تازہ ترین

منشیات۔اُبھرتی جوانیاںتباہی کے دہانے پر!

ہیروئین کے استعمال کی وبائی صورت ِ حال !!

تاریخ    14 مئی 2022 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹرامتیازعبدالقادر،بارہمولہ
رات کے اندھیرے میںصبح کی بات تاریکی کوناگوارگزرتی ہے۔ باضمیر نفوس اندھیرے سے ہمیشہ ملول رہے ہیں اورانہوںنے سینکڑوں اندھیرے دریافت کئے ہیں،جن سے اُمتِ مسلمہ صدیوںسے نبردآزما ہے۔ لیکن افسوس کہ اکثریت فقط زوال کارونا روتی ہیں۔ کام کیسے اورکہاںسے شروع کریں، لب خاموش،عقل زنگ آلود!
مولاناحسین احمدمدنیؒ سے کچھ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ایک بارمولانا ؒ ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ سامنے والی نشست پرایک بڑے شائستہ اور’نستعلیق‘ سوٹ بوٹ والے صاحب تشریف فرماتھے۔ ابتدائی گفتگو ہوئی اورسُوٹ بوٹ والے ’انگریز نما‘ صاحب کومولوی صاحب بڑے دقیانوسی اورقوم کی پسماندگی کی دلیل نظرآئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، کافی دیرسکوت چھایا رہا،صرف ٹرین کی رفتار کااحساس ہلنے جھلنے سے ہوتارہا۔ کچھ دیربعد سُوٹ والے صاحب کوبیت الخلاء کی حاجت ہوئی ۔ حاجت بشری کے لئے بیت الخلاء کادروازہ کھولتے ہی انہوںنے ناک پررومال رکھ لیا اورجھٹ سے دروازہ بندکرکے واپس اپنی نشست پرآبیٹھے۔’’بیت الخلاء میںکسی بے ہودہ شخص نے غلاظت پھیلادی ہے‘‘ صاحب نے ناک بھوں چڑھا کرتنفرانہ لہجہ میںبڑبڑایا، واقعی کوئی نفاست پسندشخص وہاں ناک نہیںدے سکتاتھا۔ صاحب کی ضرورت شدید ہوئی تووہ پھر سے نشست سے بے قابو ہوکر’’منزل مقصود‘‘کی طرف چل پڑے لیکن دروازہ واکرتے ہی کراہت لوٹ آئی ،اس لئے اندرجانے کی ہمت نہ کرسکے۔ شکستہ پااورٹوٹی امیدوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ تین چاربارقصدکیا لیکن نامرادلوٹے۔اب مولاناحسین احمدمدنی ؒاُٹھے۔لوٹا ہاتھ میں لیا اوربلاجھجک بیت الخلاء میںداخل ہوکردروازہ اندر سے بندکرلیا۔ صاحب نے ایک مولوی کی اس بے حسی پرناک منہ بنایا، اُنہیںیوںبھی کسی مولوی سے تہذیب وتمیزکی اُمیدنہ تھی۔
دس پندرہ منٹ بعدمولانابیت الخلاسے برآمد ہوئے اورسُوٹ والے صاحب سے مخاطب ہوکر گویاہوئے’’واقعی اندر بے حدغلاظت تھی اوروہاں جاناآپ کی نفاست پسندطبیعت سے بعیدتھا،مگر آپ کی سخت ضرورت دیکھ میں نہ رہ سکا۔میںنے بیت الخلا کوخوب اچھی طرح دھوکرصاف کیاہے،اب آپ اطمینان سے جاسکتے ہیں۔‘‘
بات غلاظت کوصاف کرنے کی ہے۔ چاروںطرف زوال ، انحطاط ،نکبت، عیاشی، افلاس،جھوٹ، فریب، زراندوزی،منشیات کی غلاظتوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ ہرشخص توناک پرہاتھ رکھ کر گھر میںجابیٹھتاہے۔ کوئی توجہ دِلائے تولوگ اس کے سرہوجاتے ہیں۔ مولانا حسین احمدمدنی ؒ کودارِفانی سے کُوچ کئے ہوئے تقریباً ۶۵برس گزرگئے، ورنہ اُنہی کو اس کام پرلگاتے۔اب کرناہے تواپنے’سُوٹ بوٹ‘اُتارکریہ کام خودہی کرناہے۔ یاپھر دیکھناہے کہ کوئی حسین احمد اس قسم کے کام میں کہیںلگاہواہے،ورنہ شکایتوں کادفتربند کرکے اپنے ’سوٹ‘ کی کریز دُرست کرتے رہیے یاپھر مصلاّ بچھا کر ، دست دراز بلندکرکے دعاکریں کہ ’مَردے ازغیب بروں آید و کارے بکند‘(یعنی غیب سے کوئی مردنمودار ہواورکام کرگزرے۔)
انسان کوجن نعمتوںسے نوازاگیاہے،اُن میںایک عقل ودانائی بھی ہے۔قانونِ اسلامی کے ماہرین اورفلاسفہ نے لکھاہے کہ شریعت کے تمام احکام بنیادی طورپرپانچ مقاصدپرمبنی ہیں۔دین کی حفاظت،جان کی حفاظت،نسل کی حفاظت،مال کی حفاظت اورعقل کی حفاظت۔گویاعقل اورفکرونظرکی قوت کوبرقراررکھنااوراسے خلل اورنقصان سے محفوظ رکھنااسلام کے بنیادی مقاصدمیںسے ایک ہے۔چنانچہ اسلام میںجن کاموںکی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اورجن سے منع فرمایاگیاہے،اُن میںایک نشہ کااستعمال بھی ہے۔قرآن نے نہ صرف یہ کہ اس کوحرام بلکہ ناپاک قراردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشادہے:
ترجمہ:’’اے ایمان والو!شراب اورجوااوربت اورفال کے تیرسب شیطان کے گندے کام ہیں،سوان سے بچتے رہوتاکہ تم نجات پائو۔ ‘‘ (المائدہ:۹۰)
انسان کاسب سے اصل جوہراس کااخلاق وکردارہے۔نشہ انسان کواخلاقی پاکیزگی سے محروم کرکے گندے افعال اورناپاک حرکتوںکامرتکب کرتی ہے۔احادیث میںبھی اس کی بڑی سخت وعیدآئی ہے اورباربارہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری صفائی اوروضاحت کے ساتھ اس کے حرام اورگناہ ہونے کو بتایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واالہ وسلم نے فرمایا:’’ہرنشہ آورچیزحرام ہے۔‘‘(بخاری۔عن عائشہؓ) 
سورۃالمائدہ آیت ۹۰ میں ’خمر‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو خاص طور سے قابل توجہ ہے۔’ ’خمر‘ ‘عربی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ اس لفظ کے بارے میں حضرت عمرؓ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ’ ’خمر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔‘‘ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ شراب اور عقل میں کیا تعلق ہے۔ وہی اِس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے کسی مخصوص قسم کی شراب ہی کو حرام نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس کے دائرے میں ہر وہ چیز شامل ہے جو نشہ آور ہو اور انسان کی سوچنے سمجھنے کی قوت کو زائل یا متاثر کر دے۔
نشہ کاسب سے بڑانقصان صحت کوپہنچتاہے۔اطباءاس بات پرمتفق ہیںکہ شراب ودیگرمنشیات ایک سُست رفتارزہرہے،جوآہستہ آہستہ انسانی جسم کوکھوکھلااورعمرکوکم کرتاجاتاہے۔انسان کی زندگی اس کے لئے امانت ہےاورنشہ کا استعمال اس امانت میںخیانت کے مترادف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو’’ام الخبائث‘‘(نسائی)اور’’ام الفواحش‘‘(ابن ماجہ)قراردیاہے۔ایک موقعہ پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:’جیسے درخت سے شاخیںپھوٹتی ہیں؛اسی طرح شراب سے برائیاںجنم لیتی ہیں۔‘(سنن ابن ماجہ،عن خبابؓ) 
وادی کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور اسلام میں منشیات کا استعمال حرام قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس برائی کے خاتمے کے لئے مذہبی مبلغین کواپنی توانائیاںصرف کرنی چاہئے۔وقت کاتقاضاہے کہ فروعی مسائل میںقیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے ترجیحاتی بنیادوںپراس سُلگتے ناسورپرغوروفکرکرکے نسلِ نوکی حفاظت وآبادکاری کے اقدامات اٹھائےجائیں۔ہرمکتبِ فکرکے مبلغین ، ائمہ مساجد و دیگر دینی تنظیموں کو اس سلسلے میں حساس ہونے کی ضرورت ہے اور مطلوبہ نتائج جلد حاصل کرنے کے لئے ان کے اثر و رسوخ سے پورا فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے:’’ شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے ؛سب پر اللہ کی لعنت ہو۔‘ ‘( ابودائود:۳۶۷۴)غرض نشہ جسمانی ،مالی،سماجی اوراخلاقی ہرپہلوسے انتہائی مضرت رساںچیزہے۔اس وقت نوع بنوع منشیات کی کثرت اوراس کے استعمال میںجوعموم پیداہورہاہے،وہ حددرجہ تشویشناک بات ہے۔
  جموںوکشمیرمیںمنشیات کی وباء :
سرکاری اعدادوشمارکے مطابق جموںوکشمیرمیںچھ لاکھ افرادیعنی آبادی کا4.5فیصدحصہ اس لَت میںمبتلاہے۔منشیات کے متاثرین میں ۹۰ فیصد سے زیادہ کی تعداد ۱۷ سے ۳۳ سال کے عمر کے نوجوانوں کی ہے ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق اسپتال میں آنے والے منشیات کے مریضوں کی تعداد میں ۲۰۱۴ ؁سے  ۲۰۲۱؁ تک ۱۰۰ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ کشمیر کے اسپتالوں میں ۲۰۲۱؁ میں منشیات کے مریضوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال(SMHS)سرینگر میں قائم منشیات کے مریضوں کی خدمت کے لئے وقف ادارہ میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کہ منشیات کے نتائج سے پیدا شدہ صورتحال بد سے بد تر ین شکل اختیار کر رہی ہے ۔ معاملہ صرف شراب نوشی کا نہیں ہے جس کی تقریباً ۲۰ کروڑ سے زیادہ بوتلیں ہر سال جموں و کشمیر میں استعمال کی جاتی ہیں بلکہ نت نئی قسم کی منشیات نے نئی نسل کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں درونِ نس نشے(Intravenous Heroin ) میں ۳۴۰ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ڈاکٹر یاسر راتھر جو کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے Drug De-Addiction سینٹر کے ناظم ہیں ،کا کہنا ہے کہ’’ نئی قسم کے Heroin کا بڑھتا استعمال منشیات کے وباء میں ایک نئی وباء کا آغاز ہے،جس کے نتائج Hepatitis اور AIDSسے بھی خطرناک ہیں ۔‘‘ جموں کشمیر میںافیوم ( (Opium کا استعمال لاکھوں کی تعدادمیں لوگ کررہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ منشیات کی بدعت ہمارے اطراف و اکناف میں پھیل چکی ہے اور تقریباً ہر علاقے میں منشیات کادھندہ کرنے والوں کا ایک مافیا  نیٹ ورک وجود میں آچکا ہے جو پیسوں کی لالچ میں نوجوانو ں کو اپنے مذموم منصوبوں کا شکار بنا رہے ہیں ۔ منشیات کا گھنائونا دھندا کرنے والے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی لالچ میں سماج کو اخلاقی ، معاشی، سماجی، معاشرتی ، نفسیاتی اور جسمانی طور اپاہچ بنا دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے منشیات سے دماغ مریض ہو جاتا ہے اور جسم و روح اپنی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر سماج میں بے اخلاقی ، بے راہ روی ، چور ی و ڈاکہ، گھریلو تشدد، غنڈہ گردی اور سماج مخالف حرکتیں عروج کو پہنچتی ہیں ۔ ایسے سماج میں نہ بزرگوں کی عزت محفوٖظ ہے اور نہ خواتین کی عصمت بلکہ یہ سماج انسانیت کا دشمن قرار پاتا ہے ۔ 
ایسی صورتحال میں وقت آگیا ہے کہ منشیات کے خلاف صف آرا ہوا جائے اور ایک منصوبہ ساز طریقے سے ایک اجتماعی لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ اس طوفانِ بدتمیزی کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ سماجی اداروں اور حکومت پر زور دیا جائے کہ وہ منشیات کے فروغ کو روکنے میںموثر اقدامات کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا جائے کہ ڈرگ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے ۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر ان کے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں ، ان کے ذہنی بوجھ کو ہلکا کریں، ان کو منشیات کے نقصان سے آگاہ کریں اور اگر کوئی اس وباء کا شکار ہوا ہے تو انہیں ضروری رہنمائی فراہم کریں۔میڈیابھی سماج کے تئیںاپنے فرائض کاادراک کرکے منشیات کا دھندا کرنے والوں کوبے نقاب کرے اور ان کے عزائم سے پردہ کشائی کرے ۔ 
مذہبی تنظیموں اور ائمہ کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سماج کے سامنے اسلا م کا نقطہ نظر پیش کریں۔ او رانہیں بتائیں کہ اسلام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے ۔ انسان کا اصل جوہر اس کے اخلاق اور کردار ہیں اور منشیات انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندگی اور ناپاکی میں دُھنسا دیتے ہیں۔مسلمانوں کو بتا یا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جس شئے کی زیادہ مقدار نشے کی باعث ہو، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ (ترمذی)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منشیات کے ساتھ ساتھ ایسی چیزوں سے بھی منع فرمایاہے جو جسم کے فتور کا باعث ہوں ۔(ابو دائود)  
مغربی ممالک میں منشیات نے خاندانی نظام کو توڑ دیا ہے ، سماجی روابط کو کمزور کردیا ہے، رشتوں کو بکھیر دیا ہے اور عوام کو ذہنی و قلبی سکون سے محروم کر دیا ہے ۔ اتنی تباہ کاریوں کے باوجود مشرق کے لوگ بالخصوص نوجوان نشے کو مغربی فیشن کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جمعہ کے خطبوں اوردیگر دینی مجالس میں سماج کو منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیاجائے اور عوامی بیداری کی ایک مہم چلائی جائے۔ وہ لوگ جو منشیات کے پھیلائو میںممدو معاون ہیں، اُن کے ہاتھ روک دیے جائیں اور نوجوان نسل کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ شروع کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ جمعہ کے موقعہ پر عوام ہمارے باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں عوام کو بتانا چاہئے کہ منشیات کے سنگین مسئلے سے نپٹنے کے لئے انفرادی کاوشیں کار گر ثابت نہیں ہو سکتیں ۔لھٰذاتمام سماجی و انتظامی اداروں کو مل جُل کر کام کرکے اس وباء کو جڑ سے اُکھاڑنے میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔ 
غیرمسلم برادری بھی اس سوسائٹی کاجزوِلاینفک ہیں اوریہ وباان کے گھروںمیںبھی دستک دے چکی ہے۔نیکی کے اس کام میںانہیںبھی اجتماعی فوائدکاادراک کرکے منشیات کے خلاف منظم طریقے پر صف آراہونے کی ضرورت ہے۔ہرمذہب اورانسانیت کاہرسبق نشہ کوغلیظ وناپاک تصورکرتاہے۔سکھ مذہب میںنشہ کرنے کی ممانعت ہے(سکھ خالصا)۔ہندومت میںبھی اس کی ممانعت کاحکم موجودہے۔رِگ ویدمیںنشہ کرنے والے کوگناہ گار تصور کیاگیاہے۔(۶۔۵۔۱۰)
پایسی سازاداروںکومنشیات کے خاتمے کے لئے سخت ترین قوانین بنانے ہوںگے اوران پرعمل کرناہوگا۔ہماری نوجوان نسل ہی ہمارے مستقبل کااثاثہ ہے۔اپنی بقاکے لئے ہمیںاس قیمتی اثاثہ کوکسی بھی حال میںبچاناہوگا،اسی میںہماری خوشحالی اورترقی کارازپنہاںہے اوراللہ کی بارگاہ میںخلاصی کاایک سبب بھی۔
ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ نے ۸مئی سے ۱۴مئی۲۰۲۲ء تک منشیات کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیاتھا، جس میں اس میدان کے ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرکے اسکولوں او ر کالجوں میں منشیات مخالف آگاہی عام کی گئی ۔ مہم کے دوران سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے منتظمین ، صحت عامہ سے وابستہ افراد ، نوجوانوں اور خواتین انجمنوں کے ساتھ بھی بات ہوئی۔یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے اور اللہ کے حکم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تقاضا بھی ہے کہ سماج میں بڑھتی منشیات کی وباء ہمارا موضوع بنے۔