عمر اور محبوبہ کی بے تُکی باتیں

زائرہ ایکٹنگ چھوڑے یا کوہلی وردی بدل دے، ہمارے مسائل پر کیا اثر پڑتا ہے

تاریخ    9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


بشیر منظر
ریاست  جموں و کشمیر میں صدارتی نظام میں مزید چھ مہینے کی توسیع کرکے نئی دہلی نے یہ یہ واضح عندیہ دے دیا ہے کہ اسے ریاست میں اسمبلی انتخابات کروانے کی کوئی خاص جلدی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں صدارتی راج میں تو سیع کے لئے پیش کی گئی قراداد پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے جہاں یہ اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر کے حالات میں رفتہ رفتہ بہتری آرہی ہے وہیں اُنہوں نے یہ بھی صاف کر دیا کہ اسمبلی انتخابات کے لئے گو کہ سرکار تیار ہے لیکن یہ جبھی ہو پائیں گے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا فیصلہ کرے گا۔
وزیر داخلہ نے اپنی تقریر کے دوران ایسے اشارے دئے جن کے معنی یہی نکالے جاسکتے ہیں کہ نئی دہلی کو ان انتخابات کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں۔ حزب مخالف کی جانب سے صدارتی راج میں توسیع کو جمہوریت کی بحالی کی راہ میں اُڑچن قرار دینے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پسی سرکار ریاست میں جمہوریت کو مزید مظبوط اور فعال بنانے کی کو ششوں میں مصروف ہے اور اس ضمن میں ریاست میں پنچایتی اور بلدیہ انتخابات کروانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُن کی سرکار جمہوریت کو زمینی سطح تک لے گئی ہے اور ریاست کے عام لوگوں کو جمہوریت میں ساجھے دار بنانے کا کام کیا ہے۔ اُن کا یہ کہنا کہ جمہوریت صرف 87 لوگوں کو چُننے سے قایم نہیں ہوتی ، اسی بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نئی دہلی کے لئے اسمبلی چنائو کسی طرح کی ترجیح نہیں رکھتے۔
سوال یہ اُٹھتا ہے کہ نئی دہلی اسمبلی انتخابات میں کوئی خاص دلچسپی کیوں نہیں دکھا رہی ہے۔ اگر مقصد جمہوری نظام کو درہم برہم کرنا ہے تو پنچایتی الیکشن کیوں کروائے گئے؟  بی جے ی نے ریاستی پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کا تجربہ کیا جو بری طرح ناکام رہا۔ اس سرکار کے دوران ریاست جموں و کشمیر با ا لخصوص وادی کشمیر میں حالات بہت ابتر ہوگئے۔ نوجوان جوق در جوق عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہو گئے، پتھر بازی اور احتجاجوں کا لا منتاہی سلسلہ چل بڑا، کئی لوگ مارے گئے، کئی لوگوں کی بینائی کھوگئی۔  Law and Order کی دھجیاں اُڑائی گئیں۔ ہر جانب افراتفری کا ماحول رہا۔ایسے میں بی جے پی کے پاس حکومت سے الگ ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ملکی سطح پر ریاستی حکومت کی نا اہلیت پر سوال اُٹھنا شروع ہو گئے تھے۔
گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی حالات میں بہتری کے آثار نظر آنے لگے۔ پھر صدارتی راج ہوا اور بہتری کا عمل جاری رہا۔ آج کی تاریخ میں عسکری صفوں میں بھرتی کا سلسلہ لگ بھگ تھم چکا ہے۔ پتھر بازی کے واقعات میں بہت ہی زیادہ کمی آگئی ہے اور Law and Order کی صورتحال بہت حد تک سدھر چکی ہے۔ نئی دہلی میں ایک سوچ پنپ رہی ہے کہ حالات میں سدھار صرف اس لئے ممکن ہو سکا ہے کیونکہ روز مرہ کی امن و قانون کی صورتحال میں مقامی سیاست دانوں کی کوئی مداخلت نہیں رہی۔ ان کا ماننا ہے کہ مقامی سیاست دان،پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز کو ٹھیک طرح سے کام نہیں کرنے دیتے۔ جب بھی کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جاتا تھا، تو مقامی سیاست دان اپنا سیا سی اثر و رسوخ  استعمال کرکے اُسے رہا کرانے کی کوشش کرتے تھے اور یوں پولیس اور دیگر ایجنسیاں اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کر پاتے تھے۔
نئی دہلی کی اس سوچ کے مطابق ریاست کی مقامی سیاسی جماعتیں علیحدگی  پسندوں کے تئیں نرم گو شہ رکھتی ہیں اور جب بھی اُن کی سیاست تقاضاکرتی ہے تو وہ علیحدگی پسندوں کی ہی بولی بولنا شروع کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ مرکزی سرکار کئی برسوں سے چند علیحدگی پسند تنظیموں پر پابندی لگانے کا سوچ رہی تھی لیکن مقامی حکو متوں نے اپنے دور اقتدار میں ایسا ہونے نہیں دیا۔ حال ہی میںپی ڈسی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس بات کا بر ملا اعتراف کیا جب اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پر پابندی کے حوالے سے اُن پر مرکز کی طرف سے خاصا دبائو تھا۔ صدارتی راج کے نفاذکے بعد مرکزی سرکار کو ایسی کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یوں جمارت اسلامی اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائید کر دی گئی۔
دوسری بات،مرکز میں یہ سوچ بھی ہے کہ ریاست میں مقامی سیاست دان، سرکار میں آنے کے بعد بنیادی مسایل جیسے پانی، بجلی، سڑک، تعلیم، صحت، روزگار پر توجہ دینے کے بجائے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے بارے ہی بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ دہلی کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی نا اہلی، اپنی ناقص کارکردگی کو مسئلہ کشمیرکی آڑ میں چھپاکر صرف کرسیوں پر جمے رہنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جموں و کشمیر بینک سے لے کر ہر کسی ادارے کی سا لمیت پر فقط سیاسی اغراض کی وجہ سے سمجھوتا کرلیا گیا۔
وجہ جو کچھ بھی ہو، سچائی یہ ہے کہ دہلی کی فضائوں میں ریاست جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کوئی خاص دلچسپی نظر نہیںدکھتی۔ یوں لگتا ہے کہ جو کچھ یہاں چل رہا ہے، نئی دہلی اس سے مطمئن ہے۔ اسے فی الحال کچھ اور کرنے کی حاجت محسوس نہیں ہورہی ہے۔ جو کچھ چل رہا ہے ،Script  کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ دلی اپنی مر ضی سے سرکار چلا رہی ہے، آج دہلی کو کسی مقامی سیاست دان کے مشوروں کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کیا جانا ہے، خود کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک بہت بڑا سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اگر دہلی کے تجربات نا کام ثابت ہو گئے  تو اس ناکامی کی ذمہ داری بھی دہلی کو ہی قبول کرنی پڑے گی۔ آج کی تاریخ میں ذمہ داری کسی عمر عبداللہ یا محبوبہ مفتی پر نہیں ڈالی جاسکتی۔  
ایک اور دلچسپ بات۔ ہمارے یہاں کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی تمام معاملات سے لا تعلق دکھائی دے رہی ہیں۔ محبوبہ مفتی ٹوئٹر پر ہندوستان اور انگلینڈ کے کرکٹ میچ پر باتیں کر رہی ہیں۔ کہتی ہیں ہندوستان کی ہار میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی نئی جرسی ذمہ دار ہے اور عمر عبداللہ زائیرہ وسیم کے حوالے سے پریشان ہیں۔ کوئی ان قائیدین سے پوچھے تو سہی کہ ہندوستانی ٹیم کی جرسی کا رنگ اور زائیرہ وسیم کا فلموں میں کام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کشمیر کے حا لات پر کیسے اثر انداز ہوسکتا ہے ۔جرسی کسی بھی رنگ کی ہو، اُس سے کشمیر میں رشوت خوری کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ زائیرہ وسیم فلموں میں کام کرے یا نہ کرے، اُس سے ریاست کی بیروزگاری کا مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے۔ 
یہاں کے مسائیل بہت ہی بڑے اور سنگین ہیں۔ ان کی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی اور زائیرہ وسیم کی فلمی دلچسپی سے کوئی وابستگی نہیں۔یہاں بات کرنی ہے تو صدر راج کی کرنی ہے، بات کرنی ہے تو جمہوریت کی بحالی کی بات کرنی ہے، بات کرنی ہے تو یہ کہ براہ راست مرکزی سرکار کتنی بھی اچھی ہو، سیاسی سرکار سے اچھی نہیں ہو سکتی۔
لیکن محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ ہماری بات نہیں سنیں گے۔ وہ اپنی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اُن کی دُنیا کرکٹ جرسیوں اور بالی ووڈ کے معاملات سے جُڑی ہوئی ہے۔ اُنہیں سُلہ، گلہ اور مُمہ سے کوئی غرض نہیں۔ وہ ایک الگ دُنیا میں رہ رہے ہیں۔ اُن کی دُنیا الگ ہی ہے۔ اُن کی دنیا میں کشمیر کے معاملات کہیںfit نہیں ہو پاتے۔یہ المیہ ہے ہماری ریاست کا اور ہماری سیاست کا۔ 
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘

تازہ ترین