حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹو ں جگر کو میں

سوزِ دروں

تاریخ    9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
کبھی کبھی میرا بھی جی چاہتا ہے کہ چرس کا ایک سگریٹ پی کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجائوں ۔ کوئی نشہ آور گولی کھالوں تاکہ ان نوجوانوں کی طرح صنوعی جنتوں میں کچھ دیر جھومتا رہوںجوبے خودی میں زمین کی زہریلی حقیقتوں سے نجات پاتے ہیں ۔لیکن میں ایسا نہیں کرسکتاشاید اس لئے کہ میں اس نسل سے تعلق رکھتاہوں جس کے لئے دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنا کھیل بھی ہے اورشوق بھی حالانکہ اب صرف زمین پر ہی انگارے نہیں ،چاروں طرف آگ کی لپٹیں ہیں اور صرف پیر ہی نہیں سارا بدن جل رہا ہے ۔
 بی جے پی نے دوسری بار بہت بڑا منڈیٹ حاصل کرکے مرکز میں مضبوط حکومت بنائی ہے ۔گزشتہ پانچ سال کے دوران پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت میں رہ کر اس نے کشمیر کے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرکے اپنا ایک نظریہ قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر جنگجویت اور مزاحمت کیخلاف ایک بہت ہی سخت سٹینڈاختیار کیا گیا ہے ۔اس کی سوچ یہ ہے کہ مزاحمت اور جنگجویت کو قائم رکھنے میں حریت سے زیادہ مین سٹریم کا کردار رہا ہے چنانچہ وہ مزاحمت کو کچل دینے کے ساتھ ساتھ مین سٹریم کو بھی بے اختیار اور بے اثر بنانے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔عسکری تنظیموں کیخلاف فوجی آپریشنوں کی کامیابی نے جنگجوئوں کی قوت کو کافی حد تک توڑ دیا ہے ۔ این آئی اے کی جارحانہ مہم نے مزاحمتی قیادت کی بھی کمر ٹیڑھی کردی ہے چنانچہ جس زمین پر ہر سو آزادی کے نعرے گونجا کرتے تھے وہاں اب کبھی کبھی اورکہیں کہیں ہی یہ نعرے سنائی دے رہے ہیں ۔اس سے انکار نہیں کہ اب بھی جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران نہتے نوجوان بے جگری کے ساتھ جنگجوئوں کو بچانے کے لئے سینہ سپر ہوکر آتے ہیں اور کئی جنگجوئوںکوبچا لے جانے میں بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ماحول میں بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے ۔سنگ بازی میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوچکی ہے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حریت قائدین کے بیانات میں بھی اب مسئلہ کشمیر اور آزادی کی تکرار میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔ میر واعظ عمر فاروق، جو حریت (ع)کے سربراہ بھی ہیں ،جامع مسجد کے منبر پر اب ان عوامی مسائل کو بھی چھیڑ رہے ہیں جنہیں چھیڑنا اس سے پہلے تحریک دشمنی میں شمار کیا جاتا تھا ۔ بات چیت پر بھی رضامندی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔کبھی کبھی سہ فریقی بات چیت کا بھی تذکرہ کیا جارہا ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمتی محاذ میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی ہے ۔ کچھ سراسیمگی ہے اور کچھ کچھ اضطراب بھی ہے ۔ وہ دبائو صاف نظر آرہا ہے جو ازہان پر طاری ہوچکا ہے ۔
یہ صورتحال کئی سوال پیدا کررہی ہے ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حالات کی یہ تبدیلی اس آبادی پر کیا اثرات مرتب کرے گی جس کے عزائم نے ایک ہی جست میں آسماں چھولیا تھا ۔ کیا اسے واپس نیچے اترنا ہوگا ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اب شکست کا احساس پیدا ہونا یقینی ہے اور اگر ہے تو اس سے کس طرح کے نتائج پیدا ہوں گے ۔ان سوالوں کے جواب حاصل ہونے کی جب تک کوئی صورت پیدا ہوگی کئی انتہائی تلخ اور دلخراش واقعات پر غو ر کرنا ضروری ہے ۔
زیادہ دن نہیں ہوئے کہ جنگجوئوں کے دوگروہوں کے درمیان گولیو ں کے تبادلے میں ایک جنگجو کی موت واقع ہوئی ۔ اس کے بعد ایک جنگجو تنظیم ،جس کا رکن مارا گیا تھا، نے انتہائی سخت الفاظ، جنہیں یہاں بیان کرنا ممکن نہیں، میں اس تنظیم کو نیست و نابود کرنے کااعلان کرڈالا۔یہ اعلان سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں کیاگیا تھا ۔اس کے بعد نوجوانوں کی کئی لاشیں مختلف علاقوں میں پائی گئیں ۔ اننت ناگ میں ایک ہی جگہ شیر باغ کے مزار کے قریب د و لاشیں دیکھی گئیں ۔ اس سے پہلے بھی ایک لاش پائی گئی تھی ۔ اللہ کرے کہ ان لاشوں کا کوئی تعلق اس ویڈیو سے نہ ہو لیکن ایک حساس دل سینے میں ہے جس پر لرزہ طاری ہوتا ہے ۔ اسی روز ایک اورخبر بھی آئی کہ دو مزید نوجوانوں نے عسکری تنظیموںمیں شمولیت اختیار کرلی ۔ بندوق ہاتھ میں لئے ان کا فوٹو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ان سے مختلف لیکن ایسی ہی دلخراش خبر بھی اسی روز آئی کہ بھاری مقدار میں برائون شوگر ، چرس ، نشہ آور ادویات ، فکی اورخشخاش کے ساتھ منشیات کے سولہ تاجروں کو بارہمولہ میں گرفتار کرلیا گیا ۔ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہوئے بھی ان خبروں کا ایک دوسرے سے کتنا گہرا تعلق ہے، اسے سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔اور اس سے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں کہ بحیثیت ایک قوم کے ہم کہاں پہنچ چکے ہیں اورآزادی پانے کی تمنا لئے ہم بربادی کے کس راستے پر گامزن ہوچکے ہیں ۔ یہ سوچ کر میرا دل پارہ پارہ ہوجاتا ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی چرس کے دو گھونٹ پی کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجائوں یا برائون شوگر کا ایک کش لیکر بھول جائوں کہ میں کون ہوں ۔ کہاں ہوں اورمیری نظروں کے سامنے کیا کچھ ہورہا ہے ۔میں اپنے دل اوردماغ دونوںکو سلا دینا چاہتا ہوں ۔
ایک بااعتبار سوشل میڈیا گروپ کے ایک معروف اور بہت ہی ذہین صحافی کا ایک تجزیہ میری نظروں سے گزرا جس میں انہوں نے آنے والے اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی متوقع پوزیشن پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے حالیہ لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں اعداد و شمار کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی ریاست جموں و کشمیر میں سب سے بڑی جماعت کے طورپر ابھرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی ۔اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ پہلے ہی ایسے حالات بن چکے ہیں کہ کشمیر سے کوئی بھی جماعت اتنی نشستیں حاصل نہیں کرسکتی ہے جوجموں اور لداخ میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی حاصل شدہ نشستوں کے مقابلے میں کھڑی ہوسکے ۔ مطلب یہ کہ سیاسی طور پر کشمیر کی وہ حیثیت ختم ہونے کو ہے جواسے اب تک حاصل تھی ۔یہ ایک ایسا دھچکا ہوگا جو نفسیاتی طور پر کشمیری کو توڑ کے رکھ دے گا۔اس کے اندر شکست کا احساس اتنا گہرا ہوجائے گا کہ اس کے حوصلے ہمیشہ کے لئے پست ہوکر رہ جائیں گے ۔اس طرح سے ہر محاذ پر پسپائی ہے ، ہر محاذ پر ناامیدی ہے اور ہر خواہش کی شکست ہے ۔جو لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اس ملک کو چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری کن شرائط پردی اور وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے عین پہلے حافظ سعیدکیخلاف ٹیرر فنڈنگ کے الزام میں کیس کیوں درج کرلئے گئے ۔پاکستان سے متواتر مذاکرات کی پیش کش کیوں کی جارہی ہے اور بھارت کیوں ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے زمرے میں ریاست جموں و کشمیر کوپانچ سال کے لئے کیوں سرد خانے میں ڈال دیا گیا ۔ دنیا یکسر بدل رہی ہے ۔ عالمی طاقتوں کے درمیان دوستیوںاور دشمنیوں کے نئے معیار قائم ہورہے ہیں اوراس میں کشمیر کے مسئلے کیلئے کوئی جگہ نہیں نکل پارہی ہے ۔ ان المناک حالات میں کشمیر کو کیا کرنا چاہتے ۔یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس پر نہ قومی دھارے کی سیاست غور کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی حریت قیادت کیونکہ یہ سوال ہی ان کے سیاسی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ وہ جس راستے پر گامزن ہیں اس سے ذرابھی آگے پیچھے نہیں جاسکتے ہیں۔ان کے اندر سیاسی پھیلائو کی کوئی جگہ ہی باقی نہیں ہے اس لئے وہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ ڈوبتے ہوئے کشمیر کو بچانے کے لئے ایک بڑے کردار کی ضرورت ہے ۔پڑھے لکھے اوردانش مند نوجوانوں کے لئے سیاسی جماعتوں کے دروازے ہمیشہ بند رہے ہیں، اگر کبھی کھلے بھی تو صرف جی حضوری کرنے والوں اور کسی بات پر اعتراض نہ کرنے والوں کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی شرطو ں پر جینے والوں نے عسکریت کاراستہ اختیار کیا ۔ اب لے دے کے خود اس قوم کے لئے فیصلے کا وقت آچکا ہے ۔ اس قوم کو ہی دیکھنا ہے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا ۔ جوکھویا ہے اسے کیسے حاصل کیا جائے اور جو پایا ہے اس کی حفاظت کیسے کی جائے ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘
 

تازہ ترین