تازہ ترین

تعلیم: بنیادی مقاصد کلیدی واہداف

کتاب قلم ہے ترقی کی منزل

تاریخ    10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹرمنورحسن کمالن
تعلیمی   پالیسی کیسی ہونی چاہیے اوراس کے خدوخال کیسے ہونے چاہئیں، اس کا سبھی لوگ انتظار کررہے ہیں۔ اگرچندخاص تعلیمی اداروں کو چھوڑدیں تو فی الوقت ملک میں موجودہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔ بے روزگاری اندھے کنویں کی طرح منہ کھولے پھررہی ہے اور انگریزی تعلیم کے حصول کا یہ عالم ہے کہ لوگ انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے لیے ہر حدسے گزرنے کو تیارہیں۔ اگروہ آج کی صحیح صورت حال کوسمجھ لیں توشاید ان کے خیالات تبدیل ہوجائیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک کو ہنر کے فروغ کی بھی ضرورت ہے۔ آج تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے سرپرست کئی خانوں میں منقسم ہیں۔ پہلے ایک توخط افلاس سے نیچے کے کنبے کے بچے ہوتے تھے، جو دوچارکلاس تک پڑھے پھر کوئی ہنرسیکھ کر اپنے خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹانے لگے یا پھر اعلیٰ طبقے کے بچے جو ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننے کی تگ ودو میں لگ جاتے تھے۔ متوسط طبقہ کے بچے ہائی اسکول اورانٹرتک کسی طرح پہنچے پھر یاتو کسی تجارت میں لگ گئے یا کوئی اوسط درجے کی ملازمت حاصل کرکے گھر گرہستی بسالی۔ 
آج صورت حال مختلف ہے۔ ہم اپنے بنیادی اہداف سے بھٹک گئے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں یاتو کوئی بہت آگے ہے یا بہت پیچھے۔ متوسط طبقہ کہیں کھوساگیاہے۔ ادھر گزشتہ 100برس میں دنیا میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ تعلیم کا میدان بھی اس سے اچھوتا نہیں رہاہے۔ جولوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرناچاہتے ہیں، انھیں مواقع میسر نہیں اورجنھیں مواقع میسرہیں وہ اس کے حصول میں بہت پیچھے نہ سہی پچھڑے ہوئے ضرور ہیں۔ تعلیمی پالیسی سازوں کو ہرطرف سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہرطبقے کو دھیان میں رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگرہم ماضی کی تعلیمی پالیسی اور اس کے اہداف کاذکرکریں تو ہمیں ابتداءً یہ سوچنا ہوگا کہ ہم قوم وملک کی تعمیر کس نہج پرکرناچاہتے ہیں۔ 
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ علم ایک عظیم قوت ہے۔ علم کے ذریعہ ہمیں مادی دولت ووسائل ہی میسرنہیں آتے، بلکہ روحانی سکون بھی ملتا ہے۔ دنیا کے ہر مذہب نے علم سیکھنے سکھانے کی تائید کی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چرانہیں سکتا اورعلم کے بغیرانسان اپنی ذات کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ علم حاصل کرنے کے بعد انسان اپنی، اپنے معاشرے اور ملک وقوم کی ترقی کا سبب بنتا ہے۔ علم کی تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ وہ ایک ایسی صلاحیت ہے جس کے توسط سے حقائق اشیا کی پہچان قائم ہوتی ہے۔ اسی علم کے سبب انسان دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے۔ انسان کے پاس ایک قدرتی اور معنوی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعہ کائنات میں پوشیدہ اور پس پردہ حقائق کا ادراک حاصل کرلیتا ہے اور ہر چیز کی حقیقت سے واقفیت بھی حاصل کرلیتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب تعلیم کا بنیادی ہدف ملازمت کا حصول ہوتومعاشرے میں ملازم ہی پیداہوں گے، رہ نما اور سربراہ نہیں۔ اس لیے تعلیم کے بنیادی مقصد کو پوری طرح ذہن میں بٹھالیناچاہیے۔ ہمیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو کسی بھی ملک کے دیگرتمام شعبوں کی بنیادقرار دیا گیا ہے۔ کسی ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کے ذہنی ارتقا کا اندازہ وہاں کی تعلیمی صورت حال سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔ زراعت ہو یاملازمت، حکومت ہو یا تعلیم گاہیں، اسکول اورکالجزہوں یا یونیورسٹیاں ہرشعبہ اسی صورت میں ترقی پائے گاجب ملک کی افرادی قوت تعلیم یافتہ ہوگی۔ اس لیے کہ قوم افراد سے بنتی ہے اور تعلیم کے ذریعہ صرف افراد کی تربیت ہی نہیں ہوتی بلکہ پوری ایک قوم کی تربیت کا اہتمام کیاجاتاہے۔  افراد کی ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما اور ان میں اعلیٰ صفات پیدا کرکے انھیں ملک وقوم کی فلاح اور ترقی کے لیے تیار کرنا تعلیم کا بنیادی اور اولین مقصدہے اور اسی کو ہمیں ہدف بنانا چاہیے۔ 
تعلیم اپنے وسیع معنی میں وہ چیز ہے، جس کے ذریعہ افراد کے کسی گروہ کی عادت اور اہداف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ اگراس کی معنویت پرغور کیاجائے تو تعلیم وہ رسمی طریق کار ہے، جس کے ذریعہ ایک معاشرہ اپنا مجموعی علم، ہنر، روایات اور اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ اگرہم اسلامی تاریخ کامطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے۔ حضرت محمدؐ نے مدینہ میں مسجد نبوی میں صحابہ کرامؓ کے ایک اسکول کی بنیادرکھ دی تھی، جہاں کے طلبہ 'اصحاب صفہ کہلاتے تھے۔ جن کی زندگیوں کا مقصدحصول علم تھا اور پھر ان ہی تربیت یافتہ افراد نے پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ اورافراد کی تعلیم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ کسی بھی قوم اورملک کی سلامتی اوراستحکام کاانحصارنئی نسل کی تعلیم پرہے اورتعلیم بھی ایسی جو ہماری دینی، اخلاقی، سماجی اور معاشی ضروریات کو پورا کرے اور نئے دور کے تقاضوں اورجدید رجحانات کوبھی اپنے اندرسمولینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس لیے کہ دنیا کی تمام ترقی کاانحصارتعلیم پرہی ہے۔ تعلیم کے بنیادی مقاصد میں یہ بھی داخل ہے کہ تعلیم کے حصول کے بعدملک وقوم کی سچی خدمت کا جذبہ پروان چڑھایاجائے۔ علم ہی وہ خاص ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان دوسرے انسانوں پر سبقت لے جاتاہے۔ علم کی بدولت ہی انسان نے جہاں ترقی کی ہے، وہیں ان اقوام اورممالک نے زیادہ ترقی کی ہے، جہاں صدفی صد یا صد فی صد کے قریب افراد تعلیم یافتہ ہیں۔آج کے پرآشوب دور میں تعلیم کی ضرورت اوراہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ آج کا دور کمپیوٹرکا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔ لیکن ان سب کے لیے بھی تعلیم کے بنیادی مقصد سے غفلت ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہے اور زمانہ آگے بڑھ جاتاہے۔ 
جدیدعلوم کے حصول کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم بھی بہت ضروی ہے، اس لیے کہ اسی سے انسان کو انسان سے دوستی کی ترغیب ملتی ہے۔ اخلاقی تعلیم پروان چڑھتی ہے۔ زندگی میں مذہب بیداری آنے سے محبت خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیداہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ تعلیمی رجحان، ابتدا ہی سے اگر بچوں میں پیداکردیاجائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 70فیصد بچے اسکول کے ابتدائی درجات میں داخلہ لیتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ یہ فیصد کم ہوتاچلا جاتا ہے اور ہائی اسکول اورانٹرمیڈیٹ تک آتے آتے اس میں خطرناک حد تک کمی آجاتی ہے، جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک اور قوم کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ہندوستان میں ہرسطح پر تعلیم کی ترویج واشاعت کے لیے لائحہ عمل تیار کئے جارہے ہیں۔ ملک کے بالغ نظر اور روشن خیال افراد اپنی بیدار مغزی کے باوصف تدریسی نظام میں شفافیت لانے، اسے مؤثر بنانے اور اس میں درآئی خامیوں اورکمیوں کودور کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ لیکن اسکولی سطح سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں تک طلبہ کو نت نئی مصیبتوں کاسامنا بھی کرناپڑتا ہے۔ تعلیم گاہوں کی نہ داخلی فضا سازگار ہے اورنہ خارجی۔ صورت حال ایسی ہے کہ یکسوئی مفقود ہوچکی ہے۔ جب کہ تعلیم کے حصول اور اس کے بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے لیے یکسوئی پہلی شرط ہے۔ تعلیم گاہوں کی داخلی فضا کو بہتربنانے کے لیے پرسکون ماحول، صفائی ستھرائی اور بجلی پانی کا مناسب بندوبست بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ دیکھا گیا ہے کہ ان چیزوں کی ناقص فراہمی کے سبب طلبہ کے ذہن پر منفی اثرپڑتا ہے اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور خارجی سطح کا اگرجائزہ لیاجائے تو اعلیٰ عہدے دار اور ذمہ داروں میں دوری اس کی بڑی وجہ ہے اور اگرمزید چھان بین کی جائے تو بدعنوانی جیسے واقعات طلبہ کے ذہن کو پراگندہ کرتے ہیں۔ انتظامیہ کا طلبہ کے ساتھ سردمہری کارویہ بھی ایک حد تک اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس سے بھی تعلیمی نظام میں اضمحلال پیداہوتا ہے اور طلبہ اپنے بنیادی مقاصد سے یاتو بدظن ہوجاتے ہیں یا گمراہ ہوجاتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ والدین اور سرپرست اپنے بچوں کو لائق اور ہنرمند بنانے کے لیے نہ صرف خطیررقم خرچ کرتے ہیں، بلکہ اپنے بہت سے ضروری کام چھوڑکر بچوں کی تعلیم کوضروری سمجھتے ہوئے اولیت دیتے ہیں، لیکن جب بچوں کو مناسب ماحول نہیں ملتا تو انھیں لگتا ہے کہ ان کا بچہ تعلیم کے بنیادی مقصد سے بھٹک گیا ہے یا بھٹک جائے گا اوران کا بنیادی مقصد فوت ہوجائے گا۔ شریعت اسلامیہ میں تعلیم یافتہ اور اَن پڑھ میں فرق واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان میں وہی فرق ہے جو ایک زندہ شخص اور مردہ شخص میں ہوتاہے۔ 
تعلیم کابنیادی مقصد صرف نصابی تعلیم نہیں ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والاشخص اپنی آئندہ نسل کو یہ وراثت پہنچاناچاہتا ہے، بلکہ بعض دانشوروں اور ماہرین نے اسے ضروری قرار دیاہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد کردار اور اخلاق کی تربیت کرنابھی ہے۔ مشہور برطانوی فلسفی پروفیسر الفریڈنارتھ وہائٹ ہیڈنے بہت قیمتی بات کہی ہے : جو قوم اپنے دانشوروں کی قدرنہیں کرتی وہ ذلیل وخوار ہوتی ہے۔ ان کی بہادری، سوشل جاذبیت،بذلہ سنجی اورزمینی اور سمندری فتوحات ان کی قسمت نہیں بدل سکتیں۔ آج اگروہ اپناگزارہ کرلیتے ہیں لیکن کل کیا ہوگا جب سائنس آگے بڑھ جائے گی۔ اس موقع پر غیرتعلیم یافتہ لوگوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ انگریزفلسفی تھامس ہکسلے کہتاہے کہ شاید تعلیم کا سب سے قیمتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آپ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ آپ جو کچھ کرناچاہیں وہ کرسکتے ہیں اور ابتدائی تعلیم نہایت اہم اور ضروری ہے، وہ جس قدرجلدشروع ہوجائے اتنا ہی بہتر ہے۔ کیوں کہ غالباً یہ وہ سبق ہوتاہے جو انسان اچھی طرح سیکھتا ہے اور یہی آخری سبق بھی ہے۔ ّایک مغربی فلسفی پیٹربراہم کاکہناہے کہ تعلیم انسان کو رہنمائی کرنے والا لیڈربناتی ہے اور جس کو کوئی ہانک نہیں سکتا۔ مغربی دانشورجان لو کے کہتاہے کہ تعلیم ایک ایساعمل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یعنی انسان زندگی بھرکچھ نہ کچھ سیکھتا رہتاہے۔ مشہور فلسفی وکٹر ہیوگونے کہا ہے کہ جو شخص ایک اسکول کھولتا ہے، وہ ایک جیل خانہ بندکرتاہے۔ ہمیں شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا یہ قول ہمیشہ یاد رکھناچاہیے کہ بچہ جوعلم وتربیت شروع کے چند برسوں میں سیکھتا ہے یہی اس کی زندگی کاقیمتی اثاثہ ہیں۔ 
ورلڈبینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ بنیادی تعلیم بچے کی آئندہ زندگی پربہت مثبت اثرڈالتی ہے اور آئندہ زندگی میں اس سے فوائدحاصل ہوتے ہیں۔ یعنی ثابت ہوا کہ اعلیٰ تعلیم جہاں ایک قوم کی ترقی اورتعمیر میں اہم رول اداکرتی ہے، وہیں ابتدائی تعلیم اس کی بنیاد مضبوط کرتی ہے، جس پر ملک کے نوجوان اپنے تعلیمی مقاصد کی بنیاد کھڑی کرتے ہیں۔ جہاں تک بات فہم وفراست کی ہے۔یہ ایک خصوصی عطیہ خداوندی ہے، جو وہ اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں نکالناچاہیے کہ ہم ابتدائی تعلیم اوراس کے بعد اسکولی تعلیم حاصل کرکے بیٹھ جائیں اور سمجھیں کہ عطیہ خداوندی کا نزول اب ہوا ہی چاہتا ہے، بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنی ان تھک کوششیں کرنی ہوتی ہیں، جب کوئی شخص مطالعہ کی میز پر ہوتاہے تو اس کے سامنے ایک دنیاکے اسرار ورموز کھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اسے عطیہ خداوندی یعنی فہم وفراست بھی حاصل ہوجائے تو وہ شخص یقیناًکسی بھی ملک کے لیے کسی سرمایے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ مطلب اخذ نہیں کرناچاہیے کہ جس شخص نے علم کے حصول کے لیے جدوجہد کی لیکن اس کو فوراً کوئی ملازمت نہیں مل سکی تو وہ تعلیم اس کے لیے بیکار ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ علم تو وہ نعمت خداوندی ہے جو زندگی کے ہر مرحلے پراس کے کام آتی ہے۔ رہاسوال تعلیم کے بنیادی اہداف کا تو سمجھناچاہیے کہ ہم تعلیم کے حصول کے بعدکوئی بھی کام کرتے ہیں۔ اس سے کسی نہ کسی سطح پر ملک وقوم کافائدہ ضرور ہوتا ہے۔ اگر معمولی سطح پربھی وہ شخص کوئی کام کررہاہے تواس کا سلسلہ کہاں تک پہنچتا ہے، یہ دیکھنے کی بات ہے، اس لیے کہ اس سے ایک چین بن جاتی ہے اور وہ کام سلسلہ درسلسلہ آگے بڑھتا جاتاہے۔ بالآخر وہ ملک وقوم کی ترقی میں ایک کارآمد شئے کی طرح شامل ہوجاتاہے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما اور ان میں اعلیٰ صفات پیدا کرکے ان سے ملک و قوم کی فلاح اور ترقی وکامیابی کاحصول آسان بنایاجاتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جس قدر توجہ تعلیم کی طرف دی جارہی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی، لیکن بعض چیزوں نے ذہنوں کو پراگندہ کرنا شروع کردیاہے،ان سے بچنا ضروری ہیے۔ بچے ہنستے کھیلتے اور خوش ہوتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہی سب کرتے ہوئے بچے مؤثر طریقے سے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔ وہی باتیں جو وہ کھیل کھیل میں سیکھتے اورسمجھتے ہیں وہی ان کے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ ملک کے بیشتر گھرانوں میں چارپانچ برس کی عمر تک بچہ اسکول جاناشروع کردیتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بعض خامیاں بھی پائی جاتی ہیں، جنھیں دورکرنے کی ضرورت ہے۔ ننھے دماغوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے اورکیانہیں۔ مروّجہ اور روایتی طریق تدریس اگرچہ مفید اور کارآمد ہے، لیکن انھیں نئے نئے طریقوں اور نئی ایجادات کے بعدسامنے آنے والی چیزوں کے توسط سے بھی سکھانے کی ضرورت ہے۔ 
آج کل صبح شام کی شفٹ میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ دیکھایہ گیا ہے کہ صبح کی شفٹ میں پڑھنے والے بچے شام کی شفٹ میں پڑھنے والے بچوں کی بہ نسبت زیادہ باشعور ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ صبح کا وقت کسی بھی کام کے لیے جب مفید اور کارآمد ہوتا ہے توتعلیم کے لیے تو اوربھی اس میں گنجائشیں موجود ہیں، وہ طلبہ کے سادہ ذہن پرایسا کچھ رقم ہوجاتاہے جو تادیر ان کے کام آتا ہے۔ لیکن اس میں قطعیت کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ شام کی شفٹ میں پڑھنے والے بچے بالکل ہی نابلد رہ جائیں۔ لیکن یہ نظام شہروں کی آبادیاں بڑھنے کے سبب بنایاگیاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعدادمیں اسکول قائم کیے جائیں۔ حکومتی سطح پر 'سروشکشا ابھیان اور 'بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤجیسے تعلیمی منصوبوں کا مقصدبھی بچوں کوتعلیم کی طرف راغب کرنااور انھیں اعلیٰ تعلیم یافتہ بناکر ملک وقوم کی ترقی میں حصہ دار بناناہے۔ اس لیے کہ یہ بات پہلے بھی کہی جاچکی ہے کہ وہی ملک وقوم ترقی کرتے ہیں جن کے پاس تعلیم یافتہ افرادی قوت ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ افرادی قوت کسی بھی ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہے، ہمیں اس جانب بھرپو توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کے ملک کی ترقی کے منصوبے پڑھے گا انڈیا بڑھے گاانڈیا اور 'اسکل انڈیاکے لیے بھی تعلیم ہی اوّلین کلید ہے۔ اگر ہم اس پرعمل پیرانہیں ہوتے ہیں تو تعلیم کے بنیادی مقاصد کو نقصان پہنچے گا اور ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے، اس لیے ہمیں اپنے اور ملک وقوم کے اہداف کو پانے کے لیے تعلیم کے حصول اور فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے، اس سے ہمارا مستقبل بھی روشن ہوگا اور ملک و قوم بھی آگے بڑھیں گے اور ہماری نسلیں فخر سے کہیں گی کہ ہمارے بڑوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے بڑی محنتیں کیں ہیں، یہ انہی کا ثمرہ ہے۔

 

تازہ ترین