تازہ ترین

سیکولر پارٹیاں، موہوم اُمیدیں اورہندوستانی مسلمان

حال واحوال

تاریخ    26 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


اختر جمال عثمانی
      مسلمانوں کے خلاف ہندو منافر تنظیموںکی موشگافیاں تو آزادی کے قبل ہی شروع ہو چکی تھیں اور مسلمانوں کا ایک حلقہ آزاد ہندوستان میں اپنے مستقبل کو لیکر اندیشوں میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا ۔مسلم لیگ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی تقسیم کی مانگ شروع کی اور آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بتانے میں  مصروف رہے۔ کچھ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی اور تقسیم ِہندکے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے وطن عزیز کی مٹی سے جدا ہونا گوارہ نہ کیا۔وہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے،بھلے ہی عبادت کے طریقے الگ ہوں لیکن انکی تہذیب مشترک تھی۔ زبان، لباس اور رسومات میں یکسانیت تھی۔خوشیوںاور غموں میں ایک ساتھ تھے ۔لیکن آزادی کے بعد بتدریج بدلتے حالات نے ثابت کیا کہ تقسیم کی بنیادکے اندیشے بالکل ہی بے بنیاد نہ تھے۔ اگرچہ ہندوستان کے آئین کی بنیاد جمہوریت ، برابری ،مذہبی آزادی اور سیکولرازم پر رکھی گئی تھی لیکن آئین میں دی گئیں ساری ضمانتوں کے با وجود تعصب کا زہر روزبروز بڑھتا گیا۔1948  میں مہاتما گاندھی کا قتل اور 1949  میں بابری مسجد میں بتوں کی تنصیب منافر طاقتوں کی بڑی کامیابیاں تھیں۔ ایک زمانے تک ملک کی سیاست میں سیکولر پارٹیوں کا غلبہ رہا ،چاہے وہ حکمراں کانگریس پارٹی ہو یا حزبِ اختلاف کی سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں۔ 1977  میں ایمرجنسی کے دوران کی گئیں زیادتیوں کی پاداش میں وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی اور انکی کانگریس پارٹی کے الیکشن ہار جانے سے منافر تنظیموں کو ملک کی سیاست میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کا موقع مل گیا۔ کانگریس کے خلاف مخالف جماعتوں نے جنتا پارٹی کے نام سے اتحاد قائم کیا ۔منافر گروہ اس اتحاد کا حصہ تھے۔ یہ اتحاد زیادہ دیر تک نہ چل سکا اور جن سنگھ کے دھڑے نے بی جے پی کے نام سے نئی پاٹی تشکیل کی۔بابری مسجد کے مقام کو رام جنم بھومی قرار دیکر وہاں پر مندر تعمیر کرنے کے لئے جو مہم چلائی گئی، اُس نے ہندتوادی طاقتوں کو عروج پر پہونچا دیا۔ اس تحریک کے ذریعہ سنگھ پریوار ہندوئوں کے مذہبی جذبات اُبھارنے میں کامیاب رہا اور سیکولر پارٹیوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنے کردیا۔مسلمان 1992  میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود بابری مسجد کی شہادت کے واقعے سے دل برداشتہ ہوکر دیگرسیکولر پارٹیوں کا دامن تھامنے لگے۔ ان پارٹیوں نے مسلمانوں کے ووٹ سے طاقت حاصل کی اور حکومتیں بھی بنائیں، لیکن سنگھ پریوار نے جو مذہبی جذبات رام مندر تحریک کے دوران اُبھارے تھے، ان کا رُخ اقلیتوں ،خاص کے مسلمانوں کے خلاف اس طرح موڑ دیا کہ اکثریت کے دل میں مسلمانوں کے لئے ایسا بغض و عناد بھر دیا کہ سیکولر کہلانے والی پارٹیاں بھی مسلمانوں کے مسائل یا اُن پر ہونے والے ظلم و زیادتیاں پر خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھنے لگیں۔ یوں تو 2014 کے بعد سے کوئی دن ہی ایسا نہیںگزرا ، جب منافر تنظیموں کے کسی نہ کسی لیڈر یا کارکن کا مسلمانوں کے خلاف کوئی نفرت انگیز بیان سامنے نہ آیا۔کبھی انہیں دیش دروہی ،کبھی پاکستانی اور کبھی دہشت گردقرار دیا گیا۔کرونا وبا کے دوران ان کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ تبلیغی جماعت کے مرکز کو وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیامگر کنمبھ کے اَسنان میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی کو نظر انداز کر دیا گیا۔عام طور پر انتخابات کی مہم کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے، جس کا مقصد ووٹوں کا پولرائیزیشن ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا ہمدرد قرار دیکر گاندھی اور نہرو کی بھی تضحیک کی جاتی رہی ہے۔ لیکن رواں مہینے کے دوران اس طرح کے بیانات میں حیرت انگیز اضافہ ہوتارہااور بیانات بھی ایسے جنہیں صوبائی اسمبلی کے الیکشن سے جوڑ کر یا یہ سمجھ کر کہ کچھ جاہل اور کم ظرف لوگوں کی کرتوت ہے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔  اُتراکھنڈ کے ہری د وار میں پچھلے دسمبر میں ’ دھرم سنسد‘ کا بھی انعقاد ہوا، جس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کی گئیں بلکہ ان کی نسل کشی تک کی اپیل کی گئی۔اس تقریب میںوہ لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے  اس سے قبل جنتر منتر دہلی میں مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلا تھا۔ موجودہ حکمراں جماعت  کی خاموشی ان معاملات میں فطری دکھائی دیتی ہے ،ورنہ ان نفرت کے پجاریوں کو ایسے حرکات انجام دینے کی کیسے جرأت ہوتی۔گویانفرت کے سہارے ہی اس کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے ۔دنیا کی نظریں ہندوستان پر ہیں اور ہندوستان میں نسل کشی کے خطرے کو حقیقی سمجھا جا رہا ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کا تاریک پہلو یہ ہے کہ ووٹ کھونے کے ڈر سے کبھی بھی فرقہ پرستی پر لگام نہیں لگائی گئی اور نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ آج سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کا رویہ دیکھ کربھی حیرت ہوتی ہے۔ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم ہوں،دشنام طرازی یا انکے مذہب پر حملہ ہو،پیغمبرؐؐ کی توہین ہو یا قر آن پا پابندی کا مطالبہ ۔ نیند میں خلل پڑنے کے بہانے اذان پر پابندی کی مانگ ہو یا ان کی مرضی کے خلاف ان کے مذہبی معاملات میں قانون سازی کا مسئلہ ہو۔سیکولر پاٹیوں کے تذبذب اور مسلمانوں کے مسائل پر خاموشی کو سونیا گاندھی کے اس بیان سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’ بی جے پی کے ذریعے کانگریس کو ایک مسلم پارٹی کے طور پر مشتہر کیا گیا،جس کی اس کو قیمت چکانی پڑی‘‘۔ سیکولر پارٹیوں نے بھی منافر تنظیموںکے اس مفروضے کو تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو مصائب میں مبتلا کر کے اور اُن کی تذلیل کر کے ہی اکثریت کو خوش کیا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کی حمایت یا اُن کے ساتھ انصاف کرنے کی بات سےاکثریت کو ناراض نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے سیکولر ہونے کی دعویدار پارٹیاں بھی تقریباً ایک دہائی سے مسلمانوں کے مسائل پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد بنام رام جنم بھومی کے معاملے کو اگر اس بناء پر مستثنیٰ بھی کر دیں کہ وہ  ایک مذہبی عقیدے یا ’آستھا‘ کا معاملہ بنا دیا گیا تھا۔ لیکن دیگر بہت سے ایسے معاملات ہیں جن کے اکثریت کے مذہب اور عقیدے سے کوئی واسطہ نہیںہے۔ ان کا تعلق مسلمانوں کے سماجی یا معاشی یا مذہبی مسائل سے ہے، ان کو لیکر بھی سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کی حمایت کو اپنے سیاسی مستقبل کے لئے ضرر رساں سمجھتی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار ہی ان کو ہندوئوں کے ووٹوں سے محروم کر سکتا ہے اور ہندوئوں کے ووٹوں کے بغیر اقتدار حاصل کرنے کا تصور بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔ اب صورتِ حال بالکل واضح ہے، ماب لنچنگ کے واقعات ہوں ،محض مندر کے نل سے پانی پی لینے پر مسلم بچے کی پٹائی ہو، قرآن پر پابندی کے لئے عرضی کے داخلے کا معاملہ ہو، طلاق ِثلاثہ، لو جہاد، سی اے اے جیسے معاملات میں قانون سازی ہو، تبلیغی جماعت پر الزام تراشی کی بات ہو یا آئینی حق کے تحت احتجاج کرنے پر حکومت کا ظلم و ستم ہویا غداری کے فرضی مقدموں کا اندراج ہو، بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی توہین ہو یا دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان ہو ، سیکولر کہلانے والی سبھی پارٹیاں خاموشی میں ہی اپنی عافیت سمجھ بیٹھی ہیں۔مگر یہ عافیت عارضی ہے ، فرقہ پرستی کا پہیہ کسی بھی وقت اُن سب کو کچلتا ہوا گذر جائےگا۔ یوں تو اس صورتِ حال کی شکار ساری اقلیتیں ہیں لیکن مسلماں خاص طور سے نشانے پر ہیں ۔ یو پی میں سیکولرازم کی سب سے بڑی علمبردار سماج وادی پارٹی ہے۔ اس کے مسلم چہرہ سمجھے جانے والے لیڈر اعظم خان اور ان کے اہل خانہ پر مضحکہ خیز الزامات لگا کر مقدمات درج کئے گئے ہیںاور ایک مدت سے انھیں جیل میں رکھا گیاہے لیکن ان کی پارٹی نے ان کی رہائی کے لئے کوئی مہم نہیں چلائی بلکہ پارٹی کے لیڈران نے ان کی حمایت میں کوئی بیان تک نہیں دیا کہ کہیں مسلمانوں کے ہمدرد ہونے کا ٹھپہ نہ لگ جائے۔مسلمانوں میں عام طور پر یہ احساس ہے کہ ان پر اتنا بُرا وقت کبھی نہیں آیا ،یہا ں تک کہ ملک کی تقسیم کے موقع پر بھی نہیں۔ وجہ صاف ہے تقسیم کے وقت ایک محدود حلقہ مذہبی نفرت سے متاثر تھا لیکن آج کے دور میں رسل رسائل کے سارے ذرائع ، اخبارات ، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے حکمراں جماعت اور منافر تنظیمیں نفرت کا زہر پھیلا کر دھرم اور راشٹر کے نام پر جو طوفان کھڑا کیا گیا ہے، وہ عدیم المثال ہے۔ اب جب کہ اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ نے الیکشن کو 80 بنام   20قرار دے دیا ہے اور اتفاقاًاُتر پردیش کی آبادی میں ہندوئوںا ور مسلمانوں کا تناسب بھی یہی ہے۔ اس سے مسلمانوں میں زبردست مایوسی چھائی ہوئی ہے اور خوف بھی۔ اب سیکولر پارٹیاں ہیںاور موہوم سی اُمیدیں۔                    
(  بارہ بنکی  Mb.9450191754,  )      
 
<akhtar.jamal.usmani@gmail.com>