تازہ ترین

سڑکوں پر مرگِ ناگہانی کیوں؟

محشرخیال

تاریخ    10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


ریاض مسرور
شومیٔ  قسمت کہ کشمیر کے جو بھی مسائل ہیں وہ سبھی موت پر منتج ہوتے ہیں۔ سڑک حادثات بھی ایسا ہی ایک مسلہ ہے۔ سڑک حادثوں میں اموات کے کئی محرکات ہیں۔ ٹریفک پولیس کی راشی روایت، شاہراہوں پر ٹراما ہسپتال نہ ہونا، سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس پچیس سال سے بھی پرانی گاڑیوں کا پہاڑی راستوں پر موت کا رقص کرنا، نوجوانوں میں جوکھم بھرے بائیک سٹنٹ کرنے کی مہلک لت اور ہر منزل پر اپنی ہی گاڑی سے جانے کی نفسیاتی مجبوری۔ 
گزشتہ ہفتے کشتوار سے کیشون آرہی منی بس پہاڑی سے لڑھک گئی تو نوزائد بچہ، اُسکی ماں ، ڈرائیور اور تیرہ خواتین سمیت پینتیس افراد مارے گئے۔ اس سے قبل شوپیان میں مغل روڑپر نو لڑکیوں سمیت گیارہ طالب علم سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ پچھلے سال رام بن میں سڑک حادثہ ہوا تو دو درجن مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو یا این سی آر او نے چند ماہ قبل ایک سروے جاری کیا تھا ، جس میں بتایا گیا کہ پورے ہندوستان میں خطرناک سڑک حادثوں میں ہلاکت کا امکان 36%ہے، جب کہ جموں کشمیر میں یہ امکان 64%ہے۔ 
سروے کے مطابق پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہر سال 5000افراد سڑک حادثوں میں مارے گئے، جسکا مطلب ہے کہ ہمارے یہاں سڑک حادثوں میں اموات کا سالانہ اوسط 1000ہے۔ انڈین میڈیا نے اکثر ایسی رپورٹس شایع کی ہیں جن میں بتایا گیا کہ کشمیر میں شورش کے مقابلے سڑک حادثوں میں زیادہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ سڑک حادثوں میں اموات کی مناسب سے بھارت کی سبھی ریاستوں میں جموں کشمیر سرفہرست ہے۔ حالانکہ مدھیہ پردیش، اُترپردیش، ہماچل پردیش اور ہریانہ کے علاوہ سبھی شمال مشرقی ریاستوں میں کشمیر کے مقابلے زیادہ دشوار گذار پہاڑی راستے ہیں جو گہرے نالوں ، ندیوں اور سنگلاخ پہاڑی دروں سے گزرتے ہیں۔ پھر سڑک حادثوں کا قہر ہم پر ہی کیوں ناز ل ہورہا ہے؟ 
ٹریفک حکام افرادی قوت کی کا رونا روتے ہیں، حالانکہ کشمیر میں ساڑے پانچ سو ٹریفک افسران ہیں جبکہ جموں میں یہ تعداد چھہ سو ہے۔
ٹرانسپورٹ امور کی دیکھ ریکھ کرنے والے محکموں میںٹریفک پولیس کے بعد ریجنل ٹرانسپورٹ آفس سرفہرست ہے۔ اس محکمہ کا کرپٹ ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ پچھلے بیس سال کے دودران جس رفتار کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اُسی رفتار سے یہ محکمہ زوال کی سیڑیاں  اُترتا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ محکمہ فلڈ چینل میں قوانین کی دھجیاں اُڑا کرتعمیر کئے گئے ایک صاحب رسوخ کے بنگلے میں کرایہ کے عوض سرگرم ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس کے ذمہ تھا کہ پیر پنچال اور چناب وادیوں کے پہاڑی راستوں پر چلنے والی گاڑیوں کی کنڈیشن درست ہو، وہ بیس سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں، انہیں چلانے والے سبھی ڈرائیورس کے پاس باقاعدہ لائسینس ہو۔ اور ریاست کی ذمہ داری تھی کہ گپکار سے سیکریٹیرئیٹ تک کی راہداریوں سے وقت نکال کر راست کی خطرناک رابطہ سڑکوں پر بھی تھوڑی بہت توجہ مرکوز کرتی۔ 
 پوری دنیا اور بھارت کی سبھی ریاستوں میں محکمہ ٹریفک کے ساتھ ’’ٹریفک انجنیئرنگ وِنگـ‘‘ ہوتی ہے، جوخطرات کے اعتبار سے شاہراہوں کی گریڈنگ کرتی ہے اور اسکے بعد متعلقہ محکموں کو آگاہ کرکے سڑکوں کی مطلوبہ مرمت کی جاتی ہے۔اگر یہ نظام کہیں مفقود ہے تو وہ جموں کشمیر ہے۔ یہاں لائن آف کنٹرول اور گپکار کے اردگرد کی سڑکیں مرکزی فوکس ہیں، باقی سب کی کسی کو چٹی نہیں۔کوکرناگ سے  سنتھن۔کشتوار اور شوپیان۔راجوری شاہراہوں کی فائلیں محض اس لئے دھول چاٹ رہی ہیں، کیونکہ کسی صاحب کو لگتا ہے کہ مسلم آبادیاں کنسنٹریٹ ہوجائیں گی۔جہاں سڑکوں کی منصوبہ بندی بھی ریاست کے تذویراتی اہداف کے ماتحت ہو وہاں کے دیگر امور کا اللہ ہی مالک۔
ریاست کی خصوصی پوزیشن پر چلانے والوں پر فرض بنتا ہے کہ وہ سڑک حادثوں کی باپت سرگرم ہوجائیں۔ حکومت ہند اور مین سٹریم جماعتوں کے خلاف تلخ گوئی سے کوئی سیاسی سورما بنے تو بنے، لیکن وہ اپنے لوگوں کے تئیں سب سے بڑی حق تلفی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ 
کیوں محض تین ہزار فٹ کی بلندی والے پہاڑی راستے موت کا کنواں بنے رہیں، کیوں شاہراہوں پر جزوی طور زخمی ہونیوالے بھی دم توڑ دیں، کیوں نہیں ہے ہر سو کلومیٹر کے فاصلے پر ٹراما سینٹر، کیوں پیرپنچال اور چناب وادیوں میں تیس سے چالیس سال پرانی گاڑیوں کو اناڑی لوگ چلاتے ہیں، کیوں نہیں ہے یہ سب سے بڑا مسلہ حالانکہ حادثوں میں مارے جانے والوں کی تعداد شورش میں مرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اس قدر سنگین مسلہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمہ جات کے خلاف سینکڑوں رِٹ عرضیاں عدالتوں میں داخل ہونی چاہیے تھیں۔کیا یہ مسلہ اس قدر آوٹ آف فیشن ہے کہ اب کوئی اس پر بات بھی نہیں کرتا۔ پہاڑی راستوں کو محفوظ بنانا ہزار دو ہزار کروڑ سے زیادہ کا مسلہ نہیں۔آپ چین اور پاکستان کی سرحدوں سے متصل ٹنل بنائیں، شاہراہوں کو ٹھیک کریں، لیکن یہاں لوگ بھی رہتے ہیں جناب۔ ڈوڈہ سرحد پر نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں وہاں کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔ آخر کب تک مچھروں کی طرح لوگ سڑکوں پر مرتے رہیں۔ایکس گریشیا ریلیف دینے سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا۔ ریاست کے پاس باقاعدہ روڑ سیفٹی پالیسی بھی نہیں، نہ ٹرانسپورٹ پالیسی ہے۔ یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘
)))))))))(((((((((