تازہ ترین

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال | خدا گنجے کو ناخُن نہ دے !

حال و احوال

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مدثر حسن مرچال
  بنی آدم کے ارتقائی سفر میں جن بیش بہا نعمتوں نے ترقی کی رفتار کو تیز کر دیا ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قابلِ ذکر ہے۔ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہی عمل دخل لگ بھگ ہر شعبے میں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ رفتہ میں کسی شخص کے تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل اُس کی تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ اس کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سوجھ بوجھ میں مضمر مانی جاتی ہے۔ عام الفاظ میں کہیں تو کمپیوٹر کی جانکاری کے بغیر اونچی تعلیم حاصل کرنے والا شخص بھی انپڑ ھ تصور کیا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یا اطلاعاتی تکنالوجی میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کے ذریعے ایک انسان  مختلف طرز کی معلومات  یعنی عکسِ ساکن ( تصویر)، عکسِ متحرک (ویڈیو) ، یا معلوماتِ تحریری کی تخلیق، تبادلہ ، نقل یا زخیرہ گری کر سکتا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے 1958 میں مضمون میں کیا گیا تھا۔ چارلس بیبیج (Charles Babbage ) کی طرف سے کمپیوٹر کی ایجاد اور اس کے  بعد کمپیوٹرکی پہلی چند نسلیں انفارمیشن تکنالوجی کی Infancy مانی جاتی ہے۔ اس کے بعد  1969 ؁ء میں کئی کمپیوٹرس کو آپس میں جوڑ کر معلومات کو ایک کمپیوٹر سے دوسرے میں منتقل کرنے کا  یعنی کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کا Concept  وجود میں آیا، تو اس وقت جنم ہوا انٹرنیٹ کا جس میں نمایاں خدمات انجام دینے والے امریکی سائینس دان Vintcerf کو بابائے انٹرنیٹ یعنیFather of Internet  کا خطاب ملا۔ اسی کمپیوٹر نیٹ ورکنگ نے  رفتہ رفتہ ہزاروں ایسی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز کو جنم دیا، جنہیں سوشل میڈیا کے ضمرے میں لایا جاتا ہے۔ جہاں کبھی کسی زمانے میں اخبار ایک واحد ذریعہ ہوتا تھا، دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنے کے لئے اور بعدازاں  ریڈیو اور ٹیلی وچن نے انسان کو مزید باخبر بنا دیا، وہیں اب سوشل میڈیا نے اس تیزگام زندگی میں انسان کے لئے دنیا بھر کا حال معلوم کرنے میں مزید آسانیاں پیدا کیں۔ سوشل میڈیا  در حقیقت ایسی ویب سائیٹس (Websites)  اور ایپلیکیشنز(Applications) کا مجموعی نام ہے، جن کے ذریعے انسان اپنے خیالات، تاثرات اور جزبات کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور حادثات کو یوں مشتہر کرتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں رہنے والے لوگوں تک پہنچ جائے۔سوشل میڈیا سائیٹس میں فیسبُک ، ٹویٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹیلی گرام، واٹس ایپ، اور سنیپ چیٹ وغیرہ  مقبولِ عام ہیں۔ اگرچہ یہ ساری ایپلیکیشنز اور ویب سائیٹس پچھلی چند دہائیوں سے ہی نظر آرہی ہیں لیکن سوشل میڈیا کا تصور کافی پہلے وجود میں آیا تھا۔
اس بات کو بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شروعات اُن ہی دِنوں ہوئی تھی جب  PLATO یعنی Programmed Logic for Automatic Teaching Operations کی بنیاد پڑی تھی ۔ اس پروگرام کو 1960 میں یونیورسٹی آف ایلِنوائیس University Of Illinois کے کمپیوٹر پہ چلایا گیا تھا۔ تاریخ کو مزید کھنگالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے پہلا آن لائین چیٹ روم Online Chat room   70 کی دہائی میں ٹالکومیٹِک (Talkomatic ) نام سے شروع کیا گیا تھا۔ بہر کیف سوشل میڈیا جو اب ہمارے پاس موبائیل ایپلیکیشنز کی صورت میں موجود ہے  کافی حد تک ایڈوانس ہے جس کی وجہ سے یہ کافی زیادہ کارآمد بھی ہے۔ سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پوری دنیا میں کورونا وائرس نے نظامِ زندگی کو ٹھپ کر دیا تب سوشل میڈیا بشمول یوٹیوب، واٹس ایپ اور فیسبُک ہی تھا جس نے شعبہ ٔطب، شعبہ تعلیم اور شعبہ صحافت کو رواں دواں رکھنے میں اپنا کلیدی رول ادا کیا۔ آن لائین تعلیم حاصل کرنے کی بات ہو تو یوٹیوب ، ہزاروں میل دُور کسی اپنے سے رابطہ قائم کرنا ہو تو فیسبُک، ٹویٹر وغیرہ غرض سوشل میڈیا کے قریب قریب تمام تر ویب سائٹ اور ایپلیکیشن نہایت ہی کارآمد ہیں۔دراصل سوشل میڈیا  کے وجود میں آنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ دنیا جو اب گلوبل ولیج بن چُکی ہے میں میلوں دُور رابطہ کرنا آسان ہو جائے اور ہر شعبۂ زندگی کو ایک نئی سمت ملے۔ لیکن سوشل میڈیا  ہر کسی شخص کے لئے مہیا ایک Open platform  ہے جس کی وجہ سے اس کا صحیح اور غلط استعمال دونوں ممکن ہیں۔ سوشل میڈیا کے جائز و ناجائز، دونوں طرح کے استعمال  نے  اسے کسی کے لئے رحمت تو کسی کے لئے زحمت بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ بات کو کھُل کے کہا جائے تو جرائم پیشہ افراد کے لئے بھی  سوشل میڈیا ایک خاص ہتھیار بن کر اُبھرنے لگا۔ نتیجتاًجرائم کا گراف دن بہ دن بھڑتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے بالعموم اور سوشل میڈیا کے ذریعے بالخصوص انجام دئے جانے والے جرائم کو قانونی اصطلاح میں سائبر کرائم (Cyber crime) کہا جاتا ہے۔ سائبر کرائمز،  جن میں سوشل میڈیا فراڈ کے ذریعے کسی کے بنک ایکاوئنٹ سے پیسے نِکالنا، کسی کی شبیہ بگھاڑنا یعنی  Cyber bullying  اور بلیک میل کر کے پیسے اینٹھنا  وغیرہ شامل ہے،  دن بہ دن طرح طرح کی مشکلات کو جنم دے رہے ہیں۔ خودکشی، جسے عالمی سطح  پہ ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ  بتایا جارہا ہے،  میں پچھلی دہائیوں سے ہوشربا اظافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ایک رپورٹ کی مانیں توسال بھر دنیا  میںلگ بھگ دس لاکھ افراد زندگی کی جدوجہد اور کشمکش سے ناکامی  کی صورت میں خودسوزی کرتے ہیں۔ کئی محققین کا کہنا ہے کہ خودکشی کے ان بڑھتے واقعات کا بھی کہیں نہ کہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے تعلق ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے شواہدلگ بھگ دنیا کے ہر کُونے سے ملتے ہیں  وہاں اب  ریشیوں اور صاحبانِ علم کی سرزمین کشمیر بھی اچھوتی نہیں ۔ 
کشمیر میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال میں کافی حد تک بے ضا بطگی اور بچگانہ روش دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا نے انسان کے لئے اس امر کو آسان بنایا کہ پوری دنیا کے حالات و واقعات سے باخبر ہونے میں انگشت کی محض ایک جنبش کی دیر ہوتی ہے۔  دوسری طرف کُچھ لوگوں کو اسی سوشل میڈیا نے زار و قطار رُلایا۔ قارئین اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں کشمیر میں دنیا بھر کے باقی علاقوں کی طرح ہی ایسے معاملات پیش آتے رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے  بلیک میلنگ یا  پروپگنڈے سے کروڈوں روپئے لوٹے جاتے ہیں۔ یہاں اگر فیسبُک اور انسٹاگرام کے استعمال  نے صحافت کا کام آسان بنا دیا لیکن  دوسری طرف اسی فیسبُک صحافت سے  یہ مسئلہ  بھی پیش آیا کہ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد سوشل میڈیا پر چینلز بنا کر خود ساختہ صحافی  بن گئے جس سے خبروں کی  ترسیل میں ملاوٹ ضرور ہوئی۔ کون سی خبر باوثوق ذرایع سے ملی ہے اور کون سی خبر جھوٹی ہے جسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ، اس بات کا اندازہ لگانا عام سوشل میڈیا یوزر (User) کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا سے کسی بھی طرح کا پروپگنڈہ پھیلانا آئی ٹی سیلز کے لئے آسان ہوگیا ہے۔  
مثال کے طور پر قارئین کو حال ہی میں پیش آیاواقعہ یاد ہی ہوگا، جس میں بیرونِ ریاست زیرِ تعلیم کشمیری طلباء کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش میں ایک ٹیلی فون پہ ہوئی بات چیت کو سوشل میڈیا پہ مشتہر کیا گیا تھا۔ جس نے آناً فاناً مباحثے کی صورت اختیار کی۔ ایسا واقعہ پیش آنے کے پیچھے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ سرگرم خود ساختہ صحافیوں میں بیشتر کو صحافت کے اصول معلوم ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی باز پرس ہوتی ہے۔ ورنہ کسی بھی ہوشمند کے لئے اس بات کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ کسی بھی طرح کی ٹیلی فون کال یا ویڈیو یا آڈیو کو ، جس میں کسی بھی شخص یا جماعت کے خلاف تاثرات پیش کئے گئے ہوں یا جس سے کسی شخص یا جماعت کی شبیہ کے بگڑنے کا اندیشہ ہو ،  منظرِ عام پہ نہیں لایا جاسکتا ،جب تک کم سے کم کہانی کا دوسرا رُخ بھی پیش کیا جائے ۔ مذکورہ ٹیلی فون کال میں کشمیری طلباء کے خلاف جس طرح کے تاپڑ توڑ الزامات لگائے گئے تھے، اُس سے کشمیر سے باہر زیرِ تعلیم جملہ طلباء کے کردار پہ سوال اُٹھنا عام بات ہے ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں سوشل میڈیا کا استعمال بچگانہ انداز میں کرتے ہوئے  ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہو، ایسے کئی اور واقعات و معاملات پیش آتے رہے ہیں، جن میں کشمیری قوم کے ہاتھ بعدازاں سوائے شرمندگی اور ندامت کے کُچھ نہیں آیا۔ شرمندہ کر دینے والے ان معاملات میں ،کسی بھی چھوٹی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، کسی بھی شخص کا میڈیا ٹرائل کرنااور کسی بھی طرح کی جھوٹی خبر پھیلانا شامل ہے۔ 
سوشل میڈیا کے بے جا  استعمال کی ایک اور زندہ مثال یہ بھی ہے کہ فیسبُک اور انسٹاگرام پر Prank نام کی ایک عجیب بیماری نے جنم لیا ہے۔ جس میں کسی بھی عمر  کے شخص کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آنے اور اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر مشتہر کرنے کو   Talent سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کسی کی تذلیل کر کے اس کا مزہ لینا کس قدر  احمقانہ حرکت ہے اس کا فیصلہ قارئین خود کریں۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ اس طرح کی احمقانہ حرکتیں بھی ہمارے یہاں  ہُنرمندی سے تعبیر ہوتی ہیں۔ ہُنر کی اسی غلط تشریح نے کسی کو آڈی ٹیڑی اُردو بولنے پر توکسی کو احمقانہ کلام کرنے پر، اسٹار بنا دیا جبکہ اصل ہُنر مند در در کی ٹھوکریں کھائے پھرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے غلط و بچگانہ استعمال سے جو تخریبی نتائج دیکھنے کو ملے ،وہ نہایت ہی پریشان کُن ہیں ۔ زبان کا معیار گرتا چلا گیا ، صحیح اور غلط کا تصور مِٹتا چلا گیا، اخلاقی گراوٹ کے واضح اشارے ملنے لگے ،  ٹیلنٹ و ہُنر کے نام پہ معیوب چیزیں وائرل ہوتی رہیں، نیز مذہب اور کلچر کو آلودہ کرنے کی سازشیں پنپنے اور پروان چڑھنے لگیں۔ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے چند ایک شر پسند افراد نے نہ مذہب اور کلچر کا خیال رکھا اور نہ ہی زبان و ادب کا پاس و لحاظ۔  ایسے میں لازمی بنتا ہے کہ محاسبہ اور خود شناسی سے کام لیتے ہوئے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے  افراد ہر پوسٹ، آڈیو، فوٹو یا ویڈیو کو منظرِ عام پہ لانے سے پہلے اس سے برآمد ہونے والے ممکنہ نتائج کو ذہن میں ضرور لائے۔ سوشل میڈیا پر سرگرم خودساختہ میڈیا کے لئے لازمی بنتا ہے کہ ہر خبر کی تشہیر سے پہلے پڑتال ہو، اور خبر کو خبر کی طرح ہی پیش کیا جائے، فیصلے کی طرح یا مہم کی طرح پیش نہ کیا جائے۔ اگر کوئی بھی سوشل میڈیا رپورٹر غلط خبر کی تشہیر کرتا ہے یا بنا پڑتال کے خبر وائرل کرتا ہے تو میڈیا ایسوسیشنز اُس کی بازپرس کرے ۔ کسی شخص پہ الزام لگایا گیا ہو تو تصویر کے دونوں رُخ بے باکی کے ساتھ عوام کے سامنے لائے جائیں اور فیصلہ کرنے کا حق عوام کو ہی دیا جائے۔ نیز اسٹنگ آپریشن ( Sting Operation ) کے نام پہ ہو رہی بلیک میلنگ اور گھناونے دھندے کو روکا جائے۔  اتنا ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پہ Prank یا Roast کے نام پہ  ہونے والی گالی گلوچ اور بے ہودگی کو جلد سے جلد روکا جائے۔  
(ہردوشیواہ زینہ گیر ،رابطہ۔9149468735)
 

تازہ ترین