تازہ ترین

سبزیوں کی کاشت کیجئے | اپنی آمدنی کو بڑھاوا دیجئے

مشورے

تاریخ    26 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سہیل بشیر کار بارہمولہ
آجکل کشمیر کے سیب مالکان، تاجر اور کاشت کار پریشان ہیں کہ بھارت کی میوہ منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی وافر مقدار میں در آمد سے کشمیری سیبوں کا مستقبل اب خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہاں کے سیب مالکان اور کولڈ اسٹور مالکان کہہ رہے ہیں کہ انہیں یا تو قیمت کم مل رہی ہے یا پھر مانگ ہی نہیں ہے۔ابھی صرف ایک ملک کے سیب نے یہاں کی میوہ صنعت کو ہلا دیا، اگر دیکھا جائے گزشتہ ایک دہائی سے میوہ صنعت میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی آرہی ہے۔ ناشپاتی، چری، خوبانی میں ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں ضرورت ہے کہ کشمیر سے وابستہ کسان کچھ دوسرے اوپشنز(متبادلات) پر غور کریں۔ ایک بہترین اوپشن میوہ سے سبزی کی طرف رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ سبزی کا لوکل(مقامی) مارکیٹ کافی وسیع ہے اورسبزیاں دیگر ریاستوں میں بھی بیچی جا سکتی ہیں۔ سبزیاں ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں، اس کے برعکس میوہ ہر گھر میں استعمال نہیں ہوتا۔انسانی خوراک میں سبزیوں کا استعمال 300 سے 350 گرام فی کس روزانہ ہونا چاہیے جبکہ ہمارے ہاں یہ مقدار روزانہ  150سے 180 گرام فی کس ہے۔ سبزیاں اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ہیں، کشمیر میں قدرت نے بہتر آب وہوا رکھا ہے۔ ہم یہاں پر قریباً 35 سبزیاں اُگا رہے ہیں اور مزید بھی اُگا سکتے ہیں ۔ سبزیوں میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز، معدنیات اور خاص طور پر فائبر (ریشہ) وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ سبزیاں کھانے سے آدمی تندرست و توانا رہتا ہے، سبزیاں ہمیں باقی ریاستوں سے import(درآمد) کرنی پڑتی ہیں، جبکہ سیب ہم ایکسپورٹ کرنے پر مجبور ہیں، سبزیوں کے لیے ہمیں کولڈ اسٹورز کی ضرورت بھی نہیں، جس پربہت خرچہ آتا ہے، اس کے برعکس میوہ کے لیے یہ ضروری ہے ۔اگر کاشت کار جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں تو انہیں کثیر آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ سبزیوں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان کو سال میں کئی دفعہ اُگایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مسلسل آمدنی کاذریعہ بن سکتا ہے۔ سبزیوں کی کاشت سال میں کئی بار ہو سکتی ہے، جس سے آمدن بڑھانے کا اچھا موقع رہتا ہے اور یہ آمدن ہارٹیکلچر سے حاصل آمدن سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ میرا یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کہ ہمیں ہارٹیکلچر میں نہیں جانا چاہیے، ہارٹیکلچر بھی ضروری ہے، البتہ یہ جو ہم دھان کی زمین یا ہموار زمین کو ہارٹیکلچر میں لا رہے ہیں، بہتر ہے اس کو سبزیوں کے تحت لایا جائے۔ آج کل مارکیٹ میں exotic سبزیاں جیسے بروکولی، لیٹوس، لال گھوبی خوب بک رہی ہیں وہ بھی اچھے داموں میں۔ اسی طرح لال شملہ، yellow capsicum وغیرہ بھی مارکیٹ میں اچھی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ لہٰذا سمارٹ ایگریکلچر کرنے کی ضرورت ہے۔ لہسن کا کشمیر میں بہت فائدہ ہے، پیاز سے بہتر لہسن ہے۔ اس کی ڈیمانڈ لوکل مارکیٹ میں بھی ہے اور پورے انڈیا میں بھی۔بلکہ انٹرنیشنل لیول پر بھی اس کی مانگ ہے۔ چونکہ موافق موسم کی وجہ سے اس کا سائز اور خوشبو دیگر ریاستوں میں اُگنے والے لہسن سے بہتر ہے، ضرورت ہے کہ اس میں گریڈنگ کی جائے تاکہ اور بہتر دام مل سکے۔ ساتھ ہی لہسن کا فائدہ یہ ہے کہ یہ خراب نہیں ہوتی، اسی طرح لال راجماش کی پیداوار میں کافی اضافہ ہوا ہے، اسی طرح یہاں کے پہاڑی علاقوں میں آلو اُگانے جانے کے بھی بہت فائدے ہیں، یہاں آلو کی فصل فروری اور مارچ میں لگائی جاتی ہےاور جس وقت یہ تیار ہوتی ہے، اُس وقت کسی دوسری جگہ تیار نہیں ہوتی،گویا اس کی ریٹ پنجاب کے آلو سے تین گنا زیادہ ملتی ہے، لہٰذا بہتر ہے، اس طرف شفٹ کیا جائے۔ جس وقت ہمارے ہاں مٹر تیار ہوتے ہیں، اُس وقت پورے ہندوستان میں کہیں مٹر نہیں ہوتے اور اس کی ڈیمانڈ(طلب) ہر جگہ ہوتی ہے۔اس لئے مٹر کو مختلف ریاستوں میں بھیجا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں محکمہ زراعت بھی تعاون کررہا ہے بلکہ اس سال محکمہ زراعت نے یہاں کی سبزی دوبئی برآمد کی۔سبزیوں کی کاشت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس میں زیادہ input (لاگت)کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور یہ کم وقت میں زیادہ پیداوار دیتی ہے، سبزیوں کی کاشت پر ایک کنال میں قریباً 5 ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے جبکہ تین گنا آمدن ہوتی ہے ،وہ بھی صرف 4 ماہ میں، یعنی ہم سال میں کئی سبزیاں اُگا سکتے ہیں، اس کے برعکس ہارٹیکلچر میں ایک کنال میں ایک فصل میں 2 لاکھ کا خرچہ آتاہے اور پہلے تین سال تک کوئی خاص ریٹرن نہیں اور جو ہم ہاے ڈینسٹی لگاتے ہیں، ان پیڑوں کی عمر 10 سے پندرہ سال ہے۔ اگر کوئی کسان ایک بار ایک سبزی لگائے تو صرف چار ماہ بعد وہ دوسری سبزی لگا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ہارٹیکلچر میں یہ ممکن نہیں، وہاں آپ شفٹ نہیں کر سکتے۔ اچھے طریقے سے اگر سبزی لگائی جائے تو سال میں ایک ہی زمین میں 3سے 4قسم کی سبزیاںلگائی جا سکتی ہیں، اگر کسان بیج کے لیے سبزی اُگائے تو یہ کافی منافع بخش کاروبار ہے۔ مارکیٹ میں اب ایسےبیج بھی دستیاب ہیں، جن سے کافی مقدار میں فصل حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ایگریکلچر لوگوں کو اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتا ہے، ہر ضلع میں محکمہ نے ہاے ٹیک گرین ہاوس لگائے ہیں، جہاں سے مناسب وقت اور مناسب قیمت پر پنیری حاصل کی جاسکتی ہے۔کشمیر میں کچھ پڑھے لکھے نوجوانوں نے اس سلسلے میں پہل کی، تو ان کو اچھی خاصی آمدنی ہوئی۔ کئی success stories آئےروز دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کچھ لڑکیوں نے اس سلسلے میں قابل ذکر کام کیا، جس کے لیے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہارٹیکلچر کے لیے ہمیں پروفشنلز کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے برعکس سبزیوں کے لیے اتنی ضرورت نہیں ہوتی، اگر کوئی سبزیوں کی پیداوار اچھے طریقے سے کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کو چاہیے کہ ایک گرین ہاوس خریدے، گرین ہاوس کی قیمت زیادہ نہیں ہے اور محکمہ زراعت اس پر 50 فیصد کی سبسڈی بھی دیتا ہے،اس سے وہ وقت پر پنیری اور سبزی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں کچھ لوگ مل کر organic vegetables اُگائیں تو اس کا مارکیٹ وسیع ہے اور قیمت بھی کئی گنا مل سکتی ہے۔ value addition کے تحت ماڈرن ٹیکنالوجی کے ذریعے سبزیوں کو پراسیس بھی کیا جاسکتا ہے، جیسے آنچار، ٹماٹر پوری، کینڑ مٹر وغیرہ اور اس سے روزگار کے مواقع پیدا بھی ہونگے۔ 
یہ مضمون صرف اس غرض سے لکھا گیا ہے تاکہ زمیندار حضرات کی توجہ مبذول کرائی جاسکے، اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پروفیشنل طریقہ سے سوچیں، کم investment کے ذریعہ زیادہ پیداوار حاصل ہو ،تاکہ ہماری آمدنی بھی بڑھ سکے۔ ابھی بھی کشمیر میں 70 فیصد سے زائد لوگ ایگریکلچر پر منحصر ہیں۔ ان کی سطح بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ راقم کا ماننا ہے کہ سبزیوں کی کاشت اس سلسلے میں سب سے اہم رول ادا کر سکتی ہے ۔
رابطہ واٹس اپ 9906653927
 

تازہ ترین