تازہ ترین

چاروزہ مسلم تعلیمی کانفرنس

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

تاریخ    10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عبید اقبال عاصمؔ
آلا للہ  نے ان کے اس کام کو قبول فرمایا اور اس میں خوب برکت عطا فرمائی۔ خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کے نام اور ان کی درگاہ سے منسوب دنیوی تعلیمی ادارے وجود میں آنے کے بعد آج ان اداروں نے خود مختار حیثیت سے خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی (K.B.N) کی شکل اختیارکرلی ہے جس سے جنوبی ہی نہیں شمالی ہندوستان کے بھی ہزار ہا طلبا مستفیض ہو رہے ہیں۔ وفد نے درگاہ میں عقیدت و احترام کا نذرانہ بھی پیش کیا اور ان اداروں بطورِ خاص K.B.N یونیورسٹی کا معائنہ بھی کیا ادارے کے وائس چانسلر محترم پٹھان صاحب جو اس سے قبل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں، ان سے خصوصی ملاقات بھی ہوئی، یہاں آکر وقت کی تنگ دامنی کا احساس ضرور رہا۔ دریں اثناء اس شہر میں واقع غریب بچیوں کے یتیم خانہ ’’زہرہ اسکول‘‘ کی عمارت اور اساتذہ و انتظامیہ سے ملاقات نے بھی مسرور کیا، یہیں پر بے تکلف ظہرانہ کا انتظام تھا جو اپنی سادگی میں حسن کی آمیزش لئے ہوئے تھا۔ ان سب امور سے فارغ ہو کر شام میں بیدر شہر کے لئے رختِ سفر باندھا جہاں شاہین گروپ کے ڈائریکٹر محترم عبدالقدیر صاحب نے عشائیہ کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے قیام کا بھی انتہا ئی آرام دہ انتظام کر رکھا تھا۔ 
 شاہین گروپ کے وسیع و عریض چھ منزلہ رہائشی کیمپس کے انتہائی کشادہ صحن میں رات کے پر تکلف کھانے کا ذائقہ دو چند ہو رہا تھا، کافی رات گذرنے کے بعد اپنی اپنی قیام گاہوں پر واپسی ہوئی، صبح میں بیدر شہر کے وسط میں واقع اس پرشکوہ خستہ قدیم مسجد اور اس کے اطراف میں آثارِ قدیمہ کی تحویل میں لئے گئے شکستہ قلعہ کو باہر سے ہی دیکھنے کا اتفاق ہوا جو تقریباً پانچ سو سال قبل اس وقت کے دکنی حکمراں کی ایماء پر وجود میں آیا تھا کیونکہ اس کے کھلنے کا سرکاری وقت نو بجے کے بعد کا مقرر تھا اور اراکین کارواں کے پاس وقت کی تنگی تھی لیکن اس کی تلافی بایں طور کی گئی کہ اسی عمارت کے بالمقابل گلی میں واقع عبدالقدیر صاحب کے ذریعہ تعمیر کئے گئے مضبوط علمی قلعہ کو دیکھا جائے۔ قدیم شکستہ عمارت سے متصل شاہین گروپ کے اس جدید کیمپس کو دیکھ کر انتہائی مسرت حاصل ہوئی جو نیٹ کی طالبات کے لئے مخصوص ہے اس کیمپس میں ہزارہا طالبات ہیں جن کا مقصد نیٹ امتحان کوالیفائی کر کے اپنا مستقبل روشن کرنا ہے، اس میں مذہب و ذات کی کوئی تخصیص نہیں لطف کی بات یہ ہے کہ طالبات کی شناخت ان کے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلیک اینڈ وہائٹ (مسلم طالبات) اور ملٹی کلر (غیر مسلم طالبات) کے لئے مختص ہے کیونکہ مسلم طالبات برقعہ اور حجاب میں ہوتی ہیں اس لئے انھیں بلیک اینڈ وہائٹ کلر دیا گیا ہے۔ دوسری غیر مسلم طالبات اس سے مستثنیٰ ہیں اس لئے انھیں ملٹی کلر سے تعبیر کیا گیا ہے، ان طالبات کے ساتھ تھوڑا وقت گذار کر یہ احساس ہوا کہ ان میں عزم و حوصلہ کے ساتھ مستقبل کی امیدیں روشن ہیں، ان کی آنکھوں میں پائی جانے والی چمک اس یقین کو اجاگر کر رہی تھی کہ وہ آنے والے سال میں NEET کوالیفائی کرکے اپنی منزل کا تعین کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
یہاں سے فارغ ہونے کے بعد قدرے فاصلے پر واقع شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹس کے دوسرے کیمپس میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہزارہا طالبات وفد کی منتظر تھیں۔ بہرحال ان اداروں کو دیکھ کر عبدالقدیر صاحب کی نیک نیتی اور اخلاص میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔ بیس سال قبل دس بارہ بچوں کو لے کر معمولی کرایہ کے ایک کمرے میں جس ادارے کی تخم ریزی کی گئی تھی دو دہائیوں کے بعد وہ ادارہ اس قدر تناور درخت بن جائے گا اس کا تصور قیام کے وقت ناممکن تھا لیکن الحمد للہ عبدالقدیر صاحب کی پرخلوص محنت و جدوجہد اور اللہ کے خاص فضل و کرم نے اس کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ پروین شاکر نے ایسے ہی موقع کے لئے کہا ہے    ؎
دل میں یقین صبح کی لو جو ذرا بلند ہو
کافی ہے ایک ہی دیا شب کی سپاہ کے لئے
بہر حال عبدالقدیر صاحب کی کوششوں ، کاوشوں اور عزم و جہد مسلسل کو اراکین کارواں نے عظمت بھرا سلام پیش کیا اور شاہین کیمپس کے اصل پروگرام کے لئے رواں دواں ہوگئے۔ 
بیدر شہر کے کنارے پر نو تعمیر شدہ شاہین گروپ کے کیمپس کے انتظامات بھی قابل دید اور لائق تحسین ہیں، سینکڑوں بیگھے پر مشتمل اس کیمپس کی چھ منزلہ کچھ تعمیر شدہ اور کچھ زیر تعمیر بلند و بالا وسیع و عریض عمارات کے اندر بہ یک وقت کم و بیش چھ ہزار طلباء کی رہائش و طعام کا انتظام ہے، اس کے کنٹرول روم کو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں 450 کیمروں کی کمانڈ ہے۔ کیمپس کے ہر ہر کونے، کمروں، طعام گاہ، آمدو رفت کے راستوں، دور دراز واقع شاہین کیمپس سبھی پر کیمروں کی نظر ہے تاکہ کوئی بدنظمی نہ ہوسکے۔
شاہین کیمپس کے پروگرام میں بطورِ خاص اعظم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ان غریب معصوم بچوں بچیوں کی شرکت سبھی کی توجہ کا باعث رہی جو عمر کی ساتویں منزل سے لے کر بارہویں سال میں داخل ہونے تک اعظم ایجوکیشنل سوسائٹی پونا میں اپنی صلاحیتوں کی بنا پر تعلیمی ارتقائی سفر طے کر رہے ہیں، ان نادار معصوم بچوں و بچیوں نے حاضرین کے سامنے ہارڈویئر کمپیوٹر کی اصطلاحات پر عبور ہونے کا یقین دلایا۔ تمام سائنسی و ٹکنالوجیکل سوالات کے تشفی بخش جوابات سن کر سامعین نے پونا سے آئے ہوئے ان طلباء کی حوصلہ افزائی کی اور وہاں کے منتظم اعلیٰ مشہور ماہر تعلیم جناب پی اے انعامدار صاحب کی ستائش کی، اس کے بعد پروگرام کا آغاز ہوا جس کی صدارت محترم پی اے انعامدار صاحب نے فرمائی۔ پروفیسر اسلم پرویز صاحب شیخ الجامعہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔ بہت سے مقررین نے خطابات سے نوازا۔ بعد دوپہر پروگرام اختتام کو پہنچا اور شرکاء اپنی اپنی راہوں پر چلے گئے۔ ہم لوگوں کو حیدرآباد سے اگلی صبح (19؍ جون) کو ٹرین لینی تھی اس لئے ہم نے حیدرآباد کے لئے رختِ سفر باندھ لیا اور پھر حسب پروگرام 19؍ جون کو حیدرآباد سے چل کر0 2؍ جون کی صبح علی گڑھ پہنچ گئے۔ 
یہ اس پانچ روزہ تعلیمی صورت حال کی مختصرترین روداد ہے جو ۱۴؍ تا ۱۸؍ جون جنوبی ہند کے مختلف مقامات پر مشاہد ے میں آئی اس کا موازنہ اگر ہم شمالی ہندوستان میں واقع مسلم منتظمہ عصری تعلیم گاہوں سے کریں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں تعلیم کی دو راہیں دینی و دنیوی راہوں میں تفریق کی صورت میں نظر آتی ہیں جن میں ارتباط کی کوئی شکل نہیں پائی جاتی جبکہ جنوبی ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں یہ کوشش نمایاں نظر آتی ہے کہ وہ دونوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم سے کم تر کرنے میں مصروف ہیں۔
دوسری خاص بات یہ ہے کہ جنوبی ہندوستان میں تعلیمی میدان میں منہمک افراد منظم طریقے پر کام کر رہے ہیں جب کہ شمالی ہند میں یہ کام اتنے زیادہ نظم و ضبط کے ساتھ نہیں ہو پا رہا ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اجتماعیت کا جو مظاہرہ جنوبی ہند کے اداروں میں دیکھنے کو ملا اس کی جڑیں شمالی ہند میں کمزور نظر آتی ہیں۔ ایک اور بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ شمالی ہندوستان میں ہم کاموں کے بوجھ کو زیادہ محسوس کرتے ہیں جبکہ جنوبی ہندوستان کے افراد بڑے کاموں کو روز مرہ کے معمول کے مطابق لینے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کنکلیو کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹر محمد فخر الدین صاحب کے یہاں اسی درمیان شادی تقریبات بھی انھیں علمی اجلاس کے متوازی چلتی رہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے نہ تو کنکلیو کے پروگرام میں کوئی کٹوتی کی اور نہ ہی شادی کی تقریبات سے اجتناب برتا۔ ۱۳؍ تاریخ کی رات کو رسم مہندی میں ڈاکٹر صاحب نے تمام مہمانوں کا استقبال اور ان کی ضیافت بھرپور انداز سے کی۔ ۱۴؍ کو صبح تا شام تمام پروگراموں میں ایک نئے حوصلے کے ساتھ شامل رہے۔ رات کو بیٹی کی بارات آئی تو باراتیوں اور اپنے تمام مہمانوں کا ہشاش بشاش مسکراتے چہرے کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا اور چہرے مہرے سے نہ تو کانفرنس کی تکان کا احساس ہونے دیا اور نہ ہی مہمانوں کے خیر مقدم میں کسی بخل سے کام لیا۔ ۱۵؍ جون کی صبح سے نئی امیدوں کے ساتھ پھر تعلیمی کانفرنس کو کامیاب بنانے میں مصروف رہے۔ ۱۶؍ جون کو بھی صبح تا اختتام پروگرام اپنی حاضری اور مسلسل موجودگی کو یقینی بنایا اور پھر ۱۶؍ کی رات کو اسی بیٹی کے ولیمہ کی تقریب میں بھی تمام مہمانوں کو عزت و وقار کے ساتھ مدعو کیا، ان کی پذیرائی کی اور نہایت سادہ انداز میں شریک محفل رہے۔
حیدر آباد کی شادی تقریبات بھی مثالی رہیں۔ شمالی ہندوستان میں رائج مغربی تہذیب ’’الطعام کالانعام‘‘ کے برعکس وہاں پر مدعوئین کی ضیافت نہایت شائستگی، تہذیب و سلیقہ سے کی گئی۔ رسومات کی اگرچہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی اور اس سے عام مہمان بے خبر بھی رہے البتہ ڈاکٹر صاحب موصوف کا تعلیمی کانفرنس و شادی میں شریک مہمانوں کے سامنے بچھ جانا اور عاجزانہ و منکسرانہ انداز سے مہمانوں کے ساتھ پیش آنا۔ عزت و وقار کے ساتھ کھانا کھلانا ایسی یادگار چیزیں ہیں جنھوں نے تمام شرکاء کے ذہنوں پر مثبت نقوش مرتب کئے۔ کھانے میں فالتو قسم کے اضافوں سے ڈشنر کی تعداد بڑھانے کا دستور نہیں بلکہ کھانے کے موقع پر کھائی جانے والی منتخب چیزیں بہت ہی پرتپاک طریقے سے پیش کی گئیں جن سے مہمانوں نے لطف اٹھایا۔ ایک اور قابل تعریف بات یہ رہی کہ ان تقریبات میں مردوں و عورتوں کے جداگانہ انتظامات اتنے بہتر طریقے سے کئے گئے تھے کہ مردان خانے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا کہ اس تقریب میں خواتین بھی شریک محفل ہیں۔ معلوم ہوا کہ تقریبات کا یہ انداز حیدر آباد میں عام ہے جو بہرطور قابل تعریف ہے۔
اراکین کارواں نے گلبرگہ میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒ کی درگاہ پرسکون محسوس کیا تو اس سے زیادہ طمانیت اس میں حاصل ہوئی کہ درگاہ کے منتظمین نے صاحبِ درگاہ کی نسبت کو تعلیم سے جوڑ کر بلندیوں پر پہنچایا ہے جو شمالی ہندوستان کے باشندوں کے لئے لائقِ مثال ہے۔ شمالی ہندوستان میں اسی قسم کی کوشش مارہرہ شریف کی درگاہ سے وابستگان کی طرف سے ’’البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی‘‘ کے ذریعہ علی گڑھ و مارہرہ شریف میں ضرور ہوئی، جس کو ملت سراہتی ہے، کاش کہ بڑی بڑی درگاہوں سے وابستہ دوسرے ذمہ دار حضرات بھی اپنی توجہات اس طرف صرف کردیں تو ان شاء اللہ ملت کی نیا پار لگنے میں دیر نہ لگے گی۔
بیدرکے شاہین گروپ نے تمام شرکاء کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ یہاں کے طلباء و طالبات کی چمکتی آنکھوں میں روشن مستقبل کے ایسے خواب نظر آرہے تھے جو ان شاء اللہ بہت جلد تعبیر سے ہم کنار ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسے رول ماڈل بنا کر اسی قسم کی کوششیں شمالی ہندوستان میں بھی کی جاتیں، جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کے ذریعہ کی جانے والی یہ تعلیمی کوششیں شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ماضی قریب میں پائی جانے والی تعلیمی بیداری سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان شاء اللہ العزیز مستقبل قریب میں شمالی ہندوستان میں بھی جگہ جگہ علم کی شمعیں روشن ہوں گی جس کی وجہ سے جہالت کے اندھیرے دور ہوں گے اور نئی نسل ملت اسلامیہ کی سرخ روئی کا سبب بنے گی   ؎ 
نہ ہو ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
(ختم شد)
9358318995
ubaidiqbalasim@gmail.com