کے ٹائم ٹیبل سے معلوم ہوسکتاہے کہ یہ کب ہوگا۔ چاہے میقات الصلوٰۃ ہو یا اوقات الصلوٰۃ ہو یا ڈیجیٹل ٹائم ٹیبل ہو یا الفجر والعصر گھڑیاں ہوں ۔ ان سب میں عشاء کا جووقت دکھایا گیا ہے وہ اذان کا وقت ہے ۔بس اس وقت پر اذان پڑھی جائے پھر دس پندرہ منٹ کے بعد جماعت کھڑی کی جائے اور اگر سارے نمازی مطمئن ہوں اور موجود ہوں تو اذان کے متصل بعد بھی جماعت کھڑی کرسکتے ہیں ۔
 
 
 

تازہ ترین