تازہ ترین

بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں ہوجاتے ! | مسئلہ پیچیدہ کیوں ہوتا جارہا ہے ؟

ایک جائزہ

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


وسیم نذیر بٹ
ہمارے معاشرے کے بگاڑ کے بہت سارے اسباب ہیں، ان میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ دین کو ہم نے مسجدومدرسہ تک محدود کر دیا ہے،باقی زندگی کے سارے معاملات رسم و رواج کے بھینٹ چڑ گئے ہیں، پھر اس کے بعد اچھے نتائج کی توقع کرنا فضول اور عبث ہے۔جب کسی انسان کے آگے روشنی ہوتی ہے تو اسکا سایہ پیچھے ہوتا ہے اور جب روشنی پیچھے ہوتی ہے تو اسکا سایہ آگے ہوتا ہے۔دین روشنی اور دنیا سایہ ہے۔دین کو آگے ,رکھو گے تو دنیا خود بخود پیچھے آئے گی اور دین کو پیچھے رکھو گے تو دنیا آپ سے آگے بھاگے گی۔شادیاں نہ ہونا کتنا بڑا ایشو اور غور طلب مسئلہ ہے ،اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسی وقت ہماری ریاست کے ہر چوتھے گھر میں ایک لڑکی تیس سال کی ہوچکی ہے شادی کے انتظار میں اور ان کے بالوں میں سفیدی لگی ہے۔ جن کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار بنتی ہے۔ ایک اوسط اندازے کے مطابق اس وقت ریاست میں ایک لاکھ لڑکیاں شادی کے منتظر ہیں۔اسی معاشرے کا ایک بیٹا ہونے کے ناطے مجھے یہ مسئلہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ پچھلے تین چار ماہ سے میں اس پہ ریسرچ کر رہا ہوں کہ شادیوں کے راہ میں رکاوٹ کیوں درپیش ہے اور اس رکاوٹ کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔اس بارے میں میں نے لوگوں سے بات کی، ان کی رائے بھی لی۔ پھر ان تمام آرا کی میں نے چھوٹی چھوٹی پرچیاں بنائیں اور پھر ان کا آپس میں ربط تلاش کیا۔
میرے اس تحقیق اور سروے کے مطابق شادیوں کی ہونے میں سب سے بڑی تیں وجوہات ہیں۔
1_۔ جہیز: سب سے بڑی رکاوٹ جہیز ہے۔ والدین کو اکثر اوقات رشتے تو مل جاتے ہیں مگر مطلوبہ جہیزکے وہ قابل نہیں ہوتے۔ جہیز کا مسئلہ لڑکی کے والدین انتہائی عذاب دہ بن چکاہےبلکہ تذلیل ہونے والی بات بھی بن گئی ہے۔گویا اگر جہیز کے کے لئے قرضہ حاصل کرتا ہے تو وہ موجودہ صورت حال میںسالہا سال تک ادا نہیں کرسکتا ہے ۔نتیجتاً اُنہیں ہمیشہ ذلیل ہونا پڑتا ہے ۔اس لئے اب کئی والدین قرضہ کانام سُن کر بے ہوش ہوجاتے ہیںاور اپنی بیٹیوں کی شادیاں سر انجام نہ دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔جبکہ حقیقت ِ حال سے کوئی واقف بھی نہیں ہوتا ،بس دوسرے لوگ محض طعنہ زنی ہی کرتے رہتے ہیںاور اس طرح بھی اس کی ذلالت کی جاتی ہے۔حالانکہ"جہیز خوری"اسلام میں حرام ہے لیکن اس کی کون پرواہ کرتا ہے؟لہٰذا جلد سے جلد بند جہیز خوری پر قدغن لگنی چاہئے،تاکہ غریب ماں باپ اپنی کنواری بیٹیوں کو جہیز نہ ہونے کی باعث گھروں میں بٹھانے کے بجائے جلد سے جلد اپنی زندگی میں ہی انکا سے نکاح کراسکیں۔ لڑکیوں کے والدین کو بھی چاہئے کہ وہ لڑکے کے "Bank balance" سے زیادہ اسکی شرافت دیکھیںپھر بات بن جائے گی۔راقم نے والدین کو جہیز میں وہ سب چیزیں بھی دیتے ہوئے دیکھا ہے، جو ان کے اپنے گھر پر موجود ہی نہیں تھیں۔خدارا !اپنے معاشرے میں موجود غریب بیٹیوں کا خیال رکھیں، وہ بھی تو کسی انسان کی ہی بیٹی ہے۔لازم ہےکہ معاشرہ کا ہر فرد خود کو انکی جگہ پر رکھیں،پھر محسو س کریں کہ اُن کی بیٹیاں کیوں کنواری بیٹھی ہیں۔
2۔ ذات پات: ذات پات وہ ناسور ہے، جس نے کسی طبقے کو نہیں چھوڑا ہے، امیر غریب سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ یہ ناسور بھی شادیوں میںرُکاوٹ کی دوسری بڑی وجہ   ہے، جس نے معاشرے کو کھوکھلاکرکے رکھ دیا ہے۔ اس ذات پات کی وجہ سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ رشتے رد ہوتے رہتے ہیں۔
.3_ بزدلی: یوں تو تقریباً ہر مسئلے کی وجہ ہی بزدلی ہوتی ہے اور یہ وسیع موضوع بھی ہے۔ مگر میں یہاں خاص طور پر بزدلی ایک بہت بڑا ناسور سمجھتا ہوں۔ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی شادی اسلئے نہیں کرتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں بیٹیاں زیادہ سے زیادہ پڑھیں، پھر جاب کریں اور پھر شادی ہو جائے تاکہ ان کی زندگی بہتر سے بہتر گزریں۔ مگر پڑھنے ، جاب حاصل کرنے اور پھر پانچ چھہ سال تک پیسے کمانے میں لڑکی کی زندگی کے بیشتر سال گذرجاتے ہیں یعنی وہ اوور ایج ہوجاتی ہےاور پھر یہی عمر اس کی شادی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔آخر کار والدین کی طرف سے لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ اب خود رشتہ دیکھ لے۔ جبکہ وہ بیچاری 35 سال کراس کرچکی ہوتی ہے۔ بزدل صرف والدین نہیں ہوتے ،بچیاں بھی ہوتی ہیں۔ میں نے سینکڑوں والدین سے اس بارے میں آرائیں سُنیں۔زیادہ تر لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ اُنہیں ایسے لڑکےیعنی ہیرو نہیں ملتے جو ان کو چاہئے۔ کچھ لڑکیاں ایسی لاڈلی بنی ہوئی ہیں توجو شادی کے نام سے چِڑ جاتی ہیں، کیونکہ اُنہیں یہی ڈر کھائے جارہا ہے کہ جو مزے وہ اپنے والدین کے گھر میں اُڑاتی ہیں،وہ  مزے سسرال میں ملنے والے نہیں۔ یہاں تک اُن کی شادی کی عمر ڈھل جاتی ہے اور بالآخربغیر نکاح ہی رہ جاتی ہیں۔
حل: ہمیں چاہیے کہ اس سماجی مسئلے پر ایک بھرپور تحریک چلائی جائے اور شادی ہالوں، دھوم دھام والی شادیوں، جہیز اور ذات پات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
 حکومت یہ بھی کرسکتی ہے کہ سرکاری شادی ہالز بنائے، جہاں منعقدہ شادیوں کی تقریبات میںکچھ مخصوص ڈش اوراور مقررشدہ افراد کی شرکت کی حد بندی ہو،تو یوں شادیاں آسان ہو جائیںگی۔اس سلسلے معاشرے کے نوجوان نسل کو پیش پیش رہنے کی ضرورت ہےتاکہ وہ اپنے معاشرے کی بہن ،بیٹیوںکے والدین کی کسی حد تک مدد کرسکیں۔ظاہر ہے کہ نوجوان نسل کی  مقررہ وقت پر شادیاں نہ ہونے سے معاشرے میں بدکاریاں بڑھ جاتی ہے اور لوگ پستی میںگِر جاتے ہیں کیونکہ ایکطرف نسوانیت ختم ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف مردانگی کا زیاں ہوجاتا ہے۔بے راہ روی کو فروغ ملتا ہے اور دین سے دوری بڑھ جاتی ہے۔کہ شادیوں کا نہ ہونے سے بدکاریاں بڑھ رہی ہیں۔ نسوانیت ختم ہورہی ہیں۔ مردانگی ضائع ہو رہی ہے، بے راہ روی عام ہورہی ہے اور سب سے بڑھ کر دین بیزاری بڑھ رہی ہے۔یاد رکھئے !ہم سب کو ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے ان سب باتوں کے لئے جوب دہ ہونا ہے۔
(سوگن شوپیان،رابطہ۔9070931709)
waseemahmadbhattt@gmail.com
 

تازہ ترین