مزید خبریں

تاریخ    9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


نیو ڈسک

گورنر سے عمران انصاری ملاقی

سر ی نگر//ریاست کے سابق وزیر عمران رضا انصاری نیراج بھون میں گور نر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقات کی۔عمران رضا انصاری نے پٹن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں رہنے والے باشندوں کو درپیش مسائل گورنر کی نوٹس میں لائے ۔ اُنہوں نے امرناتھ جی یاترا کے کامیاب اِنعقاد کے لئے مقامی لوگوں کی طرف سے مکمل تعاون دینے کا یقین دِلایا۔گورنر نے عمران رضا انصاری سے تلقین کی کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود ی کے لئے کام کرتے رہیں۔
 
 
 

 مرکزی معاونت والے 21 نرسنگ سکولوں کا قیام

ریاست میں 2020-21 تک کام مکمل ہوگا: محکمہ صحت 

سر ی نگر//محکمہ صحت و طبی تعلیم نے اطلاع دی ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں 2020-21 کے آخر تک مرکزی معاونت والے21 آگزلری نرسنگ اینڈ مڈ وائیفرے اور جنرل نرسنگ اینڈ مڈ وائیفرے سکول چالو کئے جائیں گے ۔ ان سکولوں کے قیام کو صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے مرکزی معاونت والی سکیم کے تحت ریاست کیلئے منظوری دی ہے اور اب تک اس مقصد کیلئے قسطوں میں 101.20 کروڑ روپے محکمہ کے حق میں واگذار کئے جا چکے ہیں ۔ پہلے مرحلے کے دوران 6  اے این ایم سکول بشمول اے این ایم سکول کشتواڑ ، رام بن ، ریاسی ، بانڈی پورہ ، بڈگام و شوپیاں اور 5 جی این ایم سکول بشمول جی این ایم سکول اکھنور ، اودھمپور ، پلوامہ ، کرگل و کلگام کا کام دردست لیا گیا جس کیلئے مرکزی وزارت نے ضروری رقومات واگذار کی ہیں اور ان پروجیکٹوں کو مکمل کیا جا چکا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سبھی 11  اے این ایم /جی این ایم سکولوں کیلئے پرنسپلوں سمیت عملے کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔ محکمہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اے این ایم سکول بڈگام کیلئے طالب علموں کے پہلے بیچ کے داخلے کیلئے اشتہار جاری کیا گیا ہے اور اے این ایم سکول شوپیاں میں پہلا تدریسی سال شروع کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح اے این ایم سکول رام بن اور جی این ایم سکول اودھمپور و کرگل میں تدریسی عمل عنقریب شروع ہو گا ۔ دوسرے مرحلے کے تحت ریاست کیلئے دس مزید اے این ایم /جی این ایم سکولوں کے قیام کو منظوری دی گئی ہے جن کو بھدرواہ ، بلاور ، تھنہ منڈی ، سرنکوٹ ، اننت ناگ ، کوکر ناگ ، کٹھوعہ ، ڈوڈہ ، راجوری اور گاندر بل میں قایم کیا جائے گا ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دس سکولوں پر کام جاری ہے اور یہ کام اگلے مالی سال کے دوران مکمل کئے جانے کی توقع ہے تا ہم اے این ایم سکول اننت ناگ اور اے این ایم سکول کوکر ناگ کو رواں سال کے دوران اندرونی انتظام کی بنیاد پر چالو کیا جائے گا ۔ 
 
 
 
 
 

جمو ں،راجوری اور اودھمپور میں سڑک حادثات 

خاتون آرمی کیپٹن اور باپ بیٹے سمیت 4لقمۂ اجل ،5زخمی 

رمیش کیسر

نوشہرہ +جموں //جموں ،راجوری اوراودھمپورمیں پیش آئے 4مختلف سڑک حادثات میںخاتون آرمی کیپٹن اورباپ بیٹے سمیت 4افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 5زخمی ہوئے ہیں ۔ایک افسر نے بتایاکہ راجستان جے پور سے تعلق رکھنے والی خاتون کیپٹن نویتا رنجن اپنی پرائیویٹ کار پرریمبل گھڑی اودھمپورمیں سفر کررہی تھی جس دوران اس کی گاڑی کنٹرول سے باہر ہوکر ایک کنکریٹ شیڈ سے جاٹکرائی جس کے نتیجہ میں وہ شدید طور پر زخمی ہوئی ۔انہوں نے بتایاکہ آرمی افسر کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں اس نے دم توڑ دیا۔ایک دوسرے حادثے میں جموں ۔اکھنور روڈ پر واقع دومانہ علاقے میں با پ اور بیٹا لقمہ اجل بن گئے ۔پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ رامپال شرما اوراس کا بیٹا سیان شرما ساکن ڈومی سوبکا اپنی کار میں سفر کررہے تھے جس دوران ان کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر ماردی جس کے باعث دونوں باپ بیٹالقمہ اجل بن گئے ۔وہیں نوشہرہ کے راجل گائوں میں جموں پونچھ شاہراہ پر ایک سڑک حادثے میں شہری کی موقعہ پر ہی موت ہوگئی جبکہ چار افراد شدید زخمی ہوئے جن میں سے دو کو نازک حالت میں جموں منتقل کیاگیاہے ۔نوشہرہ کے نوپنال گائوں سے سندربنی کی طرف جارہی آلٹو کار زیر نمبر JK11B-9686راجل کے مقام پر قومی شاہراہ پر حادثے کاشکار ہوکر کھائی میں جاگری جس کے نتیجہ میں 60سالہ کلدیپ سنگھ ولد بلونت سنگھ سکنہ نوپنال کی موقعہ پر ہی موت ہوئی جبکہ 35سالہ منمیت کور زوجہ ہرمیت سنگھ، 30سالہ جسوندر سنگھ ولد کلبیر سنگھ ، 42ہرمیت سنگھ ولد جیت سنگھ اور 42سالہ جسبیر کور زوجہ کلبیر سنگھ ساکنان نوپنال شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں جن میں سے جسبیر سنگھ اور ہرمیت سنگھ کو نازک حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیاہے ۔وہیں پولیس نے متوفی کی نعش قانونی لوازمات کے بعد ورثاء کے حوالے کردی ۔ اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔ایک اور حادثے میں نوشہرہ کے لام لڑوکا علاقے میں ایک موٹرسائیکل فوجی گاڑی سے ٹکراگیا جس کے نتیجہ میں موٹرسائیکل سوار سنجیو کمار ولد جگدیش راج ساکن لڑوکا شدید زخمی ہواہے جسے علاج کیلئے گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیا۔
 
 
 

کرگل میں پل کا حصہ ڈھ گیا

ماروتی کو شدید نقصان،مسافر بال بال بچے

کرگل//غلام نبی رینہ//کرگل میں اس وقت ایک ماروتی وین میں سوار مسافراور ڈرائیور معجزاتی طور بچ گئے جب پل کا ایک حصہ اچانک گاڑی کے اوپر گرآیا ۔کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق کرگل میں مسافروں سے بھری ماروتی وین زیر نمبر JKO7,2298 اقبال پل کے نزدیک پہنچ گئی تو اس دوران پل کا ایک پلر اچانک گاڑی پر گرآیا جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم اس میں سوار مسافر اور ڈرائیور معجراتی طور بچ گئے۔
 
 
 
 

پونچھ ۔راولاکوٹ بس سروس

۔49مسافروں نے حد متارکہ عبور کی

حسین محتشم
پونچھ//پونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس ہر ہفتہ کی طرح اس بار بھی جاری رہی۔اس دوران پونچھ سپورٹس سٹیڈیم سے راولاکوٹ کو روانہ ہوئی بس سے 27مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ کو روانہ ہوئے جو سبھی پونچھ میں رہنے والے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ گئے۔وہیں پاکستانی زیر انتظام کشمیرکے راولاکوٹ سے چکاں دا باغ کے راستے پونچھ پہنچی بس سے22مسافر راولاکوٹ سے پونچھ میں رہنے والے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے پہنچے۔اس طرح اس بار 49مسافروں نے حد متارکہ کے آر پار کا سفر کیا ۔اس دوران پونچھ سے نہ کوئی نیا مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو روانہ ہوا نہ ہی وہاں سے کوئی مسافرواپس لوٹا۔ اپنے وطن واپس جا رہے محمد آصف ساکن گوجراں والا نے کہا کہ وہ ساری زندگی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی دعا کرتے رہے اوربالآخر رشتہ داروں سے ملاقات کر نے کا موقعہ فراہم ہوا ۔انہوں نے ہندوپاک حکومتوں کا راہ ملن بس سروس چلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دوران سفر ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس سٹیڈیم پونچھ میں بیت الخلاء میں پانی کی کمی کے علاوہ انہیں اس سفر کے دوران کسی طرح کی پریشانی کا سامنانہیں کرنا پڑا۔ ایک بزرگ شخص فیروز دین ساکن گوجراں والا نے کہا کہ وہ پانچ سال میں دوسری بار اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کے لئے پونچھ آئے اور اب واپس جاتے ہوئے امید نہیں ہے کہ دوبارہ ملاقات ہو پائے گی۔انہوں نے کہاکہ پرمٹ نظام میں آسانی لائی جائے تاکہ رشتہ دار ایک دوسرے سے بغیر کسی مشکل کے ملاقات کرسکیں ۔
 
 
 

گرمی کی شدت میں راحت کا امکان نہیں

۔12سے 15جولائی تک بارشیں ہونگی :محکمہ موسمیات

نمائندہ عظمیٰ 
سرینگر //محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی میں گرمی کی شدت میں کمی کا فی الحال کوئی بھی امکان نہیں ہے تاہم12سے 15جولائی تک وادی کے کچھ علاقوں میں بارشیں ہوسکتی ہیں وادی میں سوموار کو بھی موسم گرم رہا اور گرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر سرینگر میںسوموار کودرجہ حرارت 33ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات نے اگرچہ اگلے کچھ دنوںمیں کئی ایک علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی تاہم محکمہ کے مطابق دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرات میں کوئی بھی کمی واقعہ نہیں ہو گی ۔محکمہ کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کہا کہ یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ گرمیوں کے موسم میں موسمی صورتحال کیا رہے گی تاہم انہوں نے کہا کہ موسم 12جولائی تک ٹھیک رہے گا ۔پھر 12سے لیکر 15تک وادی کے کچھ ایک علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہو سکتی ہیں اور اس دوران درجہ حرارت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو گا ۔محکمہ کے مطابق 1978ور1999میں گرمیوں کے موسم میں زیادہ سے زیادہ درجہ حررت کشمیر وادی میں 37ڈگری سلسیش ریکاڈ کیا گیا تھا لیکن اس ماہ میں ابھی تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ہے ۔محکمہ کے مطابق کشمیر وادی میں 33ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ لداخ میں 29ڈگری سلسیش ریکارڈ ہوا ہے ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق شہر سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31.5ڈگری سلسیش ، قاضی گنڈ میں30.6ڈگری سلسیش ، پہلگام میں 26.0ڈگری سلسیش ،کپوارہ میں 30.9ڈگری ، سیاستی مقا م گلمرگ میں 21.0ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔اُدھر جموں میں جھلسادینے والی گرمی نے لوگوں کا حال بے حال کر دیا ہے اور لوگ شدید پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔جموں میں سوموار کو 37.0بانہال میں 30.0بٹوٹ میں 27.4کٹر ہ میں 34.9بھدروہ میں 31.5اور کٹھوعہ میں 37.4ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ہے ۔
 
 
 

اقوام متحدہ کشمیر میں آر پار حقوق انسانی کی پامالیوں پر فکرمند

سری نگر//اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر فوری قدغن لگانے پر آج تک کوئی بھی متعلقہ مملکتوں کی جانب سے کوئی بھی کارروائی نہ کئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔شائع شدہ رپورٹ جو مئی 2018سے اپریل 2019تک مرتب کی گئی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ بارہ مہینوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتیں گزشتہ ایک دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اب تک اُٹھائے گئے تحفظات پر ہندو پاک کی مملکتوں نے اب تک کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھایا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی جانب سے سوموار کو جاری رپورٹ میں بتایا کشمیر میں جاری غیر یقینی صورتحال پر بحث کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 14فروری 2019کو پلوامہ میں پیش آئے خود کش حملے نے انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مقامی سیول سوسائٹی کی جانب سے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2018میں 160عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا جو کہ گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق جاری اعداد و شمار میں تعصب سے کام لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں اُن کے مطابق فروری 2018تا 2دسمبر 2018تک 37عام شہری، 238جنگجو اور 86سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس مقامی سیول سوسائٹی کی جانب سے جو اعداد مہیا کئے گئے ہیں اُن کے مطابق اس عرصے میں 160عام شہریوں کو اپنی زندگیوں سے محروم کیا گیاجن میں 71عام شہریوں کو سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر ہلاک کیا جبکہ 43عام شہریوں کو نامعلوم بندوق برداروں اور مبینہ طور پر عسکری گروپوں نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ 29عام شہری لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فائرنگ سے از جان ہوئے۔ ادھر رپورٹ کے بقول پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عرصے کے دوران مزید 35عام شہری جارحیت کا نشانہ بن گئے جبکہ مزید 135گولیاں اور شل لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں دو جنگجو گروپوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ وادی کشمیرمیں معصوم بچوں کو تنظیم میں بھرتی کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیرمیں متحرک جنگجو گروپ مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ کارکنا ن کو مارنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کے موقعے پر متعدد سیاسی کارکنان نے خطرناک دھمکیاں موصول ہونے کے بعد اپنے کاغذات نامزدگیاں واپس لے لیں۔رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے جو انسانی حقوق کی پامالیاں انجام پارہی ہیں ان پر فورسز اہلکاروں کو کسی بھی طور پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ وادی کشمیرمیں فورسز کی طرف سے نوجوانوں کی بے تحاشا گرفتاریاں اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا محرک قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظا م جموں وکشمیر میں افسپا جیسے قوانین جوابدہی کے عمل میں اہم ایک رکاوٹ ہے۔رپورٹ میں اس بات پر سخت فکر و تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ایک سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی ہند وپاک کی مملکتیں اپنے حدود میں حقوق انسانی سے متعلق خامیوںکو رکوانے میں کوئی خاطر خواہ اقدام اُٹھانے سے قاصر رہے۔ 
 
 
 
 
 

محبوس ایاز اکبر کی اہلیہ مہلک بیماری میں مبتلا

پی ڈی پی نے رہائی کا مطالبہ کیا

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمانظیراحمدیتونے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تحریک حریت کے رہنماایازاکبر کو رہاکیاجائے کیونکہ اُن کی اہلیہ مہلک بیماری میں مبتلاء ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے وزیرداخلہ امیت شاہ اور ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک سے درخواست کی ہے کہ وہ ایازاکبر کی فوری رہائی کیلئے اقدامات کریں تاکہ وہ اپنی بیمار اہلیہ کی اس نازک وقت میں تیمارداری کرسکیں ۔یتو نے کہا کہ اگر اُن کی رہائی ممکن نہ ہوتوکم ازکم انکے پیرول پر رہائی کویقینی بنایا جائے۔ادھر تہار جیل میں محبوس حریت (گ)کے سابق ترجمان ایاز اکبر کے رشتہ داروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایاز اکبر کو انسانی بنیادوں پر رہا کریں۔اہل خانہ کے مطابق ایاز اکبر کی اہلیہ فی الوقت مہلک مرض میں مبتلا ہے۔ 
 
 
 
 

پونچھ میں اراضی تنازعہ پر لڑائی، 1شخص زخمی 

حسین محتشم

پونچھ// احاطہ ضلع عدالت پونچھ میں زمین تنازعہ کو لے کردو کنبوں کے مابین ہو ئی آپسی تصادم میں ایک شخص زخمی ہو گیا ۔اس مار پیٹ کے دوران زخمی ہونے والے شخص کی شناخت نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور گردوارہ پربندھک کمیٹی کے عہدیدار سردار سرجن سنگھ کے طور پر ہوئی ہے ۔وہاں موجود لوگوں نے انھیں نازک حالت میں ضلع ہسپتال پہنچایا۔اس دوران ورثہ کی جانب سے پولیس تھانہ پونچھ میں بھی شکایت درج کروائی گئی۔جس کے بعد پولیس تھانہ پونچھ میں ایف آئی آر نمبر97زیر دفعات 341،323اور382درج کر کے پولیس نے اپنی کاروائی شروع کر دی ہے۔گردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر سردار نریندر سنگھ اور ایڈوکیٹ راجندر سنگھ کاکا نے معاملہ کی شدید الفاظ میںمذمت کی ہے ۔انہوںنے کہا کہ اراضی تنازعہ پر کسی پر قاتلانہ حملہ کرنا نہایت ہی تشویش ناک عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دونوں خاندانوں کی جانب سے عدالت میں کیس کی سماعت ہورہی تھی تو دونوں کو عدالت پربھروسہ کرنا چاہئے تھا۔انہوںنے ضلع انتظامیہ ، پولیس سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں تحقیقات کر کے اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس حل نکالیںتاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسا سانحہ نہ ہو۔ 
 
 
 
 
 

تازہ ترین