تازہ ترین

کچھ توذہنی سکون کا بھی خیال کریں

(خیال ِ من)

تاریخ    26 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ہارون رشید
ہم انسانوں کو غار میں رہنے والے اپنے اُن آباو اجداد پر ترس آتا ہے جن کے پاس سمارٹ فون تھا نہ لیپ ٹاپ۔ ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہ تھا۔بندے شکار کرنے نکلتے ،واپسی میں کوئی گم ہی ہوجاتا، پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس گڑھے میں گر کے مر گیا ہے۔ آج کا انسان ...Connectedہے،مطلب ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ،ٹیکنالوجی کی مدد سے۔
پہلے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے۔ محبت کرنے والے جب دوردراز کے شہروں میں اپنے شریکِ حیات کو خط لکھتے ،تو سسرال کی تلخ باتوں کو پی جایا کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تار والے فون آئے، پھر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک انٹرنیٹ کی تار بچھا دی گئی۔سٹیلائٹ کے ذریعے لوگ ہر لمحہ رابطے میں رہنے لگےاور پھرموبائل فون آیا ، واٹس ایپ آئی اور فیس بک، گویا دنیا ہی بدل گئی۔
اب شوہر دفتر میں کام کر رہا ہوتاہے کہ بیوی کا پیغام ملتا ہے:میں تمہاری ماں کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی۔ غصہ پہلے بھی آتا تھا لیکن شوہر کے گھر آنے تک اکثر سیز فائر ہو چکا ہوتا۔ آج آپ کا بیٹا مشکل سے بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو فیس بک ، موبائل اور واٹس ایپ پر وہ چند لڑکیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتاہے۔ ہر طرف سے بیلنس کٹ رہا ہے جو بالآخر باپ کی جیب سے ہی ادا ہوتارہتاہے۔ نو بیاہتا دُلہنیں لمحہ بہ لمحہ اپنے سسرال کی رپورٹیں میکے پہنچا تی رہتی ہیں۔ پہلے چونکہ رابطہ نہیں ہوتا تھا تو دو ماہ بعد جب وہ اپنے میکے والوں سے ملاقات ہوجاتی تو اس وقت تک دانش غالب آچکی ہوتی۔
قدیم زمانے کا انسان Focused تھا۔ وہ علوم و فنون پہ دسترس حاصل کیسے کرتا۔ آج ہر ایک منٹ کے بعد فیس بک اور واٹس ایپ کا الرٹ۔ پہلے موبائل فون پر ٹیکسٹ پیغام بھیجنے کا جنون پیدا ہوا۔ میسجز کے پیکیج کرائے جانے لگے اور پورا دن ایک دوسرے کو فضول لطیفے بھیجے جاتے۔ واٹس ایپ نے میسجز کو چار چاند لگا دئے۔ اوپر سے موبائل میں کیمرہ لگ گیا۔ سرجن دورانِ آپریشن اپنی سیلفیاں لیتے پائے جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ نے انسانی فرصت کا جنازہ نکال دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ گاڑی چلاتا ہوا شخص میسج ٹائپ کرنے کی کوشش میں گاڑی دے مارتا ہے۔
دورجدید کا انسان ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہے لیکن یہ ایک بہت بڑی خام خیالی ہے کہ یہ رابطہ صرف نعمت ہے۔ درحقیقت یہ ایک لعنت بن چکی ہے۔ آج سوشل میڈیا فساد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس کی وجہ سے شادیاں ناکام ہو رہی ہیں۔ دلہن کی ماں عمران خان کی حمایت میں پوسٹ کرتی ہے تو دولہے کا باپ نواز شریف کے حق میں کمنٹ کر ڈالتاہے، تلخی جنم لیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے متضاد سیاسی و مذہبی نظریات کے حامل لوگ ایک دوسرے سے اُلجھتے رہتےہیں۔
سوشل میڈیا کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ بچوں اور بڑوں کا فاصلہ مٹ چکا ہے۔ بچے جو باپ سے احتراماً فاصلے پر رہتے تھے، اب حد سے زیادہ فری ہو چکے ہیں۔ اسمارٹ فون استعمال کرتے کرتے آگے کو جھکی ہوئی آدمی کی گردن تھک چکی ہے۔ لوگ چلتے ہوئے، سیڑھیاں اُترتے ہوئے گردن جُھکائے موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے رہتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ذہنی سکون انگریزی میں جسے So Called “Peace Of Mindکہتے ہیں اب کسی الگ دنیا کی شۓ لگتی ہے۔
طالب علم یونیورسٹی آف کشمیر۔ رابط۔ haroonraashid000@gmail.com
 

تازہ ترین