تازہ ترین

بجٹ میں چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کاخیال رکھاجائے:تاجراتحاد

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سرینگر//کشمیر اکنامک الائنس نے پارلیمنٹ میں آئندہ ماہ شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران جموں کشمیر میں چھوٹے دکانداروں، کاروباریوں، ٹرانسپوٹروں  اور صنعت کاروں کا خیال رکھنے کامطالبہ کرتے ہوے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے میں چھوٹے تاجروں کی ہی محنت اور پسینہ کا رفرما ہوتا ہے۔اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین  فاروق احمد ڈار نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوے  حالیہ ’’سی اے جی‘‘ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ کروڑوں روپے کی رقم سے وہ تاجر اور صنعت کار مستفید ہوے جنہیں اس کا حق نہیں تھا اور انہوں نے چھوٹے  تاجروں، کاروباریو ںاور دیگر کے حقوق پر شب خون مارا۔انہوں نے کہا کہ اس تقسیم سے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے دکاندار اور تاجر مستفید ہوسکتے تھے، تاہم جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور اثر رسوخ نے ایک بار پھر چھوٹے تاجروں کو مایوس کیا۔ڈار نے کہا کہ 2014 کے سیلاب کے بعد مسلسل یہ چھوٹے  کاروباری پستے جا رہے ہیں اور اسکیموں پر بڑے مگر مچھوں نے ہاتھ صاف کیا۔انہوں نے کہا کہ تاہم اب ان کا یوم حساب  آگیا ہے اور ان سے یہ رقومات  واپس لیکر حق داروں تک پہنچائی جانی چاہیے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیرمین نے امید ظاہر کی کہ آیندہ ماہ جب پارلیمنٹ میں مسلسل تیسری مرتبہ آیندہ مالی سال کا میزانیہ پیش کیا جاے گا۔ اس میں چھوٹے  دکانداروں، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور ٹھیکیداروں کو فراموش نہیں کیا جاناچاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چھوٹے کاروباریوں کے بنکوں سے لی گئے قرضوں کے سود میں رعایت، ادائیگی کی مدت میں توسیع، آسان قرضوں کی دستیابی، فروغ کاروبار کیلئے معاونت اور ہاتھ تھامنے سے متعلق اسکیموں کو نافذ کرنے سے ان چھوٹے تاجروں کے ٹھنڈے چولہوں کو پھرسے جلانے کیلئے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔فاروق احمد ڈار نے ٹھیکیداروں کی واجب الادا رقومات کی واگزاری کی وکالت کرتے ہوے کہا کہ اس عمل سے تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کی سست رفتار میں اضافہ ہوگااور سالہا سال سے تعمیراتی ٹھیکیداروں کی واجب الادا رقم کی واگزاری سے ان کے مسائل کا ازالہ بھی ہوگا۔ڈار نے کہا کہ وادی میں بیشتر اوقات موسمی ماراور دگر گو حالات کے نتیجے میں تعمیراتی کاموں کیلئے مختص کی گئی رقم ضائع ہوتی ہے، تاہم تعمیر کاروں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ لداخ کی طرز اس کیلئے علیحدہ چسٹ بنایا جاے جس میں یہ رقم جمع رہے گی اور لیپس نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا ہمارے مستقبل کے بجٹ میں مینوفیکچرنگ کی مقامیت کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ہم 60 ہزار کروڑ  روپے سالانہ مالیت کا سامان درآمد کرتے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ اس قابل استعمال کھپت کا زیادہ تر فائدہ جموں و کشمیر سے باہر جاتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں مقامیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ استعمال کی رقم نہ صرف مقامی سرمایہ کاری کی طرف جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے بلکہ سپلائی سائیڈ افراط زر کو پائیدار طریقے سے قابو کرنے میں بھی مدد ملے۔