سخت گیر پالیسی کے بجائے افہام و تفہیم اہم: ڈاکٹر فاروق

علاقائی خودمختاری کیلئے وعدہ بند

تاریخ    26 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سخت گیر پالیسی سے گریز کر کے پاکستان کیساتھ افہام وتفہیم کی بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے بامعنی حل کی خاطر سیاسی طور پر بات چیت شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب ساتھ ہوکر چلیں ، اسی میں ہماری کامیابی اور کامرانی کا راز مضمر ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پرسنیچر کو ریاست بھر سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈران، عہدیداران نے مبارکباد پیش کی۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ عوامی اشتراک کے بنا یہ کامیابی ناممکن تھی اور جس طرح کشمیری عوام نے اپنی آبائی جماعت کو بھر پور تعاون دیا ہم اُس کیلئے شکرگزار ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم اور عوامی اشتراک سے نیشنل کانفرنس اگلی حکومت بنائے گی اور ہماری حکومت سب کو ساتھ لے کر چلے گی۔ انہوں نے خطہ چناب، پیرپنچال ، جموں ،لداخ اور کرگل میں نیشنل کانفرنس کے حمایتی اُمیدواروں کو ووٹ ڈالنے کیلئے اپنے ووٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام اقلیتوں کیساتھ انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس ریاست کے تمام خطوں اور ذیلی خطوں کی علاقائی خودمختاری کیلئے وعدہ بند ہے۔ ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ ریاست میں امن لوٹ آنے کی واحد صورت  مسئلہ کشمیر کواہل کشمیر کے امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے اور ریاست کے لوگوں کو دفعہ 370 کے تحت جو آئینی اور جمہوری مراعت دئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے اور ایسے تمام حربوںپر روک لگا ئی جانی چاہئے جو ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے کئے جارہے ہیں۔  
 

تازہ ترین