تازہ ترین

تھنہ منڈی میں آوارہ کتوں کی ہڑبونگ

عام شہری پریشان، گزشتہ ایک ہفتے میں دو افراد زخمی

تاریخ    14 مئی 2022 (00 : 01 AM)   


عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی //سب ڈویژن تھنہ منڈی میں آوارہ کتوں کی ہڑبونگ سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیاہے۔ قصبہ تھنہ منڈی اور مضافات میں درجنوں آوارہ کتوں کی موجودگی سے مقامی آبادی کاجینا محال ہو گیا ہے ساتھ ہی اسکولی بچوں کو بھی اسکول آنے جانے میں خوف اور دہشت کا سامنا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ایک دو جگہوں پر بھیڑ بکریوں کو بھی ان آوارہ کتوں نے اپنا شکار بنایا ہے لیکن انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی آوارہ کتوں کو پکڑنے اور نس بندی کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق ہر گلی ہر کوچے میں درجنوں کتے ڈیرا جمائے بیٹھے رہتے ہیں جس کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین کو چلنے پھرنے میں کافی مشکلات اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ میں کریوٹ کے رہنے والے 9 سالہ بچے ابرار علی ولد محمد نصیر اور کالس کے رہائشی 35 سالہ محمد فاروق ولد غلام حسین پر آوارہ کتوں نے اچانک حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ مقامی لوگوں کی مدد سے متاثرہ افراد کو  بچایا لیا گیا جنہیں فوری طور میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا کیونکہ بد قسمتی سے ڈی ایچ سی تھنہ منڈی میں یہ ویکسین یا انجکشن وغیرہ دستیاب نہیں ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے کہا کہ یہاں اب انسانی جانوں سے زیادہ آوارہ جانوروں کی جانوں کی قیمت سمجھی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تھنہ منڈی میں آوارہ کتوں کی تعداد آئے روز بڑھ جانے کے نتیجے میں ہر گلی اور ہر نکڑ پر آوارہ کتوں کے جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دے رہے ہیںجس سے اسکولی طلباء بزرگوں اور خواتین کا گھر سے باہر نکلنا محال ہو چکا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی عائدکی گئی ہے لیکن آوارہ کتوں کے حملوں سے لوگوں کو بچانے کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ آوارہ کتوں کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے کنبوں اور ایسے افراد کی بازآباد کاری اور تحفظ کیلئے بھی ضروری اقدامات کریں جو آوارہ کتوں کی درندگی کے شکار ہورہے ہیں۔ اخبار کی وساطت سے عوام تھنہ منڈی نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔ اور مزید اس طرح کی پریشانیوں سے چھٹکارا مل سکے کیونکہ اس سے بچوں کی تعلیم پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔