تازہ ترین

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

معلومات

تاریخ    10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


ایس اے ساگر
پرندوں پرندوں کا بادشاہ عقاب اپنی جسامت، طاقت، بھاری سر اور چونچ سے دیگر شکاری پرندوں سے مختلف ہوتا ہے۔اس کے پر بھلے ہی چھوٹے نظر آتے ہوں لیکن ان پروں کی لمبائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور چوڑے پر ہوتے ہیں۔ اس کی پرواز زیادہ سیدھی اور تیز ہوتی ہے۔ عقاب کی بعض نسلیں محض نصف کلو وزنی اور 16 انچ لمبی ہوتی ہیں جبکہ بعض اقسام ساڑھے چھ کلو سے زیادہ وزنی اور 39 انچ لمبی ہوتی ہیں۔لیکن دیگر شکاری پرندوں کی مانند اس کی چونچ مڑی ہوئی ہوتی ہے تاکہ شکار سے گوشت نوچنے میں آسانی ہو۔
ہتھیاروں سے لیس وجود:
مزید یہ کہ اس کی ٹانگیں زیادہ مضبوط اور پنجے نوکیلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عقاب کی انتہائی تیز نگاہ اسے بہت فاصلے سے بھی شکار کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ عقابوں کے گھونسلے عموماً بڑے درختوں پر یا اونچی چٹانوں پر ہوتے ہیں۔ عموماً مادہ چوزہ نر سے بڑی ہوتی ہے۔ والدین چھوٹے بچے کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔ یوں تو اس پرندے کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جو لازمی نہیں کہ ایک دوسرے سے بالکل مماثل ہوں۔ افریقہ اور یوریشیا میں عقابوں کی 60 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں جب کہ دیگر علاقوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا میں محض دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ وسطی اور جنوبی امریکہ میں مزید 9 اقسام جب کہ آسٹریلیا میں 3 اقسام پائی جاتی ہیں۔
جہدوجہدسے مزین زندگی:
عقاب کی اکثر اقسام بھلے ہی دو انڈے دیتی ہیں تاہم پہلے پیدا ہونے والے بچے عموماً دوسرے بچے کو پیدا ہوتے ہی مار دیتے ہیں۔اور یہیں سے اس کی جدوجہد سے مزین زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔کیا آپ کو علم ہے کہ عقاب جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو موت سے بچنے اور دوبارہ جوان ہونے کیلئے کیا کرتا ہے؟
نشأۃ ثانیہ کی روشن مثال:
 عقاب کی عمر 70 سال کے قریب ہوتی ہے۔ اس عمر تک پہنچنے کے لئے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہوتا ہے۔ جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہوجاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کرپاتا، اسی طرح اس کی مضبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہوجاتی ہے،اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہوجاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان سب مشکلات کے ہوتے ہوئے اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں:
1: یا تو وہ موت کو تسلیم کرلے
2 :یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لئے تیار ہوجائے۔
طویل تکلیف اور مشقت:
چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے۔ اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔ پھر جب اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔ اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔ پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان بھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔ عقاب کی زندگی اور ان ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لئے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لئے ہمیں سخت جدوجہد کیوں نا کرنی پڑے!
قیمت تو صفات کی ہے:
یہی وجہ ہے عقاب نزدیک بہت اہمیت کا حامل پرندہ ہے۔ اس کی لپک جھپک، تیز نگاہ، پروقار اور بارعب اڑان اور اونچی پرواز کی مثالیں دی جاتی ہیں اور عقاب جیسا بننے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ شعرا باقاعدہ عقاب سے تشبیہی نظمیں تحریر کرتے ہیں۔ عقاب کی انوکھی صفت یہ ہے کہ یہ پرندہ بہت جلد سکھانے سے سیکھ جاتا ہے۔ اور مالک سے مکمل وفاداری نبھاتا ہے۔
کب نصیب ہوگی بیداری؟
 برصغیر میں برطانوی سامراج کیخلاف ان کا حق آزادی حاصل کرنے کے لئے ابھارنے والے شاعر انقلاب ڈاکٹر محمد اقبال نے جذبہ آزادی ابھارنے کے لئے مکمل عقاب کی زندگی کا سہارا لیا۔ ایک اور شاعر کا ہمت پر ایک بہت ہی مقبول شعر بہ نسبت عقاب سے    ؎
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب 
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لئے 
ڈاکٹر اقبال کا ایک شعر اس حوالے سے مسلم جوانوں میں کافی مشہو رہے    ؎ 
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظرآتی ہے اْن کواپنی منزل آسمانوں میں  
