تازہ ترین

سرکاری شفاخانے!

تاریخ    12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   


عصر حاضر میںسرکاری شفاخانے ہیلتھ کئیرسیکٹر کے حوالے سے ذمہ دار ادارے ہوتے ہیں ۔ مریضوں کا علاج ومعالجہ ، روگیوں کے لئے دوادارو اور امراض کا قلع قمع کر نا ان کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ ان حوالوں سے ہمارے سرکاری شفاخانے کمیوں اور کوتاہیوں سے عبارت ہیں ، مثلاً کہیں ان کا نظم ونسق ڈھیلا ہے، کہیں طبی ونیم طبی عملے کا ایک محدود حصہ فرض ناشناس ہے ، کہیں ان کے ورک کلچرپر نقائص اور اسقام کا زنگ لگاہوا ہے۔ بایں ہمہ اس حقیقت سے انکار کی مجال نہیںہو سکتی کہ نوے کے دور ِ پُر آشوب سے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات زیادہ تر طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی ، مریض دوستی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا چلاآ رہا ہے ، اس پر یہ لوگ آفرین ومرحباکے مستحق ہیں ۔ انہوں نے بسااوقات ناگفتہ بہ اوربے قابو حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان تک جو کھم میں ڈالنے سے گریز پائی نہ کر کے اپنے پیشے کاتقدس اور وقار قائم رکھا ۔ کشمیر کا شاید ہی کوئی باشعور فرد بشر ہوگا جس نے مشہورومعروف معالج ڈاکٹر عبدالاحد گور و، ڈاکٹرفاروق عشائی اور ڈاکٹر شیخ جلال وغیرہ جیسی نامور طبی شخصیات کی بے دردانہ ہلاکتوں پر خون کے آنسو نہ بہائے ہوں۔ بہرصورت غور طلب ہے کہ ہمارے یہاں اکثر سرکاری شفاخانوں کے بارے میں مریض اور تیمار دار عدم اطمینان کی شکایتیں کر تے رہتے ہیں ۔ کوئی ان میں مریضوں کے تئیںبے مروتی کی داستان سرائی کرتاہے، کسی کو ان میں بدنظمی کا روگ دکھتا ہے، کوئی ان میں جدید طبی سہولیات کے فقدان کارونا روتاہے، کوئی صحت وصفائی کی ناگفتہ بہ صورت حال پر انگشت بدنداںہے۔ ان عوامی شکایات کو نظرانداز کر نے کا مطلب ہے کہ یاتو متعلقہ حکام ندائے خلق کو اہمیت نہیں دیتے ،یا وہ سرکاری شفاخانوں میں سدھار لانے سے قاصر ہیں ،یا خود شفاخانوں کی علالت سے ان لوگوں کے نجی مفادات وابستہ ہیں ۔ بہرحال متعلقہ حکام کو سرکاری شفاخانوں کے جملہ مسائل کو گھمبیر تا سے لینے چاہیں ۔ ایک عام شکایت یہ ہے کہ وادی کے بیشتر شفا خا نو ں میں ما ہر ین ِامرا ض آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، اس پر ستم یہ کہ ان میں طبی جانچ کرنے والی مشینیں اکثر جانتے بوجھتے ناکارہ بنادی جاتی ہیں تاکہ غریب مریض پرائیوٹ لیبارٹیوں کارُخ کریں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ نقلی ادویات کا چلن، دفتری اوقات میں پرائیوٹ پر یکٹس اور ناقص وغیر معیاری ادویات کے اسکنڈلز بھی بار بار منظر عام پر آ تے رہے ہیں ۔ ہیلتھ کئیر سیکٹر کے تعلق سے یہ رسوائے زمانہ قصے عام آ دمی کے منہ پر زوردارطما نچہ ہی کہلائے جا سکتے ہیں ۔ ان مسئلوں کا تدارک نہ کر نے سے عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ غریب مریضوں کے واسطے سرکاری ہسپتال اونچی دوکان پھیکا پکوان ہیں جہاں سے انہیں شفا کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ سرکا ری اسپتالوں کے بارے میں یہ عمومی شکایت یہ بھی ہے کہ یہاں کے سٹاف میںمریضوں سے کوئی ہمدردی نہیں پائی جاتی ۔ اس بنا پر بسا اوقات تیمار دار اپنا نزلہ ڈاکٹروں پر اُتار تے ہوئے اخلاق اور قانون کی دھجیاں اُڑا نے سے بھی نہیں کتراتے ۔اس صورت حال میں لگتا ہے جیسے مریض اور طبیب آپس میں حریف ورقیب ہوتے ہیں ۔ اس تاثر کو مٹانے کے لئے ضروری ہے کہ شفاخانے کے عملہ کو جہاں فرض شناسی اور ہمدردی کی خوراک پلائی جائے ، وہاں شفاخانوں کے اندر غنڈہ گردیاں روکنے کے لئے سیکورٹی کا بندوبست کرنا بھی ناگزیر ہے ۔ یہ نہ صرف نظم وضبط کی برقراری کا بنیادی تقاضا ہے بلکہ شفاخانوں میں حسن ِانتظام کا سرشتہ بھی اس صورت میں صحیح ڈگر پر چلایا جاسکتا ہے۔ سر کاری طبی ادارو ں میں پنپ رہے تمام مسئلو ں کاموثر حل اب زیادہ دیر ٹالا نہیں جانا چاہیے ۔ ا س ضمن میں اولین قدم یہ ہونا چاہیے کہ شفاخانوں کو جدید سے جدید تر طبی سہولیات اور مشنریو ں سے لیس کیا جا ئے ، د وم سرکاری طبی مراکز میں ڈا کٹرو ں اور نیم طبی عملے کی قلت کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جا ئے، سوم شفاخانوں کی کارکردگی بہتر بنا نے کے واسطے مانیٹر نگ کا مو ثر اور دیانتدارانہ نظام وضع کیا جائے،چہارم سر کا ری شفا خا نو ں میں مریض دوستا نہ کلچر کو متعارف کرایا جا ئے، پنجم اپنے پیشے سے صدق دلا نہ وفا کر نے والے ڈاکٹر صاحبان کی عز ت افزائی کھلے دل سے کی جا ئے، ششم طبی ونیم طبی عملے میں اپنے پیشے کے تقدس اور مریضوں سے پیار کا میٹھااحسا س دل میں جاگزیں کر انے کے لئے اصلاحی مہم چلائی جائے، ہفتم تیمارداروں کو تہذ یب سے آشنا کر ایا جائے، ہشتم ڈاکٹروں اور پرا میڈیکل سٹاف کو طبی مراکز میں مکمل احسا س ِتحفظ دلایا جائے۔ بہرصورت یہ محض شفاخانوں کی بات نہیں بلکہ تمام سرکاری ادارو ں کا رونا ہے کہ ا ن میںورک کلچر کا فقدان ہے ، سیاسی مداخلتیں ہیںا ورعدم جوابدہی کا روگ ہے، مگر بعض لو گ خصوصی طور شفاخانے میں داخل ہوتے ہی شعوراور صبر وبرداشت کادامن کہیں باہر ہی چھوڑجاتے ہیں۔ عام مشا ہدہ یہ بھی ہے کہ ایک بیما ر کے پیچھے جب تک درجن بھر تیماردار کسی ہسپتال کا رُخ نہ کر یں، اُس وقت تک اُن کو تسلی نہیں ہو تی۔ اس انوکھے طرز عمل سے اسپتالوں میں خوا ہ مخو اہ میلے ٹھیلے کا جیسا رَش جمع ہو نا قدرتی بات ہے۔ نتیجہ یہ کہ بھیڑ بھا ڑ سے علاج و معالجے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا ہو تی رہتی ہیں۔ مزیدبرآں دور دیہا ت کے اکثر لو گو ں میں عادت پائی جاتی ہے کہ کسی معمولی عارضے کے لئے بھی وہ اپنے مریض کونزدیکی شفا خا نے چھوڑ کر کے اسے بڑے ہسپتال میں لا کر ہی دم لیتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہ بات ثقہ طور بیٹھی ہو تی ہے کہ بیما ر بڑے شفا خا نے میں ہی تندرست ہو سکتا ہے ،حا لانکہ ضلعی، تحصیل،بلاک اور مقامی ڈ سپنسریو ں ، ہیلتھ سنٹروں میں بھی ان کے دوا دارو کی مطلوبہ سہو لیا ت دستیا ب بھی ہو تی ہیں۔ بنابریں اکثر بڑے ہسپتالوں پر مر یضو ں کا اژدھام بڑھنے سے ’ کچھ نہ دوا نے کام کیا‘ والا معاملہ بیماروں سے اکثر الاوقات پیش آ تا رہتاہے۔ اس صورت حال کو فوراً سے پیشتر بدلنے کی اشد ضرور ت ہے ۔ محکمہ صحت کو اس بابت ایک منظم تشہیری  اوربیداری مہم چلا نی چا ہیے اوراگر ضرورت پڑے تو سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اس کے لئے زیر استعمال لانا چاہیے۔ مختصر اًیہ کہ شفا خانوں کے اند ر اور باہر جو بھی مسا ئل مریضو ں ، تیمار دارو ں اور طبی ونیم طبی اسٹاف کو مشترکہ طور در پیش رہتے ہیں،ان کا ایسا تیر بہدف حل ڈھونڈ نکالا جائے کہ ہر شہری کے لئے صحت مند زندگی کی اُمید فروزاں رہے۔