تازہ ترین

ہائی سکول کیری کانگڑھ میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی 7اسامیاں خالی

۔ 250کے قریب بچوں کیلئے محض 4کمرے ،پانی ودیگر سہولیات بھی دستیاب نہیں

تاریخ    14 مئی 2022 (00 : 01 AM)   


جاوید اقبال
 مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے سرکاری سکولوں میں جہاں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں وہائیں سکولوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت و بچوں کے بیٹھنے کیلئے جگہ بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا تدریسی عمل شدید متاثر ہورہا ہے ۔مقامی لوگوں بالخصوص والدین نے محکمہ ایجوکیشن اور جموں وکشمیر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کئی ہائی اورمڈل سکولوں میں ہیڈ ماسٹروں کی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ مینڈھر سب ڈویژن کے گورنمنٹ ہائی سکول کیری کانگڑھ میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی 7اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن میں ہیڈ ماسٹر کی کرسی جولائی 2021سے خالی ہے ۔اسی طرح سکول میں سے ایک ٹیچر کو پونچھ ڈائٹ میں اٹیچ رکھا گیا ہے جبکہ ایک لیبارٹری اسسٹنٹ کو گرلز سکول ہرنی میں اٹیچ کیا گیا ہے ۔والدین نے بتایا کہ سکول میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے صرف 4قابل استعمال کمرے ہیں جس کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم بچوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہاہے ۔انہوں نے بتایا کہ جگہ کی قلت کی وجہ سے بارشوں میں تعلیمی نظام بُری طرح سے متاثر ہوتا ہے ۔غور طلب ہے کہ ہائی سکول کیری کانگڑ ھ میں اس وقت پینے کے صاف پانی کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے سکول میں پانی کا کنکشن دیا گیا تھا لیکن محکمہ کے ملازمین کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے سکول میں پانی جیسی بنیادی سہولیات کی قلت پائی جارہی ہے جبکہ بچے گھروں سے خود ہی پینے کیلئے پانی لانے پر مجبور ہیں ۔اس وقت ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر کی اسامی خالی ہونے کیساتھ ساتھ ماسٹروں کی 3اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جبکہ ٹیچر کی 1،لیبارٹری اسسٹنٹ کی 1اور جونیئر اسسٹنٹ کی ایک پوسٹ خالی پڑی ہوئی ہے ۔والدین نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے ہائی سکول کیری میں خالی پڑی ہوئی اسامیوں کو جلدازجلد بھرنے کیساتھ ساتھ بچوں کیلئے بنیادی سہولیات دستیاب کروائی جائیں ۔