تازہ ترین

فضیلت حضرت سید نا صدیق ِاکبرؓ

(خلفائے راشدین)

تاریخ    28 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مولوی محمدمحسن قادری
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدحتِ صدیق اکبر ؓمیں بیشتر قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں، جس سے آپ کا مقام و مرتبہ ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث شریفہ میں آپ کی تعریف و توصیف فرمائی ہے۔ چنا نچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کے مال نے مجھ کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا کہ ابوبکر ؓکے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔تمام علمائے اکرام کا اس پراتفاق ہے کہ سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے لے کرحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک تک ہمیشہ سفروحضر میں آپ کے رفیق رہے ۔ حضرت عویم بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیااورمیرے لئے میرے اصحاب کوچن لیا،پھراُن میں سے بعض کومیرے وزیر،میرے مددگاراورمیرے سسرالی رشتہ داربنادیا۔پس جوشخص ان کوبُراکہتاہے اس پراللہ کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اورسارے انسانوں کی لعنت۔حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ اکرام ؓمیں سب سے زیادہ سخی تھے ۔آپ ؓنے کثیرمال خرچ کرکے کئی مسلمان غلام آزادکرائے ۔حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کانام عبد اللہ بن عثمان بن عامربن عمروبن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے ۔مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں ۔مرہ بن کعب پرجاکرآپ ؓ کاسلسلہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے جاملتاہے ۔آپؓکی کنیت ابوبکرہے۔آپؓکی کنیت ابوبکرہونے کی وجہ :عربی زبان میں ’’البکر‘‘جو ان اونٹ کوکہتے ہیں،جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی یاجواونٹوں کی دیکھ بھال اوردیگرمعاملات میں بہت ماہرہوتا،عرب لوگ اسے ’’ابوبکر‘‘کہتے تھے۔آپؓ کاقبیلہ بھی بہت بڑااورمالدارتھا،نیزاونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے، اس لئے آ پ بھی ’’ابوبکر‘‘کے نام سے مشہورہوگئے ۔عربی زبان میں ابوکامعنی ہے ’’والا‘‘اور’’بکر‘‘کے معنی ’’اولیت ‘‘کے ہیں۔پس ابوبکرکے معنی ’’اولیت والا‘‘ہے ۔چونکہ آپ ؓ اسلام لانے ،مال خرچ کرنے ،جان لٹانے ، الغرض امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہرمعاملے میں اولیت رکھتے ہیں ،اس لئے آپؓکوابوبکر’’ اولیت والا‘‘کہاگیا۔(مراۃ المناجیح )
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی گمراہیوں ،غلط رسوم وروا ج،اخلاقی ومعاشرتی برائیوں سے پاک وصاف ہونے ساتھ ساتھ اوصاف حمیدہ سے بھی متصف تھے۔آپ ؓکے اعلیٰ محاسن وکمالات اورخوبیوں کی بناء پرمکہ مکرمہ اوراُس کے قرب وجوارمیں آپؓکومحبت وعزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔حضرت سیدناسلیمان بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اچھی خصلتیں تین سوساٹھ ہیں اوراللہ جب کسی سے بھلائی کاارادہ فرماتاہے تواس کی ذات میں ایک خصلت پیدافرمادیتاہے اوراسی کے سبب اُسے جنت میں بھی داخل فرمادیتاہے ۔حضرت سیدناابوبکرصدیق ؓ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیامیرے اندربھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے ؟ارشاد فرمایا:اے ابوبکرؓ!تمہارے اندرتویہ ساری خصلتیں موجود ہیں۔
حضرت سیدناابوبکرصدیق ؓ بیعت خلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کربازارجارہے تھے ،حضرت سیدناعمرفاروق ؓ نے دریافت کیاکہ آپؓ کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟فرمایا:بغرض تجارت بازار جارہاہوں ۔حضرت سیدناعمرفاروق ؓ نے نے عرض کیا:اب آپ ؓ کام چھوڑ دیجئے ،اب آپ لوگوں کے خلیفہ (امیر)ہوگئے ہیں ۔یہ سن کرآپ ؓ نے فرمایا:اگرمیں یہ کام چھوڑدوں توپھرمیرے اہل وعیال کہاں سے کھائیں گے؟حضرت سیدناعمرفاروق ؓ نے عرض کیا:آ پؓ واپس چلئے ،اب آپ ؓ کے یہ اخراجات حضرت سیدناابوعبیدہؓ طے کرینگے ۔پھریہ دونوں حضرات حضرت سیدناابوعبیدہ بن جراحؓکے پاس تشریف لائےاوراُن سے حضرت سیدناعمرفاروق ؓ نے فرمایا:آپ حضرت سیدناابوبکرصدیق ؓ اوران کے اہل وعیال کے واسطے درجے کے مہاجرکی خوراک کااندازہ کرکے روزانہ کی خوراک اورموسم گرماوسرماکالباس مقررکیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے توواپس لے کرا سکے عوض نیادے دیاجائے ۔چنانچہ آپؓنے سیدناصدیق اکبرؓ کے لئے آدھی بکری کاگوشت ،لباس اورروٹی مقررکردی ۔ (تاریخ الخلفاء ص۵۹)۔امام شعبی ؒ نے روایت کیاہے کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓکواللہ تعالیٰ نے چارایسی خصوصیات سے متصف فرمایاجن سے کسی اورکوسرفراز نہیں فرمایا۔۱۔آپ ؓ کانام صدیق رکھا۔۲۔آپ ؓغار ثورمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی رہے ۔۳۔آپ ؓ ہجرت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق سفررہے ۔۴۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی آپ کوصحابہ کرام ؓ کی نماز وں کا امام بنادیا۔آپ کی ایک اورخصوصیت یہ ہے کہ آ پ کی چارنسلوں نے صحابی ہونے کاشرف پایا۔آ پ صحابی ،آپ کے والد ابوقحافہ صحابی ،آپ کے بیٹے عبدالرحمن صحابی اورانکے بیٹے ابوعتیق محمدبھی صحابی رضوان اللہ تعالی اجمعین(تاریخ الخلفاء)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،میری امت پرواجب ہے کہ وہ ابوبکرکاشکریہ اداکرے اوران سے محبت کرتے رہے ۔حضرت ابوبکرصدیق ؓکواللہ تعالیٰ اوربارگاہ ِرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں خصوصی اہمیت وفضیلت حاصل تھی ۔قرآن مجید کی تقریباً32آیات آپ کے متعلق ہیں، جن سے آ پ کی شان کااظہارہوتاہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ؓ کے بارے میں فرمایاکہ مجھ پرجس کسی کااحسان تھا،میں نے اس کابدلہ چکادیامگرابوبکرؓ کے مجھ پروہ احسانات ہیں ،جن کابدلہ اللہ تعالیٰ روز قیامت انہیں عطافرمائے گااوراگرمیں اپنی امت میں سے میں کسی کوخلیل (گہرادوست )بناتاتووہ ابوبکرکوبناتالیکن اسلامی اخوت قائم ہے ۔تمام صحابہ کرام ؓ میں آ پ ؓ ہی سب سے زیادہ عالم تھے ۔آپ ؓ سے ایک سوبیالیس احادیث مروی ہیں ،حالانکہ آپؓکوبکثرت احادیث یاد تھیں ۔قلت ِروایت کاسبب یہ ہے کہ احتیاط کے پیش نظرآپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل یا اس سے حاصل شدہ بیان فرمایاکرتے ۔آپ ؓ سب سے زیادہ قرآن اوردینی احکام جاننے والے تھے،اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کونمازوں کاامام بنایاتھا۔آ پ ان خاص صحابہ میں سے تھے، جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیاتھا۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجروثواب حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو ملے گاکیونکہ سب سے پہلے قرآن مجید کوکتاب کی صورت میں آپ ؓ ہی نے جمع کیا۔حضرت ابن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیرخاص تھے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آ پ سے تمام امورمیں مشورہ فرمایاکرتے تھے ۔آپ ؓ غارمیں ثانی ،یوم بدرمیں سائبان میں ثانی اورمدفن میں بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثانی ہیں ۔آ پ کاسب سے بڑاکارنامہ مرتدوں سے جہاداوران کے فتنے کامکمل انسدادہے ۔یمامہ ،مدائن اوراجنادین کے معرکوں میں فتح حاصل کی ۔آپ ؓ کی خلافت کی مدت دوسال سات ماہ ہے ۔سیدناابوبکرصدیقؓ نے وصال کے وقت اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا:یہ اونٹنی جس کاہم دودھ پیتے ہیں ،یہ بڑاپیالہ جس میں ہم کھاتے پیتے ہیں اوریہ چادرجومیں اوڑھے ہوئے ہوں ،ان تین چیزوں کے سوامیرے پاس بیت المال کی کوئی چیز نہیں ۔ان چیزوں سے ہم اس وقت تک نفع لے سکتے تھے جب تک میں امورخلافت انجام دیتاتھا۔میرے انتقال کے بعد تم ان چیزوں کوحضرت عمرؓ کے پاس بھیج دینا۔آپ کے وصال کے بعد جب یہ چیزیں حضرت سیدناعمرفاروق ؓ کوواپس کی گئیں توانہوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ابوبکرؓ پررحم فرمائے ۔انہوں اپنے جانشین کومشقت میں ڈال دیا۔ آپ ؓ کاوصال 22جمادی الثانی 13ھ شب سہ شنبہ (یعنی پیراورمنگل کی درمیانی رات)مدینہ ٔ منورہ میں مغرب وعشاء کے درمیان 63سال کی عمرمیں ہوا۔حضرت سیدناعمربن خطاب ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اورآپ ؓ کی تدفین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلومیں عمل میں آئی ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔
موبائیل نمبر:8977864279
mohdmohsin5617@gmail.com