تازہ ترین

مثبت فکر کےمثبت نتائج ! | رازِ حیات جاننے کے لئے بااخلاق بن جائیں

فکرو فہم

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ناصر منصور
امن کے مقابلہ میں جارحانہ فکر ایک منفی سوچ کے تحت ردعمل کا نتيجہ ہوتا ہے ۔جارحانہ سوچ انفرادی ہو یا اجتماعی اپنے آپ میں ایک قلیل ذہن کی مثال ہے۔ اسلام میں جارحانہ سوچ کی کوئی جگہ نہیں ،تمام دوسرے ممکنات و امکانات کو نظر انداز کرنے کا دوسرا اور آخری نام جارحانہ اقدام ہے۔ اگر آپ کے پاس علمی و قلمی صلاحيت نہیں تو آپ کا آخری ہتھيار یا تو جاہلانہ الفاظ ہے یا من مانی قسم کی دھاندلی۔ایک صاحب نے گفتگو کے دوران راقم الحروف سے کہا :اللہ تعالی کافروں کو نیست و نابود کریں ۔ میں نے مختصر الفاظ میں اس صاحب کو اعتراض جتایا کہ آپ جاہلانہ بولی بول رہے ہیں نہ کہ عالمانہ۔ میں نے کہا اگر ہم اپنی شجرہ نسب دیکھیں تو کچھ صدیوں پہلے ہمارےآباو اجداد کافر ہی تو تھے، یہ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ ہم تبليغ کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔اُس وقت کے داعی اگر ہم جیسے مدعو کے بارے میں یہی رائے رکھتے کہ یہ کافر ہیں تو آج ہم کیوں کر مسلمین ہوتے۔اللہ رب العزت اپنے کلام پاک میں مشرکین مکہ کو اللہ تعالی کی راہ حسن گفتار حکمت و دانائی کے ساتھ مدعو کرنے کی ترغیب دیتےہوئے نصیحت فرماتے ہیں: اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ  لوگوں کواپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور اُن سے بحث ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو، بے شک آپ ؐکا رب اُس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔( سورہ النحل 125 )حسن گفتاری کی عمدہ مثال اس سے بڑی اور  کیا ہوسکتی ہے کہ کشمیر میں میر سید علی ہمدانی رحمہ اللہ، جو شاہ ہمدان کے نام سے مشہور ہیں اورجن کا لقب امیر کبیر ہے، جب بر صغیر آئے اور قریباً سات سو سال قبل کشمیر تشریف لائے۔تو اپنے حُسنِ اخلاق اور شیریں تبلیغ کےذریعے ہی یہاںدین ِ اسلام فروغ دینے میں کامیا ب و کامران ہوئے۔آج بھی اُن کے نام کی مسجدیں و خانقاہیں وادی کشمیر کی زینت بنی ہوئی ہیں ،آستانہ خانقاہ معلی جو دریائے جہلم کے ساتھ متصل ہے اور درگاہ شاہ ہمدان سرینگر وغیرہ بھی قابل ِذکر ہیں۔ آپ ؒ کی تبلیغی گفتار میں ذاتی کردار نمایاں کمال ادب اور حسن بصیرت کے ساتھ نورانی تھا ،جس میں کسی قسم کی جار حانہ اقدام نہیں بلکہ صنعت و حرفت کا بھی تھا۔ دعوت ِدین اور معرفت کے ساتھ ساتھ آپ نے صنعت سازی بھی کی ، جس کی وجہ سے قالین سازی یا پشمینہ سازی عام لوگوں تک پھیل گئی، دین سازی کے ساتھ صنعت سازی کرنابذات خود یہ احساس دلاتا ہے کہ اُن کا اصل مقصددعوت دین کو ہموار کرنا تھا نہ کہ صنعت سازی۔ بغور مطالعہ کیا جائےتو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ امت ِ مسلمہ میں اوصاف ِحمیدہ اور خیر و خوبی کی کمی آگئی اور دعوتی رُجحان کا فقدان رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میںدوسرے اقوام میں مسلمان کا جو دعوتی ماڈل تھا،ہماری اپنی غیر ذمہ دارانہ کارکردگیوں اور غیر محسنانہ رویوںسے مسخ ہوتا رہا۔ دعوت ِدین مجروح ہی نہیں بلکہ اس طرزِ عمل سے جارحانہ فکر وجود میں آیا۔ جس کا دوسرا نام رد عمل والی نفسیات ہے جو کسی بھی صحت مند قوم کے لیے مفید نہیں ۔ دعوتی میدان میں مخالف سمت سے کتنی ہی جارحیت کا سامنا ہو،فریق مقابلہ فریق کافر یا مشرک کے الفاظ بول کر داعی کا اصل مقصد فوت کردیتا ہے۔ہم ُاسی وقت صحیح یا اسلامی ہوسکتے ہیں، جب دوسروں کو غلط اور غیر اسلامی ثابت کرسکتے۔ داعی کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ لفظ کافر و مشرک کے الفاظ ترک کرکے داعی و مدعو کا ماحول ہموار کریں ۔ بہر کیف اللہ تعالی کے دعوتی مشن سے جڑ کر اہتمام حجت کا فریضہ پیغمبروں کے بعد ہم پر لازم ہے کہ اس فریضہ کا اہتمام آخری دم تک جاری رکھیں تاکہ دعوت دین کی حجت پوری ہو۔ 
مثبت سوچ کی ایک مثال :  ۔حسب معمول میں صبح سویرے کام پر جارہا تھا کہ ایک سِکوٹی اور ایک تویرا گاڑی میں تصادم ہوا ،کوئی مالی و جانی نقصان نہ ہوا ۔ سکوٹی پر تین نوجوان سوار تھے ۔ سکوٹی سے گرتے ہی تینوں نوجوانوں نے جب ہوش سنبھالا تو تویرا گاڑی کے ڈرائيور پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ اگر ڈرائيور دانش مندی نہ دکھاتا تو پھر اللہ ہی حافظ۔ ڈرائيور نے تینوں نوجوانوں کو یہ کہہ کر چپ کرایا کہ’’ میری ہی غلطی تھی ،میری ہی غلطی ہے‘‘ ۔ نوجوانوں نے جب یہ اعترافِ جُرم کے یہ بول سُنے تو اُن کی جوانی کا جوش ایک ہی لمحہ میں منہدم ہوا اور کہ تیزی سے چلتی ہوئی سانسیںیکدم تھم گئیںاور انہوں نے اپنی مٹھیوں کو دانتوں سمیت مضبوطی سے دبا کر اپنی شرارت کی بڑھاس نکالی۔یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ معمولی بات پر بگڑ جاتا ہے، چاہے شعوری ہو یا غیر شعوری۔ اگر آپ خود یہ جانتےہیں کہ آپ اکثر لا شعوری میں جیتےہیں، آپ جوش کے وقت ہوش نہیں رکھ پاتے ہیں، بعد ازاں اپنی عقل پر ہی ماتم کرتےہیں۔ ایسے لوگوں کو پیشگی طور ہميشہ اس کے لئے آمادہ تیار (prepare) رہنا چاہیے کہ اپنے اندر مثبت فکر والے انسان کو جگا کر رہے تاکہ وہ منفی فکر کے اوپر غالب آ کر منفیت کو مثبت میں تبدیل کرے۔نتيجہ مذکورہ بالا کہ مثبت سوچ کے تحت معافی مانگ کر ابتدائی مرحلہ میں ہی معاملہ رفع دفع کردینا۔ شریعت اسلام میں اسی کو پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر یا اعلیٰ اخلاق کہتے ہیں اور حسنِ اخلاق سے بھی تعبير کیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اس لئے بیجا گیا ہوں کہ حسن اخلاق کی تکمیل کروں۔ ایک حدیث میں یہ آیاہے کہ تین چیزیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعلیٰ اخلاق سے ہیں ۔ جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو ۔ جو تم کو دینے سے محروم رکھے، تم اس کو دو اور جو تم سے کٹے، تم اس سے جڑو ۔ اختصار سے اگر سمجھا جائے تو مطلب یہ ہے کہ آپ دوسرے کو اپنے مقابلہ میں دوسرا فریق مت سمجھے بلکہ یہ سمجھے کہ وہ بھی میری ہی طرح ایک انسان ہے ۔آپ کی حسن اخلاق سے اس کے اندرون سے بھی آپ جیسا اخلاقی انسان جاگے گا ۔ اعلیٰ اخلاق وہ ہے جس میں آدمی فریق ثانی کے رویہ سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرتا ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کے اخلاق بغير لفظی تکرار کے مثبت والے ہوں نہ کہ منفی سوچ کے تحت جوابی اخلاق۔
الطاف حسین حالی کا وہ شعر یاد آگیا جو انہوں نے اپنے مخالفين کے بارے میں لکھا تھا ۔؎
کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چین ہوئے چپ 
سب کچھ کہا انہوں نے پر ہم نے دم نہ مارا
بات کو گوار کرنا بولنے سے بہتر ہے ،اگر آپ بھی جواب میں بول پڑیں تو ممکن ہے کہ آپ بھی بد اخلاقی کے حدیںپھلانگ لیں۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا بہترین عمل کون سا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:  اچھے اخلاق ۔اگر آپ رازِ حیات کو جاننا چاہتے ہیں تو آپ بااخلاق بن جائیں ،آپ اپنے اخلاقی رویوں کی وجہ سے معاشرتی تعلقات کا ایک وسیع جال بچھا سکتے ہیں۔
طالب علم ۔ اومپورہ ،ہاوسنگ کالونی 
رابطہ۔9906736886

تازہ ترین