تازہ ترین

ہوگا نہ پردہ فاش

چلتے چلتے

تاریخ    10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


شہزادہ بسمل
زمانہ سلف کی بات ہے ،کہتے ہیں یمنؔکی ملکہ صباؔ  جب حضرت سلیمانؔ علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئی تو تخت تک پہنچنے کے لئے اُسے فرش کے ایک ٹکڑے سے ہوکر جانا تھا جس کو بادشاہ نے ایک شفاف اور خوبصورت شیشے سے بنوایا تھا مگر دیکھنے والے کو وہ شیشہ نہیں لگتا تھا ،البتہ شفاف پانی اور پانی میں تیرتی ہوئی مچھلیاںہی دکھائی دیتی تھیں۔ملکہ بھی غش کھا گئی ،اُس نے سوچا کہ پانی میں سے ہوکر جانا ہے ،اس لئے پاجامہ یا تہبند جو بھی اُس وقت پہنا وا رہا ہوگا،بھیگ جائے گا ۔اس وجہ سے آبگینے یا پانی سے بھرے حوض کو پار کرنے کے لئے ملکہ نے اپنا پاجامہ یا پہناوا اوپر چڑھالیااور پیٹ کے پاس اُسے اُڑس لیا ۔پیٹ کے پاس نا ڑے میں پاجامے کو اُڑسنے کے عمل کو پایچہ بھاری کرنا کہتے ہیں۔اُس واقعے کو ایک بذلہ سنج شاعر نے اس طرح سے نظم کیا ہے     ؎
کرتے نہ بھاری پایچہ ہوتا نہ پردہ فاش 
ناحق تم ایزار سے باہر نکل پڑے
محاورے میں پایچہ بھاری کرنا گرچہ اور معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے مگر یہاں پر شاعر نے مذکور معنی میں ہی لیا ہے ۔بہر حال اب اس مزاحیہ مقولے میں نہ صرف پایچہ بھاری کرنے کی تادیب ہے بلکہ کوئی پردہ فاش ہونے کا بھی اشارہ ہے ۔کہتے ہیں ملکہ صباؔ کی ٹانگوں پر مردوں کی طرح گھنے بال تھے۔اس لئے جب اُس نے پاجامہ اوپر کیا تو اُس طرح سے ایک اور راز سے بھی پردہ اُٹھ گیا جسے عام طور پر مصلحتاً مخفی ہی رکھا جاتا ہے ۔(واللہ اعلم)
اس تمہید سے میرا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص ،ایک قوم ،سماج یا ایک ملک اپنی تہذیب ،اپنا تمدن بلکہ اپنے ماضی سے ہٹ کر کچھ الگ کرتا ہے یا الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اُس سماج ،قوم یا ملک کا انحطاط لازمی بن جاتا ہے ،کیونکہ اقدار سے منہ موڑنا اور تہذیبی وراثت سے رو گردانی ایک خسارے کا سودا یقیناً ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب اُس کے دعویٰ کے مطابق اس کا ماضی شاندار رہا ہے ۔مثال کے طور پر اسلام کا ایک شاندار ماضی رہا ہے ،اس کی زندہ روایات ،عفو و درگذر ،خوش کلامی ، بھائی چارہ ،صلہ رحمی ،شاندار فتوحات ،جنگ کے دوران بھی اعلیٰ اقدار کی پاسداری کم سن ،مستورات اور بزرگوں کے ساتھ نرم روی ،حسن سلوک ،سادہ اور پُر کشش تعلیمات اور مکمل عمل و لائحہ زندگی ،مگر عباسیوںؔ کی حکومت آنے کے بعد سارا چوپٹ ہوگیا ۔دارالخلافہ بغدادؔ میں تھا ۔شاہی محل سے وابستہ اور شاہی خاندان کے لوگ مستیاں اور عیاشیاں کرنے کے بعد مختلف معاملات میںغیر معروف اور غیر معتبر علماء سے فتویٰ لے کر اسلامی اصل الاصول ، روایات اور شرعی احکامات کے ساتھ کھلواڑ کرتے تھے ،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل اور صحیح (original)اسلام کی شبیہ بگڑ گئی۔نئی نئی جماعتیںاور مکتب فکر وجود میں آگئے ۔خلیفہ ہارون رشیدؔ کے دور خلافت تک معتزلہ کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا مگر مامونؔ رشید کے دور خلافت میں اُن کو عروج حاصل  ہوا ۔ حکومت کا قاضی القضاہ بلکہ خود مامونؔ رشید معتزلہ ؔ کے افکار و آراء کا ایک پُر جوش داعی تھا ۔اس لئے جب اس جماعت کو حکومت وقت کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہوگئی تو نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ،کلامِ الٰہی ، رویتِ باری تعالیٰ ،عدل ،تقدیر ،جبر و اختیار کے متعلق ایسی کج بحثیںاور لا ینحل مسائل پیدا ہوگئے جو نہ دینی حیثیت سے ضروری تھے اور نہ ہی دنیاوی حیثیت میں وہ فایدہ مند تھے بلکہ اس کے برعکس ایسی حرکات اُمت کی وحدت اور مسلمانوںکی قوت عمل کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی تھیں۔
انہی ایام میں یعنی خلیفہ مامونؔ رشید اور اُس کے مرنے کے بعد اُس کے بیٹے معتصم ؔرشیدکے دور حکومت میں فتنہ خلق قرآن بھی شروع ہوا ۔حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کو اس بارے میں فتویٰ دینے کو کہا گیا مگر جیسا کہ انہوں نے مامون رشیدؔ کے دور حکومت میں اس بات کو ماننے سے انکار کیا تھا کہ قرآن باقی تخلیقات کی طرح رب ایک تخلیق ہے ،اُسی طرح انہوں نے معتصم رشید کی دور حکومت میں ایسا کوئی فتویٰ دینے سے انکار کردیا بلکہ واضح الفاظ میں اعلان فرمایا کہ قرآن مطلقاً کلام ِرب ہے، حدیث اللہ ہے ۔بادشاہ اس پر غصہ ہوا اور امام صاحب کو چار چار بیڑیاں ڈال کر قید میں ڈال دیا گیا ۔ایذا ئیں دی گئیں اور اُن کے لئے کوڑوں کی سزا بھی تجویز ہوئی ۔روزوں کی حالت میں اُن پر کوڑے لگائے گئے ۔عباسی انتظامیہ کے ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ اگر وہ کوڑا ایک گرانڈیل ہاتھی پر بھی پڑتا تو اُس کی چیخیں نکل جاتیں ۔ امام صاحبؒ نے ایسے چونتیس کوڑوں کی مار سہی ۔امام صاحبؒکے بے مثال صبر وضبط کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ فتنہ اُنہی دنوں ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ۔حضرت امام بخاریؒ کے اُستاد حضرت علی بن المدینیؒکا فرمانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کاغلبہ و حفاظت کا کام دو اشخاص سے لیا ہے ۔جن کا کوئی تیسرا ہمسر نظر نہیں آتا ۔ ارتداد کے موقع پر حضرت ابو بکر صدیق  ؓ اور فتنہ ٔ  خلق قرآن کے سلسلہ میں حضرت احمد بن حنبلؒ ۔تاریخ ابن خلکانؔ کے مطابق اُن کی عظمت و مقبولیت کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ سن 241ھ میں جب امام صاحبؒ وصال ابدی کرگئے تو جنازے میں اتنے لوگ تھے جتنے اُس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے ۔نماز جنازہ میں آٹھ لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار مستورات نے شرکت کی۔
ایک قوم کا عالم نائب پیغمبر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالِم کی موت عالَم (دُنیا ) کی موت کے مشابہ ہے ۔یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھی جاسکتی ہے کہ جب ایک عالِم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے تو اُس قوم کی اخلاقی اور دینی حالت پھر کیا رہ جاتی ہے ؟یہی وجہ ہے کہ جب اسلامی سلطنت اندرونی اور بیرونی خلفشار میں مبتلا ہوگئی تو تاتا رؔ یعنی چنگیزی فوج نے بڑی آسانی کے ساتھ بغدادؔ کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔تاتاریوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر مساجد میں شراب کی محفلیں منعقد کیں اورمسلمان اس قدر کمزور پڑچکا تھا کہ اگر راستے میں منگولی فوج کے سپاہی کو مسلمان مل جاتا تو وہ اُسی جگہ رُکنے کو کہتا تاکہ وہ اسلحہ خانہ سے تلوار لاکر اُس کا سر قلم کرسکے اور وہ مسلمان اُس جگہ سے ہلتا بھی نہیں تھا ۔کمال ہے !!!
اور ہے ۔۔۔۔۔۔
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995 

تازہ ترین