تازہ ترین

رمضان ہمدردی اور ایثار کا مہینہ

تاریخ    17 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


رئیس احمد شاہ پدگام پورہ، اونتی پورہ
 رمضان ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس کا تقاضا ہے کہ معاشرے کے غریب اور سفید پوش طبقات کی جانب توجہ دی جائے، اپنے پڑوس اور محلے میں دو  وقت کے کھانے سے محروم فاقہ زدہ خاندانوں کو تلاش کرکے ان کی مدد کی جائےتاکہ ان کی سحری و افطاری بھی ہو سکے اور وہ نعمتیں جو مال دار طبقہ کو قدرت نے نصیب فرمائیں ،ان سے غرباء کا دسترخوان بھی سج سکے۔ حضور ﷺ  کا  ارشاد ہے کہ جو شخص بھوکے کو کھانا کھلاۓ یا ننگے کو کپڑا پہناۓ یا مسافر کو رات گزارنے کی جگہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی سختیوں سے محفوظ فرما دے گا۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا : اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے نہیں کھلایا تو وہ کہے گا کہ اے میرے رب! میں تجھے کیوں کر کھلاتا جب کہ تو سب لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے؟ اللہ کہے گا کہ تجھے خبر نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اسے نہیں کھلایا؟ کیا تجھے خبر نہیں کہ اگر تو اس کو کھلاتا تو اپنے کھلاۓ ہوئے کھانے کو میرے یہاں پاتا؟ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے مجھے نہیں پلایا تو وہ کہے گا اے میرے رب! میں تجھے کیسے پلاتا جب کہ تو خود رب العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اسے پانی نہیں دیا اگر تو اس کو پانی پلادیتا تو وہ پانی میرے یہاں پاتا۔ (مسلم۔ بروایت ابوہریرہؓ)۔ حضرت ابو جہم (رض ) کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں میں اپنے چچازاد بھائی کی تلاش میں نکلا کہ وہ لڑائی میں شریک تھے کہ ان کی حالت دیکھوں اور ایک مشکیزہ پانی کا میں نے اپنے ساتھ لے لیا کہ ممکن ہے کہ وہ پیاسے ہوں تو انہیں پانی پلاؤ ۔ اتفاق سے وہ مجھے ایک جگہ اس حال میں ملے کہ ان کا جسم زخموں سے چُور تھا اور آخری سانسوں میں تھے ۔چنانچہ میں نے انہیں کہا کہ پانی پیش کروں تو انہوں نے کہا کہ پلاؤ، میں نے پانی پیش کیا ۔ انہوں نے پیالہ میں ہونٹوں کے قریب ہی کیا کہ اتنے میں قریب پڑے دوسرے زخمی مجاہد نے کہا پانی پانی ، مجھے چچازاد بھائی نے اشارے سے کہا کہ مجھے چھوڑو میرے پاس پڑے مجاہد صحابی ؓکو پانی دو۔ حضرت ابو جہم فرماتے ہیں میں اس صحابی ؓکے پاس پہنچا تو ان کے پاس پڑے ایک اور مجاہد صحابیؓ نے پانی مانگا۔اس دوسرے صحابی ؓنے مجھے اشارہ کیا مجھے چھوڑو میرے پاس پڑے اس مجاہد صحابیؓ کو پانی پلاؤ۔ فرماتے ہیں میں جب ان صاحب کے پاس پہنچا تو ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔ واپس پلٹا تو دوسرے دونوں حضرات بھی آخری وقت میں ایثار کرتے ہوئے حوضِ کوثر پر پہنچ چکے تھے۔ اللہ اکبر ! یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر اس واقعہ کی تہ میں جائیںتو جہاں سیدنا محمد ﷺ کی تربیت کا اثر نظر آتا ہے، وہیں پر صحابہ کرام ؓآخری سانسوں میں بھی ایثا و ہمدردی کا درس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ رمضان ہمدردی اور ایثار کا ہی مہینہ ہے ۔ جہاں ایک مسلمان اپنے اہل وعیال کے لئے اچھے نعمتوں سے افطار کرے، وہیں پر اس پر یہ اللہ کا حق بنتا ہے کہ اپنے اردگرد نظر دوڑائے اور دیکھے کہ کہیں کوئی گھر بھوکا پیاسا تو نہیں ہے ۔اسی طرح ہمیں ان غریب بچوں، بزرگوں ، خواتین کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا ۔ یہی صیام کا پیغام ہے۔
Contact: 9622658916