تازہ ترین

ضلعی بہتر حکمرانی کی درجہ بندی | اعدادوشمار بجا،زمینی صورتحال کا بھی جائزہ لیاجائے

تاریخ    26 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
وزیر داخلہ امت شاہ نے سنیچر کو جموںوکشمیر کیلئے عملی طور ملک کی پہلی ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس ( ڈی جی جی آئی ) جاری کی ۔ جامع درجہ بندی میں جموں ضلع سرفہرست رہنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ اسکے بعد ڈوڈہ ، سانبہ ، پلوامہ اور سرینگر کے اضلاع ہیں ۔ضلعی بہتر حکمرانی اشاریہ یعنی ڈی جی جی آئی ایک فریم ورک دستاویز ہے جوگورننس یا حکمرانی کے دس شعبوں کے تحت کارکردگی پر مشتمل ہے جس میں 116 ڈیٹا پوائینٹس کے ساتھ 58 اشارے ہیں ۔ یہ معیار ہر ایک اضلاع کے ذریعہ ڈیٹا اکٹھا کرنے ، سکریننگ اور تصدیق کے سخت اور مضبوط عمل کے بعد اپنایا گیا ہے ۔ اس انڈیکس کے تحت جن گورننس سیکٹروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، ان میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے (11 اشارے ) ، تجارت اور صنعت ( 5 ) ، انسانی وسائل کی ترقی ( 9 ) ، صحت عامہ ( 9 ) ، پبلک انفراسٹریکچر اورعوامی خدمات ( 6 ) ، سماجی بہبود ( 6 ) ، مالی شمولیت ( 3 ) ، عدلیہ اور پبلک سیفٹی ( 4 ) ، ماحولیات ( 2 ) اور عوامی مرکوز گورننس ( 3اشارے ) شامل ہیں ۔
 گوکہ انڈیکس میں انفرادی زمروں کے تحت بھی اضلاع کی درجہ بندی کی گئی ہے اور تمام دس شعبوں کیلئے علیحدہ بھی اضلاع کی درجہ بندی ہوئی ہے تاہم مجموعی درجہ بندی میں گاندر بل 6 ویں مقام پر ، اننت ناگ 7 ویں ، بارہمولہ ضلع 8 ویں مقام پر ، کٹھوعہ 9 ویں اور کپواڑہ 10 ویں مقام پر ہے ۔ انڈیکس میں آخری 10 اضلاع میں کشتواڑ 11 ویں نمبر پر ہے جس کے بعد بڈگام ، ادھم پور ، ریاسی ، بانڈی پورہ، رام بن ، کولگام ، شوپیاں ، پونچھ اور راجوری کے اضلاع سب سے نیچے ہیں ۔گوکہ یہ درجہ بندی سامنے آنے کے فوراً بعد اضلاع کو بہتر کارکردگی کیلئے مبارک بادی کے پیغامات آنے لگے اور متعلقہ اضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو بہتر درجہ بندی کا سہرا دیاگیا تاہم عوامی سطح پر اس حوالہ سے کوئی جوش وخروش نظر نہیں آیا کیونکہ زمینی سطح پر کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے ۔بہتر حکمرانی یا گڈ گورننس کے اعتبار سے اضلاع کی درجہ بندی سے اضلاع کے درمیان صحت مند مقابلہ ہو گا جس سے یقینی طور پرشہریوں کو بہت فائدہ ہو گا تاہم اس درجہ بندی کو اعدادوشمار کے کاغذی گورکھ دھندے سے باہر نکال کر زمینی سطح پرمرتب کیاجائے ۔
جموںوکشمیر کیلئے یہ یقینی طور پر فخر کا مقام ہے کہ جموںوکشمیر ملک کا پہلا خطہ بن گیا جہاں ایسی درجہ بندی کی گئی جس سے بہتر حکمرانی میں مدد مل سکتی ہے اور صحت مند مقابلہ آرائی کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے تاہم جاری کی گئی درجہ بندی رپورٹ کا عام آدمی مطالعہ کرتا ہے تو اس کے پاس سینہ پیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ہے ۔مثال کے طور پر جموں ضلع کو مجموعی درجہ بندی میں سرفہرست رکھاگیا ہے لیکن جب جموں ضلع میں ہی زمینی سطح پر ان تمام دس شعبوں کی حالت دیکھی جاتی ہے تو وہ اُس کو قطعی مثالی قرارنہیں دیاجاسکتا ہے ۔اسی طرح دوسرے ،تیسرے ، چوتھے اور پانچویں نمبر پر بالترتیب ڈوڈہ ،سانبہ ،پلوامہ اور سرینگر کے نام دیکھ کر بھی ہنسی ہی آتی ہے کیونکہ ان اضلاع میں عوامی خدمات کا حال مسلسل بے حال ہی ہے ۔ان پانچوں اضلاع میںزراعت اور اس سے منسلک شعبوں، تجارت اور صنعت ، انسانی وسائل کی ترقی ، صحت عامہ ، پبلک انفراسٹریکچر اورعوامی خدمات ، سماجی بہبود ، مالی شمولیت ( 3 ) ، عدلیہ اور پبلک سیفٹی ، ماحولیاتاور عوامی مرکوز گورننس کے شعبوں اگر خامیاں گنی جائیں تو کتابوں کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اور قطعی ان پانچ اضلاع میں سبھی دس شعبوں کی کارکردگی کو کسی بھی طور مثالی کجا،اطمینان بخش بھی قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔اسی طرح اگر انفرادی شعبوں میں درجہ بندی کے چارٹ یا جدول دیکھیں تو وہ بھی عام آدمی کی نظر میں خیالی پلائو ہی ہیں کیونکہ زمینی سطح پر ان اضلاع کا ان مخصوص شعبوں میں کارکردگی کا خدا ہی حافظ ہے ۔مثلاً رام بن ضلع میں سماجی بہبود شعبہ میں پہلے مقام پر رکھاگیا ہے جبکہ رام بن ضلع میں سماجی بہبود سکیموں کی عمل آوری کا اگر زمینی سطح پر آڈٹ کیاجائے تو ایک افسوس ناک صورتحال ابھر کر سامنے آئے گی ۔ضلع میں ابھی بھی سماجی بہبود سکیموں کے تحت ہزاروں کیس زیر التوا ہیں جبکہ سماجی طور پسماندہ طبقوں کی حالت بھی بہتر ہونا باقی ہے ۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس انڈیکس کو تیار کرنے والی ایجنسیوں کا محکموں کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔دراصل سی جی جی حیدرآباد کے ذریعے تکنیکی مدد کے ساتھ  محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات ( ڈی اے آر پی جی )حکومت ہند کو جموں وکشمیر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ فار پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ اور نظامت معاشیات وشماریات کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مخصوص شعبوں کے حوالے سے کاغذات کی صورت میں جو اعدادوشمار فراہم کئے گئے ،اُنہوں نے اُن اعدادوشمار کی روشنی میں ہی انڈیکس یا درجہ بندی تیار کی تاہم اگر منتخب دس شعبوں میں درجہ بندی تیار کرنے کے کیلئے آئندہ متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار پرمکمل انحصار کرنے کے بجائے زمینی سطح پر ان شعبوں کی حالت دیکھنے کیلئے علاقوںکے دورے کرکے عوام کے ردعمل کو بھی شامل کیاجائے تو یقین سے کہاجاسکتا ہے کہ ایک الگ ہی درجہ بندی ابھر کر سامنے آئے گی ۔بہر کیف فی الوقت اتنا کہاجاسکتا ہے کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے اور اس کا تسلسل جاری رکھا جانا چاہئے تاہم اس درجہ بندی کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کا یر غمال نہ بناتے ہوئے زمینی صورتحال کے جائزہ کو فوقیت دی جانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوسکے اور اُس طرح کی درجہ بندی سے یقینی طور پر نہ صرف شفافیت آجائیگی بلکہ مقابلہ آرائی کے نتیجہ میں حکمرانی کا نظام خودبخود بہتر ہوجائے گا جس سے بالآخرعوام کا ہی بھلا ہوگا۔
 

تازہ ترین