تازہ ترین

افسانچے

8 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(   ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر 9419004094    )

ڈاکٹر نذیر مشتاق

اور پھر

اور پھر میں نے اس کی پرورش کی ۔میں نے دوسری شادی اس لئے نہیں کہ کہ کہیں سوتیلی ماں اسے دکھ نہ دے ۔میری بیوی اور میں شادی کے بعد پانچ سال تک اولاد کے لئے ترستے رہے ۔ہم دونوں نے ہر زیارت گاہ کے چکر لگائے، منتیں مانگیں، نذر و نیاز کئے جہاں کہیں کسی پیر فقیر کا نام سنا وہاں حاضری دی۔ ان سب چیزوں کے لئے مجھے ساری زمین بیچنی پڑی لیکن اس کا مجھے کوئی غم نہیں۔ مگر اللہ  نے ہمیں ایک پیارا سا لڑکا دیا اورہمیں ساری دنیا کی خوشیاں مل گئیں ۔
مگر چند برسوں بعد میری شریک حیات  مجھے داغ مفارقت دے کر چلی گئی۔
اور پھر میں نے اکیلےاپنے بیٹے رحمت کی پرورش کی۔ اسے پڑھایا لکھا یا اور اس قابل بنایا کو وہ ایک بہت بڑا آفیسر بن گیا۔
اور پھر اس نے شادی کی۔۔ اس کی بیوی ایک الٹرا ماڈرن عورت ہے۔ وہ دونوں خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔
اور پھر میں اکیلا رہ گیا اور یہاں پہنچ گیا ۔۔۔۔خیراتی اسپتال کے وارڈ نمبر سولہ کے بیڑ نمبر گیارہ پر بیٹھے ہوئے مریض نے بیڑ نمبر دس پر بیٹھے ہوئے مریض سے یہ سب کہا اور پھر پوچھا  آب تم بتاؤ تم یہاں کیسے پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ اپنی کہانی سنانے لگا۔۔۔۔
 
 

کریکٹر 

کیا کریکٹر  ہے۔۔۔ صادق نے اپنے دوست سے امین کے بارےمیں کہا۔۔۔ پکا مذہبی ہے۔پابندی کے ساتھ عبادت کرتا ہے۔ مذہب کے وضع کردہ اصولوں پر سختی سے پابند ہے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے ۔کسی کا حق نہیں مارتا ہے۔ کبھی رشوت نہیں  لی ۔۔کسی کا دل نہیں  دکھاتا ہے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں  سے پیار کرتا ہے ۔
آج کے دور میں ایسا انسان ۔۔۔صادق کے دوست ارشد نے کہا ۔
اور نہیں تو کیا۔۔وہ ایک مکمل  انسان  ہے اس میں کوئی کمی نہیں کوئی برائی نہی اور پھر ہر وقت مسکراتا رہتاہے۔ اعلی تعلیم یافتہ ہے پروفیسر ہے ،مگر ڈاؤن تو ارتھ۔۔۔۔۔
ارشد نےیہ سن کر کہا ۔۔اس کا مطلب وہ ایک۔۔۔
پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص کچھ دیر سے یہ سب کچھ سن رہاتھا ۔اس نے ارشد کی بات کاٹ کر کہا پکا انگلش کریکٹر ہے۔۔۔
 
 

خون

خواجہ شمس الدین کرمانی اپنی حویلی کے دروازے پر کھڑا غصے سے تھرتھرا رہا تھا۔ اس کی بیٹی اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ اس کے سامنے گڑگڑارہی تھی اور خواجہ ایک ہی جواب دے رہا تھا۔ 
تم اس حویلی میں قدم نہیں رکھ سکتی ہو۔ تم اپنے گھر سے  بھاگ گئ اور ایک انتہائی نیچ ذات سے تعلق رکھنے والے مرد  سے شادی کرلی۔ تمہارے اس بیٹے کی رگوں میں اسی نیچ کا خون  ہے تم اس پاک حویلی میں کیسے قدم رکھ سکتی ہو ۔۔بیٹی نے منتیں کیں کہ کم از کم نواسے کو معاف کریں کیوں کہ اس کا باپ خون کے سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا ہے مگر خواجہ  پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔
اس کی بیٹی مریم نا امید ہو کر واپس اپنے گھر گلاب گڑھ چلی گئی اورپھر سے اسی فلیٹ میں رہنے لگی جس میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ  رہتی تھی ۔
دو روز بعد خواجہ ایک تبلیغی مجلس میں شرکت کرنے جارہاتھا۔۔۔اچانک ایک المناک حادثہ پیش آیا ۔ڈرائیور کی موقعہ پر ہی موت ہوگئی اور خواجہ  شدید زخمی ہوا۔
اسپتال میں اسے  خون کی ضرورت  پڑی  اور اس کی جان  بچ گئی۔
اسپتال میں وہ رخصتی سے پہلے ڈاکٹر شاہنواز کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔۔۔۔ڈاکٹر تم نے میری جان بچائی۔۔شکریہ ۔۔۔ ڈاکٹر نے جواب دیا ۔۔۔میرا نہیں آپ ان کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے آپ کو بچانے کےلئے اپنا خون دیا ۔
کون ہے وہ۔۔۔خواجہ کے الفاظ میں تجسس تھا۔
محمد شیخ جو اس ہسپتال میں خاکروب ہے، نے آپ کی زندگی بچا لی اس کا بلڈ گروپ آپ کے بلڈ گروپ سے میچ ہوگیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میری رگوں میں  ایک نیچی ذات سے تعلق رکھنے  والے کا خون ہے۔۔۔۔خواجہ  نے نفرت سے کہا ۔
جی ہاں خون تو سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے کا خون لال ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر ہم سب ایک ہیں ۔انسان۔۔ ۔خون تو ہم سب کا ایک ہی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر کہے جا رہا تھا اور خواجہ کسی گہری سوچ میں گم تھا وہ اور اچانک وہاں سے نکل گیا ۔
وہ ہسپتال سے گھر جارہا تھا کہ اس کے کانوں میں ڈاکٹر کے الفاظ بار بار گونج رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اچانک اس نے ڈرائیور سے کہا۔۔۔۔۔۔ڈرائیور گلاب گڑھ چلو ۔
 
 

رنگ 

اف۔۔۔کیا دفتر ہے ۔۔کوئی کسی کی سنتا ہی نہیں ۔دفتر نہیں کباڑ خانہ ہے ۔ خشتہ فروش اور دیواریں، ٹوٹی پھوٹی کرسیاں ۔۔ایسا لگتا ہے جیسے  کسی کھنڈر میں دن گزار آیا  ہوں ۔در و دیوار کا رنگ اُکھڑ گیا ہے ۔۔فائلیں سب بے ترتیب اور گرد آلود ۔۔۔پتہ نہیں مجھ سے پہلے والا آفیسر  کیا کرتا رہا ہے۔ کم از کم ملازموں سے کہہ سکتا تھا کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنیں ۔۔شیو کریں، بال کاٹیں تاکہ انسانوں جیسے لگتے۔۔۔۔سمجھ  نہیں آتا  اس جنگل میں جنگلیوں کے ساتھ کیسے کام کروں ۔۔۔۔شہاب احمد اپنی جوان بے حد خوبصورت اور ذہین  بیٹی مریم  سے کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔۔مریم نے سن کر جواب دیا ۔۔۔آپ  اپنے آفیسر سے بات اور دریں اثنا ملازموں پر سختی کریں۔
میں سب کچھ آزما چکا  ہوں مگر وہاں کا رنگ ڈھنگ نہیں بدل سکا ۔۔۔ شہاب  نے کہا۔
مریم سوچنے لگی  اور پھر اچانک اپنے باپ  سے کہا ۔
ڈیڈ ایسا کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔پہلے شہاب کو عجیب سا لگا مگر پھر دفتر کی بھلائی کے لیے بیٹی کی بات مان گیا۔ صرف ایک ماہ کے بعد شہاب دفتر گیا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سب کچھ بدل چکا تھا ۔ملازمون نے رنگ برنگی کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔بوڑھے  ملازموں نے بال رنگے  تھے ۔دیواریں رنگین تھیں۔ فرنیچر صاف ستھرا  چمک رہا تھا ۔فائلیں صاف اور ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی  بیٹی کی ذہانت کو سراہا اور یہ کہہ کر اس کا  شکریہ ادا کیا کہ دو ماہ میرے دفتر میری جگہ لیو چانس (Leave Chance)پر کام کرکے تم نے ہر چیز میں رنگ بھر دی۔۔۔۔
 
 

تاخیر

نہانے کے دوران میمونہ نے اپنے  بائیں پستان میں ایک ابھار سا محسوس کیا ۔۔۔ اس نے اپنی ساس سے اس بارے میں کہا ۔۔۔یہ سوچ کر کہ وہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے لیے کہے۔ساس نے کہا ۔۔۔یہ سّرِ الہی ہوتا ہے کسی سے کہنا نہیں ۔۔کل میں تمہیں اپنے پیر کے  پاس لے جاؤں گی۔۔پیر صاحب نے میمونہ کے پستان کا غور سے معائنہ کیا اور پھر اپنے ہاتھ پستان  پر رکھ کر کچھ پڑھنے شروع کیا ۔۔یہ سلسلہ مہینوں چلتا رہا پیر صاحب نے اچھی خاصی رقم بھی  اینٹھ لی ۔۔۔چھ ماہ بعد میمونہ کا شوہر اسے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔
ڈاکٹر  نے معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹ لکھے۔
ڈاکٹر نے میمونہ کے شوہر سے کہا ۔۔۔بہت دیر ہوچکی ہے 
سرطانی رسولی کا سائز  5سینٹی میٹر  سے زیادہ ہو گیا ہے اس لئے  پستان کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور پھر ریڈیو و کیموتھراپی کے بعد مریض کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں ۔۔۔کاش آپ  نے مریض کو سرطان کے پہلے مرحلے میں لایا ہوتا۔۔۔۔۔۔
ورلڑ کینسر ڈے کی مناسبت سے  ایک افسانچہ 
 
 

تازہ ترین