تازہ ترین

جان ہے تو جہاں ہے! | اومیکرون،علائم، احتیاط اور علاج

فکر ِ صحت

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


بشیر اطہر خانپوری
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کووڈ کے بعد ایک اور بیماری نے دنیا بھر میں ہلچل مچائی ہے جس کی وجہ سے تمام ممالک خوفزدہ ہیں اس بیماری کا نام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اومیکرون رکھا ہے چوبیس نومبر 2021میں اس وئیرینٹ کی پہچان ساوتھ افریقہ میں ہوئی اس بیماری میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور دنیا بھر میں اس بیماری کے مختلف موارد ہیں ۔کووڈ کی طرح بھی اس بیماری کےلئے ابھی ادویات دستیاب نہیں اور دنیا بھر کے سائنسدان اس بیماری کے وجوہات اور علائم کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہےکہ اس بیماری سے بچنے کیلئے ہمیں عقل اور شعور سے کام لینا  ضروری ہے تاکہ کووِڈ کی طرح اس بیماری سے انسانی جانیں ضائع نہ ہوجائیں ،ہمیں بے شعور اور من گھڑت قصہ کہانیوں سے بھی دور رہنا چاہیے کیونکہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کووڈ کی طرح اس بیماری کو بھی مزاق سمجھتے ہیں ۔ایک بات جو ہم سب جانتے ہیں کہ ہم نے کووڈ کو بھی عبث سمجھ کر خود کو ٹیکے نہیں لگوائے، الغرض میری آپ سب حضرات سے گزارش ہے کہ خود کو اور دوسروں کو بھی ان وبائی امراض سے بچائیں اور افوا بازی پر کان نہ دھریں اور سرکار کی طرف سے جاری کی گئی گائیڈ لائنز کا پالن کریں۔ اومیکرون بھی کووڈ کی طرح ایک شیریں اور نرم بیماری ہے جو تب تک محسوس نہیں ہوتی، جب تک نہ انسان اس کی لپیٹ میں آیا ہوتا ہے۔ اومیکرون کے جو سب سے زیادہ علامات ہیں، ان میںبخار، کھانسی، جسمانی تھکاوٹ، چھکھنے اور سونگھنے میں بےمزگی وغیرہ ہے۔ ان کے علاوہ جو کم علامات پائی جاتی ہیں ان میں گلے میں خراش پیدا ہونا، سردرد، سرخ اور جھلائی ہوئی آنکھیں بھی ہیں اور جو سب سے سنجیدہ اور تشویشناک علامتیں ہیں، ان میں کھانسنے میں تکلیف،بولنے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ چھاتی میں درد وغیرہ ہیں اور ان تکالیف کی طرف فوری طور دھیان دینا چاہیے۔ جب کسی شخص میں یہ علامتیں پائی جائیں تو اس کو فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے اور خود کی جانچ کروانی چاہیے یا کووڈ کے ٹیسٹ وغیرہ بھی کروانے چاہیے تاکہ خود بھی بچ سکے اور دوسروں مثلاً گھر والوں یا اپنے کے ساتھ کام کرنے والے بھی بچائے۔ یہ بیماریاں چھپانے سے زیادہ پھیلتی ہیں ،ان بیماریوں کےلئے اگرچہ ایک طرف ڈاکٹر صاحبان کے مشورے اور ادویات لینے پر عمل کرنا چاہئے وہیں دوسری جانب  ایسےکئی گھریلو نسخے بھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔جن کی ایلوپیتھک اور ہومیوپیتھک کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے ۔انسان کو اچھے اور مقوی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے اور ایسے غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے، جن سے انسان کے امیون سسٹم کو کوئی نقصان پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسےامیون سسٹم سے نوازا ہے، جو ہمیں بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے اور اسی قوت مدافعت سے ہم اکثر بیماریوں سے دور رہ سکتے ہیں، اسی امیون سسٹم کو مزید قوت دینے کےلئے ڈاکٹر کبھی کبھار ٹیکہ لگاتے ہیںاور مقوی غذائیں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
 Zinc  والے کھانے:زنک سے ہمارے جسم میں ایک خاص قسم کی قوت مل جاتی ہےاور جسم بیماریوں سے لڑتا ہے، خاص کر اومیکرون کے مریضوں کو زنک والی غذاؤں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ قدو کے بيٖج، کاجو اور مچھلیوں میں بڑی تعداد میں Zinc پائی جاتی ہے، اس لئے اومیکرون بیماروں کو ایسی چیزیں ضرور کھلائیں۔
 وٹامن Cسے بھری غذائیں: وہ غذائیں، جن میں سائٹرک بڑی تعداد میں موجود ہوتی ہیں۔ ان میں وٹامن سیVitamin Cکمپوننٹ زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا ایسی غذائیں استعمال کرنے سے بھی اومیکرون بیمار جلدی صحت یاب ہوسکتے ہیں۔ سائٹرک میووں، گاوا یعنی امرود، ہری پتی والی سبزیاں، کِیوی ایک قسم کا میوہ اور اسٹرابیری وغیرہ کھانے سے انسان میں وٹامن سی کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور انسانی جسم کو بیماریاں لگنے سے وٹامن سی کا اہم رول ادا کرتا ہے۔ 
اس کے علاوہ ایسی غذائیں بھی مریضوں کو کھلائیں جن میں وٹامن ڈی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ وٹامن ڈی مشروم، انڈوں کی زردی اور دودھ میں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بیمار کو کم سے کم ایک گھنٹے سورج کے نیچے براہ راست بیٹھنے سے بھی وٹامن ڈی کی کمی پوری ہوجاتی ہے کیونکہ سائنسدانوں نے سورج کی روشنی میں کے نیچے بیٹھنا ضروری قرار دیا ہے۔
پروٹین سے بھرپور غذائیں استعمال کرنے سے بھی اومیکرون مریض میں قوت پیدا ہوتی ہے یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ پٹھوں کے بنانے میں جن Cells خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ان خلیوں کے بنانے میں پروٹین والی غذائیں کارآمد ہوتی ہیں اور انسانی جسم کی ساخت کو برقرار رکھنے کے علاوہ اس کی امیونیٹی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ اخروٹ،ڈائری پروڈکٹ جیسے پنیر، مکھن اور دودھ، چکن، مچھلی اور انڈوں میں پروٹین کافی مقدار میں پائی جاتی ہے۔
عام طور پر دیکھا جاچُکا ہے کہ لوگ قدرتی چیزیں بھی استعمال کرتے ہیں اور ان کے مشروبات بناکر اپنے امیون سسٹم کو بڑھاوا دیتے ہیں ،جن کی آج کے اس وبائی دور میں تصدیق کی گئی ہےاور اکثر معالجین ان چیزوں کے استعمال میں لانے کی سفارش بھی کرتے ہیں۔ ان میں تُلسی، ادرک،کالی مرچ، لونگ، الائچی اور لہسن بھی شامل ہیں ۔ان چیزوں کا مشروب تیار کرکے بیمار کو خالی پیٹ پِلانے سے بیمار کا امیون سسٹم قوی ہوجاتا ہے اور اس کا جسم کسی بھی قسم کی بیماری سے لڑنے کےلئے تیار رہ جاتا ہے ۔ بہت سارے مشروبات جیسے ناریل پانی، آملہ کا رس اور لسی وغیرہ پینے سے بھی لوگ اومیکرون سے بچ سکتے ہیں۔ ادویات کا استعمال کرنے سے پہلے اگر ان چیزوں کا استعمال کیا جائے تو اومیکرون اورکووڈ جیسی بیماریوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کےلئے انسان کو کئی طرح کے احتیاط سے بھی کام لینا چاہیے مثلاً بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں، اگر جانا ضروری ہے تو تین تہہ والی ماسک کا استعمال کریں ۔جن بیماروں میں ایسی علامتیں پائی جاتی ہیں ان سے دور رہیں  ۔بچوں، بوڑھوں، مریضوں اور حاملہ عورتوں کی جگہیں صاف رکھنے کے  ساتھ ساتھ ان جگہوں کو گرم رکھیں جبکہ ہوا آنے جانےکی بھی گنجائش رکھیںتاکہ آکسیجن بھی برقرار رہ سکے۔ مزید ڈاکٹروں سے بھی صلاح مشورہ لیتے رہنا چاہئے۔اور یہ مشہور محاورہ یاد رکھنا چاہئے کہ جان ہے تو جہاں ہے۔
(رابطہ۔7006259067)
 

تازہ ترین