تازہ ترین

پنڈت ملازم کی ہلاکت کے خلاف دوسرے دن بھی احتجاج

وادی بھر میں مسلمان بھی ریلیوں میں شامل،لوگوں کی بھاری شرکت،بڈگام میں پُر تشدد مظاہرے

تاریخ    14 مئی 2022 (00 : 01 AM)   


ارشاد احمد +عارف بلوچ+شاہد ٹاک+خالد جاوید
 بڈگام +اننت ناگ+شوپیان+کولگام// چاڈورہ قصبے میں گذشتہ روز مشتبہ ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں راہل بھٹ نامی پنڈت کی ہلاکت کے خلاف جمعہ دوسرے دن بھی وادی  اور جموںکے مختلف مقامات پر احتجاجوں کا سلسلہ جاری رہا۔شیخ پورہ پنڈت کالونی میں رہائش پذیر پنڈت برادری کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجیوں میں زن و مرد شامل تھے اور وہ جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ احتجاجیوں نے ائر پورٹ روڈ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس کو وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے کچھ آنسو گیس کے گولوں کا استعمال اور معمولی نوعیت کا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ پہلے وہ کالونی میں ہی احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تھے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب وہ نہیں آئے تو باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے ۔ان کا الزام تھا کہ سرکار انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔احتجاجیوں نے کہا کہ وہ کالونی میں کسی حد تو محفوظ ہیں لیکن باہر دفتروں یا کام کے دوسرے جگہوں پر بالکل محفوظ نہیں ہیں۔ کپوارہ میں بھی جمعہ کے روز پنڈت برادری کے لوگ کپوارہ سرینگر شاہراہ پر جمع ہوئے اور راہل پنڈت کے قاتلوں کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے ۔
اس موقع پر احتجاجیوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمیں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہمارا قصور کیا ہے ۔ایک احتجاجی نے راہل کے قاتلوں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مار نے سے امن کے دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور وسطی ضلع گاندربل میں بھی پنڈت برادری کے لوگوں کی طرف سے احتجاج درج کیا گیا۔ویسو قاضی گنڈ ، بارہمولہ اور مٹن میں بھی پنڈتوں نے مظاہرے کئے۔اننت ناگ میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین، ٹریڈرس انجمنوں اور سیول سوسائٹی اراکین نے لال چوک سے ڈی سی آفس تک ریلی نکالی ۔ شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور لال چوک میں موم بٹیاں جلا کر اپنا احتجاج درج کیا۔ادھر جانی پور جموں میں کشمیری پنڈتوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔بعد میں ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ اور ڈپٹی کمشنر جموں اوینی لاوسا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے راہول بھٹ کی آخری رسومات میں شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کشمیری پنڈتوں نے کہاکہ وادی میں تعینات کشمیری پنڈت ملازموں کو فوری طورپر سیکورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی کیمپوں ، پولیس تھانوں کے نزدیک ہی کشمیری پنڈتوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ شر پسند عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایاجاسکے ۔کشمیری پنڈتوں نے بتایا کہ ہمیں ٹارگیٹ کلنگ کا نشانہ بنا یاجارہا ہے اور انتظامیہ نے اس حوالے سے معنی خیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ادھر شوپیان میں جمعہ کی شام شمع مارچ نکالا گیا جس میں سماجی کارکن نے واقعہ کی مذمت کی۔
کولگام میں شام دیر گئے مقامی لوگوں، جن میں مرد و خواتین شامل تھیں، سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوئے اور انہوں نے قصبے کے مارکیٹ سے ریلی نکالی۔ احتجاجی لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور موم بتیاں اٹھائی تھیں۔بعد میں انہوں نے دھرنا دیا اور ہندو مسلم بھائی چارہ کے حق میں نعرے بازی کی۔ادھرکپوارہ کے نطنوسہ علاقہ میں کشمیری پنڈتو ں نے ہلاکت کے خلاف زور دار احتجاج کیا۔جمعہ کے روز نطنوسہ علاقہ میں قائم پنڈت کالونی میں رہا ئش پذیرکشمیری پنڈتو ںنے سرینگر کپوارہ شاہراہ پر دھرنا دیا اور پنڈت ملازم کی ہلاکت کے خلاف زور دار احتجاج کیا ۔انہو ںنے نعرہ بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس قتل میں ملو ث قاتلو ں کو سزا دی جائے اور مطالبہ کیا کہ کشمیری پنڈتو ں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر خالد جہانگیر ،ایس ایس پی کپوارہ یوگل منہاس اور تحصیل دار نذیر احمد نطنوسہ پہنچ گئے اور دھرنے پر بیٹھے کشمیری پنڈتو ں سے بات کی ۔ادھر ٹنگمرگ میں مختلف ٹریڈ یونینوں کے ذمہ داروں نے موم بتیاں روشن کرکے احتجاج کرتے ہوئے چاڈورہ میں بے گناہ کشمیری پنڈت ملازم کی  وحشیانہ ہلاکت کی مذ مت کرتے ہوئے ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔