تازہ ترین

آہ تنویر بھائی!

(یادیں)

تاریخ    29 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


حافظ خورشید عالم خان
 10 دسمبر 2021 کی شبِ جمعہ تنویر احمد قریشی ایک سڑک حادثے میںانتقال کر گئے۔ یہ المناک حادثہ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر رات کے ایک بجے اس وقت پیش آیا جب وہ تبلیغی جماعت کے ریاستی مشورہ میں شرکت کے لیے جموں جا رہے تھے ۔ان کے ہمراہ تین تبلیغی ساتھی اوربھی تھے جو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کئے گئے۔ان میں سے امتیاز احمد دس روز بعد ہسپتال میں وفات پا گئے۔
تنویر احمد قریشی اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے، اس لیے انہیں سب بھائی جان کہہ کر پکارتے تھے۔وہ مجھ سے عمر میں سات برس چھوٹے تھے۔میری اہلیہ کے چچا زاد اور دودھ شریک بھائی تھے۔ ان کے والد محترم فضل الرحمن قریشی ہیں جو نہایت ہی شریف، منکسر المزاج اور صابر و شاکر ہیں۔تنویر بھائی کے آباء و اجداد علماء و فضلاء تھے ،جن کاآبائی وطن ایبٹ آباد ہے۔تقسیم ریاست سے قبل علاقہ کرناہ میں اس خاندان نے مذہبی پیشوائی کی۔اپنی دینی خدمات کے پیش نظراس خاندان کو علاقہ میں بلند مقام حاصل ہے۔ تنویربھائی کی ولادت 28مارچ 1980 ء کو کنڈی کرناہ میں ہوئی۔لیکن ان کا بچپن بمہامہ کپواڑہ میں گزرا ۔
دینی ماحول تنویربھائی کو ورثے میں ملا تھا۔ والد ین صوم و صلوۃ کے نہایت پابند ہیںاوردینی کاموں سے رغبت رکھتے ہیں ۔ اس لیے انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت  مناسب طور پر کی۔ تنویربھائی کے دینی رجحان میں اُس وقت بڑی تبدیلی رونما ہوئی جب وہ دینی جماعت دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہوئے۔وہ دعوت و تبلیغ سے اس عمر میں جڑ گئے تھےجونوجوانوں کے کھیلنے کودنے اور موج مستی کا زمانہ ہوتا ہے۔اس جماعت سے وابستگی میں وہ اپنے ماموں جان قاضی محمد فاروق صاحب سے بے حد متاثر ہوئے۔ قاضی فاروق صاحب کی فکر اور آہ سحر گاہی نے اُنہیں اس کام میں ایسا لگایا کہ بھائی جان نے پھر واپس مڑ کر نہیں دیکھا۔
  تنویربھائی کی خوش بختی کہ اُنہیں آغاز ہی میں تبلیغی جماعت کے زعماء سے قربت میسر ہوئی۔دعوت و تبلیغ کے ریاستی امیر محترم امیر الدین (المعروف پریز صاحب) ضلع کپواڑہ کے سابق امیر مرحوم محترم پیر شمس الدین صاحب،مولانا منیر احمد صاحب پونچھ،پیر صدیق احمد صاحب اور دوسرے اکابرین جماعت کی صحبت نے ان کے دعوتی مزاج کو جِلا بخشی۔ محترم قاری محمد حسین دانش،مفتی مظفر حسین اور دیگر علماء کے پاس اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ مولانا مفتی مسرور احمد اور مولانا مظفر جمیل سے بھی کافی تعلق تھا۔اکثر سال لگانے والے علماء کی جماعتوں میں انہیں وقت لگانے پر مامور کیا جاتا تھا۔
 تنویربھائی نے صرف بارہویں جماعت تک سکولی تعلیم حاصل کی۔پھر دعوت و تبلیغی سر گرمیوں نے انھیں موقع ہی نہیں دیا کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرسکیں۔البتہ گزشتہ چند برسوں سے پھر دینی علم کے حصول کی طرف متوجہ ہوئے اور مولانا محمد الیاس گھمن کے چلائے جارہے آن لائن کورسوں میں شامل ہو کر فضیلت کےآخری سال میں تھے کہ وقت موعود آ پہنچا۔انہوں نے عربی زبان کی آن لائن کلاسوں کا سلسلہ بھی شرو ع کیا تھا جس میں مرد و خواتین نوجوانان ِملت عربی زبان سیکھ رہے تھے۔عربی زبان کی تدریس سے پہلے وہ دینی و دعوتی ذہن سازی بھی کیا کرتے تھے تاکہ نوجوانوں میں دینی مزاج پیدا ہو سکے۔ تنویربھائی ایک ایسے سکول کے قیام کے بارے میں بڑے متفکر تھے جہاں میعاری سکولی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم دی جائے اور دعوتی مزاج پیدا کیا جائے۔ اس بارے میں ان سےاکثر بات ہوتی رہتی تھی۔لیکن ان کے وسائل محدود تھے جن کی وجہ سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکے۔ وہ اپنےگھر کے بچوں کو عربی زبان سکھاتے تھے جو ابھی با لکل ابتدائی مراحل میں تھی۔
 تنویربھائی کی اصل فکر دعوت و تبلیغ کا کام تھا۔یہ کام قربانیوں کا متقاضی ہے۔رات دن ایک کر کے دعوت کے تقاضوں کو پورا کرنا،بس تنویربھائی کے حصے میں آیا تھا۔ مشورے میں جس بھی تقاضے کا بوجھ اُن پر ڈالا جاتا،وہ اسے پورا کرتے۔ انہوں نے کبھی بھی مشورے میں پیش ہونے والے تقاضوں سےراہ ِفرار اختیار نہیں کی۔کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی مشورے یا جماعت میں متعینہ وقت دینے کے بعد گھر آئے۔اہل خانہ سمجھے کہ اب بھائی جان آگئے ہیں گھریلو کام کاج سنبھال لیں گے۔ لیکن جب وہ یہ کہتے کہ مشورہ میں مزید تقاضا سامنے آیا ہےاور میں نے پھر سے جانے کی ذمہ داری اُٹھا لی ہے توسب حیران ہو جاتے۔ تنویر بھائی کے والدین اور اہلیہ خود بھی دعوت سے حد درجہ وابستہ ہیں۔اس لیے زیادہ لے دے نہیں ہوتی تھی۔لیکن ان کے گھریلو کام حد درجہ متاثر ہوتے تھے۔ کبھی والدین یاکوئی اور رشتہ دار گھریلو کاموں کی فکر کرنے کی طرف متوجہ کرتا تو اکثر ان کا یہ جواب ہوتا کہ میرے پاس اتنا وقت کہاں ہے۔
 تنویربھائی نے اپنا سارا وقت دعوت کے کام کے لیے وقف کردیا تھا۔ وہ معاشی وسائل کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے سکے تھے۔ درویشانہ مزاج کے حامل تھے۔مکان کے رنگ وروغن اورٹھاٹ باٹ کے بالکل قائل نہ تھے۔والدین نے جو مکان تعمیر کیا تھا اُسی میں بود وباش تھی۔والدین ہی گھریلو اخراجات برداشت کرتے تھے۔ تنویر بھائی نے جو معاشی وسائل اختیارکئے، ان کی جانب پوری توجہ نہ دے سکے۔ کمائی کا بڑا حصہ دعوتی اسفار پر خرچ ہوتاتھا۔انہوں نے بیرونی ممالک جنوبی افریقہ اور حبشہ کا دعوتی سفر بھی کیا تھا۔ حبشہ کے سفر میں ان کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں جو عالمہ ہیں۔اس سفر کے بعد عمرہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی جبکہ حج بیت اللہ کی سعادت جوانی کی عمر میں 2006 ء میںنصیب ہوچکی تھی۔ سفر حج میں ان کی چھوٹی ہمشیرہ بھی ساتھ تھیںجو دعوتی مزاج رکھتی ہیں۔ تنویر بھائی اب امریکہ کے دعوتی سفر کی تگ ودو میں تھے کہ وقت موعود آ پہنچا۔وہ اس سفر کے لیے لگ بھگ گھر سےنکل چکے تھے کیو ں کہ انھیں جموں میں رک کر اس جماعت کی سفری تیاریاں اور وصولی کرنی تھی۔
 تنویربھائی کی نماز جنازہ میں جم غفیر تھا۔ علماء و صلحا کے علاوہ نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نماز جنازہ قاری محمد حسین دانش مد ظلہ نے پڑھائی۔تین دن تک تعزیتی مجلس گویا دعوتی مجلس بن گئی، جس میں محترم امیرالدین صاحب ،محترم مفتی مظفر حسین قاسمی،مولانا بشیر الدین ،مفتی محمد سلطان قاسمی اور دیگر علماء نے فلسفہ مو ت و حیات پر گفتگو کی اور تنویربھائی کی دینی خدمات کو سراہا۔ اللہ تنویربھائی کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
   رابطہ 8491096996
hafizkhurshid18@gmail.com
بد ہضمی
(انشائیہ )
 
منتظر شبیر
 
‌موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں میں بدلاو دکھائی دیتا ہے یعنی موسمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان میں کمی پیشی ہوتی رہتی ہے ۔اس قسم کا ایک مرض ہے جو سرما کے موسم میں بڑھ جاتا ہے ۔بخاری،حمام اور کانگڑی لے کر ایک ہی جگہ پر گرم ماحول میں بیٹھنا اس طرح کے مریضوں میں قدرے اضافہ کر دیتا ہے ۔جی ہاں! یہ مرض بدہضمی کا مرض کہلاتا ہے ۔کھانے پینے کے زاویے یا نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ صرف کھٹا میٹھا،نمکین اور تیکھا ہی نہیں بلکہ زندہ مردہ سب ڈکار لئے بناء ہی ہضم کر جاتے ہیں ۔البتہ جس چیز کی بدہضمی انہیں لاحق ہوتی ہیں، وہ رازداری کی ہوتی ہے ۔اس قبیل کے امراض کسی راز،پوشیدہ بات یا کسی کےعیب کو سینےمیں لئے زیادہ دنوں تک جی نہیں سکتے اور جب تک وہ کسی کے عیب یا کسی کی باتیں دوسرے خدا کے بندوں تک پہنچانے میں کامیابی حاصل نہیں کرتے ،ان کی بد ہضمی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ان کا پیٹ پھولتا ہے اور بناء اَن لوڈ کے ان کا کسی کام میں جی نہیں لگتا ۔ایک زمانہ تھا جب اس مرض میں عورتوں کی شرح بہت زیادہ ہوا کرتی تھی مگر جب سے برابر حقوق کا نعرہ گونجا تب سے عورتیں مردوں سے اور مرد عورتوں سے ہر معاملے میں سبقت لینے لگے، اس لئے بدہضمی کے اس مرض میں اب مرد حضرات بھی برابر کے شراکت دار بن گئے ۔
‌اگرچہ مختلف شعراء،ادباء اور عالموں و دانشوروں نے دین و دنیا کی روشنی میں اس رازداری پر لب کشائی فرمائی ہے اور اسے دل سے جوڑا ہے مگر ہاضمے کے اس قسم کے مریض جب کسی کا راز جان لیتے ہیں ،جب کسی کے عیب کی انھیں جانکاری ملتی ہے یا سُنی اَن سُنی کوئی بات ان کے گوشوں تک پہنچتی ہے تو وہ دل میں نہیں بلکہ انہیں پیٹ میں لئے پھرتے ہیں اور جب تک وہ اپنے زبان و دہن سے کسی مجلس میں یا کسی فرد کے سامنے اس کو اَنلوڈ نہیں کرتے، وہ دست،قے اور مروڑ جیسی علامتوں کا شکار ہو جاتے ہیں، ان باتوں کو پیٹ میں لئے وہ غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں ۔اگر ان کا میڈیکل چیک اَپ بھی کرایا جائے تو ثابت ہوگا کہ ان کے پیٹ کے اوپر والے حصے میں معدے میں جلن ،تیزابیت اور گیسس ہوتے ہیں اور ان کا یہ درد بھی بڑھتا ہی جا تا ہے ۔اسے ڈاکٹری زبان میں بد ہضمی ہی کہتے ہیں اور اغلب ہے کہ اس قسم کی بد ہضمی میں آپ کا فیملی ڈاکٹر بھی ملوث ہو سکتا ہے ۔جونہی یہ مریض اَنلوڈ کرتے ہیں انہیں قلب سکون اور پیٹ کو آرام ملتا ہے اور یہ معمول کے مطابق پھر سے اپنی کھوج میں لگ جاتے ہیں ۔‌ایک اور بات ۔بدہضمی کے اس مرض نے اس قسم کے مریضوں کی طبیعت میں ایک اور چیز کو فروغ دیا ہوتا ہے اور وہ چیز ہے دلبدلی۔ _کئی لوگ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے دلبدلی کو ایک اور روگ یا مرض کے بجائے  ایک اور چیز کیوں لکھ دیا ۔اگر ایسا ہے تو میں بتاتا جائوں کہ دل بدلی کو مرض لکھ کر کیوں اپنی حب الوطنی کو مشکوک بناتا جائوں ۔دل بدلی کوئی مرض یا روچ نہیں ہے۔ہمارے یہاں کے باکردار اور ذی عزت سیاستدانوں کے نزدیک دلبدلی جمہوریت،آزادی،دوراندیشی اور کامیابی کے اوصاف مانے جاتے ہیں ،اس لئے ان باکردار سیاستدانوں کی طرح ہمارے یہ غیر سیاسی باکردار بد ہضمی کے مریض اپنی ہر دلعزیزی کا ثبوت دیتے ہوئے دل بدل کر اپنے سابقہ ساتھیوں اور احباب واقارب کے سیاہ سفید کارنامے زبان کے اُتار چڑھاو اور فنی خوبیوں کے ساتھ حمام پر،نانوائی کی دکان پر،دفتر یاپُر رونق اور رنگ برنگی محفلوں اور مجلسوں میں بیان کرتے پھرتے ہیں ۔دَلبدلی کے اس مرحلے سے گزرتے ہوئے یہ بے بس مریض بچارے اپنا بیتا ہوا کل اور اپنی شناخت بھی بھول جاتے ہیں ۔
‌آخر پر میں عرض کرتا جائوں کہ جہاں یہ مریض اپنا پیٹ ہلکا کرکے رازداری کی یہ ساری باتیں اَنلوڈ کرتے ہیں وہاں پر موجود سامعین کو اس بات کا قطعی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مریض بالکل اسی طرح کسی اور جگہ میری شان میں اسی طرح کے کلمات ادا کرتا ہوا نظر آسکتا ہے ۔کیونکہ اس کی بد ہضمی کا یہ مرض اُسے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کردیتا ہے ۔اسی لئے میری رائے ہے کہ ایسے مریضوں کے ساتھ گُل مِل جانے سے بہتر ہے کہ ان سے دوری اختیار کی جائے ۔اس کے لئے اگر آپ کو کبھی گھنٹہ دو گھنٹہ یا ہفتہ بھر کے لئے خود کو قرنطینہ بھی کرنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔رہی بات میری ،میرے ہاضمے پر آپ کو پورا اعتماد ہونا چایئے، کیونکہ بقول شاعر  ؎
‌دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
‌اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں
(رحمت کالونی شوپیان ۔9622483080)
‌shabirbhat5451@gmail.com