تازہ ترین

کشمیریوں کو بجلی کےبحران سے نجات ملے گی؟

دِل کو بہلانے کے لئےیہ خیال اچھا ہے

تاریخ    26 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سید مصطفیٰ احمد
ہم بچپن سے یہ بات سُنتے آرہے ہیں کہ انسان کوزندگی گزارنے کے لئے روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوتی ہےمگر جُوں جُوں ہماری عمر بڑھتی گئی اور جوانی میں قدم رکھا، توآہستہ آہستہ اُ ن باتوں کا احساس ہونے لگا کہ روٹی ،کپڑے اور مکان کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جوزندگی گذارنے کے لئے ضروری ہیں ،جن کے بغیر انسانی زندگی ناپائیدار ہے۔خاص طور پر موجودہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میںکیا محض اُنہی چیزوں پر زندگی گذاری جاسکتی ہے جن کا نام ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ہم اس مضمون میں ضروریات زندگی کی اُن تمام چیزوں پر بات کرسکیں،جو انسانی  زندگی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ہم یہاں صرف موجودہ دور میں درکار دو اہم چیزوں پر ہی بات کرلیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کیا واقعی روٹی کپڑے اور مکان کی موجودگی میں ہماری زندگی کا گزر بسر ہوسکتا ہے؟ جبکہ زندگی کا نظام چلانے کے لئے جہاں بجلی،پانی، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں وہیں روز گار،کاروبار ،گفتار و رفتار بھی انتہائی ضروری ہے۔ظاہر ہے کہ آج کا زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہےاورتقریباً ہر چیز کا انحصار محض بجلی پر ہے۔بجلی ہی ایندھن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اورجدید ٹیکنالوجی کے تحت ایجاد شدہ ہر چھوٹی چیز سے لے کر ہر بڑی چیز بجلی پر ہی چلتی ہے۔زندگی کاسارا نظام بجلی پر چلتا ہےاور بجلی کے بغیر سب کچھ ٹھپ ہوکے رہ جاتا ہے۔ ہاں!پرانے زمانوں میں لوگ ایندھن کی توانائی لکڑیوں اور کھانے کے تیل سے حاصل کرتے تھے،پھر مٹی کے تیل  سےبھی استفادہ لیا جاتا رہا لیکن جب انسانی خواہشات عروج پر پہنچیںتو جہاں جنگلات کا صفایا ہوتا رہا، وہاں فضائی آلودگی نے بھی ڈھیرا ڈالا تو یہ ساری چیزیں قابل اعتراض بن گئی۔ انسان نے اپنے علِم و حکمت کے ذریعے ایندھن کے نئے نئے وسیلےڈھونڈنے شروع کردیئےاور پھر اُنہی کے تحت لوگوں کوزندگی کا نظام چلانے کی ترغیب دے دی تاکہ زندگی موافق ماحول میں گزاری جاسکے۔ اس ضمن میں بجلی کی ایجاد اور اس کا استعمال ایک بہترین اور کارآمد حل سمجھا گیا۔بلکہ یہ بھی محسوس کیا کہ تمام ایندھنوں کی پیداوارمقابلے میں بجلی کی توانائی کا حصول بہت سستا  اور زیادہ کارآمدہے۔ظاہر ہے ترقی یافتہ ممالک میںبجلی ہی وہ واحد توانائی ہے جس پر انسانی زندگی کا سارا نظام خو ش اسلوبی کے ساتھ چل رہا ہے جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی دن بہ دن بجلی کی پیداوار کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ زندگی کا نظام بہتر سے بہتر طریقے پر چل سکے۔اب اگر اس معاملے کے متعلق اپنی اس وادیٔ کشمیر کی بات کی جائے تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ سو سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے، جب کشمیر میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا آغاز ہوا تھااور کشمیریوں کو بجلی کی برکات سے مستفید ہونے کی نوید سُنائی گئی تھی۔ مگر ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی کشمیر کی بیشتر آبادی بجلی سے محروم ہے۔خاص طور پر موسم سرما کے آتے ہی شدت کی سردیوں کے دوران کشمیری بجلی کا منہ تکتے رہتے ہیں۔بجلی کی نایابی میںکئی سارے وجوہات کا عمل دخل ہے، چند کا ذکر کرنا یہاں موزون سمجھتا ہوں۔ 
      پہلا ہے سیاسی افراتفری: لگ بھگ ڈیڑھ سو سال سے کشمیری عوام ایک ایسی جدوجہد میں مبتلا ہےہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے بہت سارے قدرتی وسائل ضائع ہوچکے ہیں اور بدستور ضائع ہورہے ہیں۔ سیاسی افراتفری نے یہاں کےحکمرانوں کو قدرتی وسائل کا زیادہ تر حصہ انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے بجائے ہتھیاروں ، خفیہ اداروں، سیکورٹی فورسز اور مقامی پولیس پر ہی صرَف کرنا پڑا ہے۔اس طرح کے مصرف میںجہاں اربوں کھربوںکاسرمایہ غیر ترقیاتی کاموںپر ضائع ہوا ہے وہیں ایک لاحاصل جدوجہد پر انسانی جانوں کا بھی لا منتہائی اتلا ف ہوتا چلا آ رہا ہے جبکہ صورت ِ حال آج بھی جُوں کی تُوں ہے۔چنانچہ عرصہ ٔ دراز سے بجلی کی نایابی اور آنکھ مچولی کے خلاف وادیٔ کشمیر کے عوام حکمرانوں سے نالاں ہیںاور وقفہ وقفہ کے بعد سڑکوں پر آکر احتجاج بھی کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ستم بالائے ستم صارفین کی طرف سے بجلی فیس کی ادائیگی کے باوجود بجلی کی فراہمی سے محروم رکھے جارہے ہیں۔ایک محنت کش انسان جو دن بھر مزدوری کرکے شام کو جب گھر لوٹتا ہےتو بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کونے کھدروں میں چھپ جاتا ہےاورمایوسی کے عالم میں ڈوب کر آہیں بھرتا رہتا ہے۔
      دوسرا ہے ہمارا رویہ: ہم میں سے بیشتر لوگ ایسے بھی ہیں،جو بجلی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر باقی لوگوں کو اس توانائی سے محروم کردیتے ہیں۔بیشتر گھرانوں میں دو سے لے کر تین boilers دن رات سرد پانی کو گرم کرنے میں سرگرم رکھے جاتے ہیں،اور ساتھ ہی تین تین چار چار electronic heaters بہت سارے چیزوں کو پکانے میں بنا رکاوٹ کے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ہماری transformers   پر حد سے زیادہ لوڈ پڑتا ہے اور بعض اوقات جل بھی جاتے ہیں۔ظاہر ہے بجلی کی کٹوتی اسی سلسلے کی ایک وجہ بن گئی ہے۔جس کا شکار غریب اور امیر دونوں ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ امیر یا دولت مند لوگوں کے پاس بہت سارے وسائل ہوتے ہیں جن کو بروئے کار لاکروہ سردیوں کے ایام آرام سے گزار لیتے ہیں۔ مگر ایک مفلس اور غریب آدمی زبردست مشکلات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ 
       تیسرا ہے سرکاری ملازمین کا رول:  محکمہ بجلی میں کام کرنے والےکئی لوگ شروع سے ہی کچھ پیسوں میں بکنے کے عادی ہوچکے ہیں ،جو ہر غلط کام کو ٹھیک اور ٹھیک کو غلط قرار دینے رہتے ہیں، جو لوگ بجلی کی فراہمی کے مستحق ہوتے ہیں،انہیں محروم رکھا جاتا ہے اور جو ناجائز اور بےجا طریقے پر بجلی کا ستعمال کرتے ہیں،انہیں ہر وقت بجلی سپلائی جاری رکھتے ہیں۔جس کسی معاملے پر اُن سے بات کی جائے تو بجلی صارفین کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
      چوتھا ہے گورنمنٹ کی لاپرواہی:  ہماری گورنمنٹ کو ہمیشہ یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح اپنی حکمرانی کی مدت پوری کی جائے،زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جائے اور اپنے مشیروں کے مشوروں کے تحت’ سب کچھ ٹھیک ہے ‘پر ہی مکتفی رہا جائے۔ عام لوگوں کی فریادیں اُن کے کانوں تک یا تو پہنچتی ہی نہیں، یا اگر پہنچ بھی جائے تو اَن سنی کردینے کی روایت پر قائم رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بنا اثر رسوخ والے غرباءآلام و مصائب کے شکار ہوجاتے ہیں۔ 
       اب اگر ہم تدارک کی باتیں کریںکہ اس صورت ِ حال سے کیسےنمٹا  جائے تو سب سے پہلے اس ضمن میں جو کام ہونا چاہئے، وہ ہے سیاسی افراتفری کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہونا ہے۔ اس سے وہ کثیر سرمایہ بچ جائے گا جو عام لوگوں کی فلاح و بہبودی پر صرَف کیا جاسکتا ہے۔اُن ترقیاتی منصوبوں کے کام میں لایا جاسکتا ہے،جن منصوبوں کو عوام حقیقت کے روپ دیکھنا چاہتے ہیں،جن میں دو اہم منصوبے قابل ذکر ہیں ،پہلا بجلی کی فراہمی کا اور دوسرا پینے کے صاف پانی کا منصوبہ۔حالانکہ یہ دونوں چیزیں انسانی زندگی کی بقا کے لئے انتہائی اہم ہیں۔اگر حکمران ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو حقیقی معنوں وادی ٔ کشمیر کے لوگوں پر لگائے گئے زخموں پر کسی حدتک مرہم ہو جائے گی اور لوگ سکون کی سانس لے سکیں گے۔ایک اور بات لازمی ہے کہ ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی بھی ضرورت ہے۔ جس سے کئی مسائل کا حل نکل آئے گا۔ جب بجلی کی چوری کو ہم اپنے آپ روکنا شروع کردیں گے، تو ممکن ہےکہ بجلی کے کھمبوں کے ساتھ ساتھ نصب شدہ بجلی ٹرانسفارمر بھی صحیح سلامت رہ سکیں گے۔ اگر ہر بالغ و عاقل فرد اپنے گریباں میںجھانکے اوربغور جائزہ لےتو اُسے بخوبی اندازہ ہوگا کہ وہکس حد تک بجلی کی چوری میں ملوث ہے یا کس حد سے زیادہ بجلی خرچ کر رہا ہے۔اگر اس بات کا احساس لوگوں کے دلوں میں جاگزن ہوجائے تویقیناً کم ازکم وادی کی بہت ساری آبادی کو سکون کے ساتھ بجلی فراہم ہوسکے گی اور وہ موسم سرما کے یہ کٹھن ایام کافی حد تک آرام کے ساتھ گزار سکے گی۔  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سرکاری ملازمین کا اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قدم سے بھی بہت سارے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ جب بجلی فراہم کرنے والے محکمہ کے اہلکار ایمانداری سے کام لیں گے، تو ممکن ہے کہ لوگوں کو راحت نصیب ہو، اگر اہلکاراں بجلی کو چوری چھپے فروخت نہ کریں تو ممکن ہے غریب کچھ لمحوں کے لئے چین کی سانس لے سکیں۔ چوتھا اور آخری بات یہ ہے گورنمنٹ کا اس ضمن میں تھوڑا زیادہ حساس ہونا چاہئے۔ اگر گورنمنٹ اس مسئلہ میں بھی دوسرے مسائل کی طرح غیر سنجیدہ رہتی ہے تو یہ مسئلہ کھبی بھی حل نہ ہوگا۔ لوگ چیختے ،چلاتےرہیں گے اور زمینی سطح پر کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ 
       اب وقت کی ضرورت ہے کہ بجلی کے بحران کا کوئی ٹھوس حل نکالا جائے۔ ہمارے یہاں پانی کی بہتات ہے۔ ہم اس قدرتی وسیلے کو صحیح طریقوں پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور بجلی کی پیداوار کو بڑھاوا دے کر آئے دن کے اس بحران سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر ایک کو اس کار خیر میں مل جل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ راقم نے بذات خود پچھلے بیس سال میں بجلی کے بحران کو ختم کرنے اور عوام کو راحت پہنچانےکے لئے کسی بھی حکمران کو ئی خاطر خواہ قدم اٹھاتے نہیں دیکھا ہے۔ اتنے سال سے بس ایک ہی راگ الاپا جارہا ہے کہ ہمارے پاس بجلی کے پیداوارکی کمی ہے، اسی لئے بجلی کی کٹوتی کرتے ہیںاور آنکھ مچولی کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچی ہے۔ اب ہم 5G کو بھی حاصل کر چکے ہیں، مگر ہمارے یہاں کی حالت پتھر کے زمانے کےلوگوں کی سی ہے۔ وقت کی پُکار ہے کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے جنگی پیمانے پر اقدام اٹھائے جائیںاور کشمیری عوام پر لگے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔آخر کب تک ہمارا خواب سراب ہی ثابت ہو تا رہے گا؟ کیا آنے والےوقت میں اس کا کوئی مؤثرجواب مل سکے گا ؟ قبل از وقت کچھ کہا نہیں جاسکتا۔خیر!تب تک ہم اپنے دل کو حسب ِ روایت جھوٹی تسلیوںسے بہلا نے کے سِوا اور کیا کرسکتے ہیں؟
(مدرس حسینی پبلک اسکول ایچ ،ایم ،ٹی۔ زینہ کوٹ، سرینگر)
 

تازہ ترین