تازہ ترین

جموںوکشمیر میں صنعتکاری و سرمایہ کاری

مقامی حالات وترجیحات کو نظر انداز نہ کیاجائے!

تاریخ    25 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
وزیرداخلہ امت شاہ نے سنیچر کوجموںوکشمیر کیلئے عملی طور پر ہندوستان کا پہلا’ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے ایک ترجیح ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے کثیر الجہتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم نے جموں وکشمیر کیلئے بہترین صنعتی پالیسی بنائی ہے اور اس کے تحت اب تک 12ہزار کروڑ روپے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں جبکہ آنے والے چند برسوں میں فوری طور 5ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جموں میں آئے گی جبکہ بقول اُن کے گزشتہ 70میں محض12ہزار کروڑ روپے کی ہی سرمایہ کاری ہوئی تھی ۔ وزیرداخلہ کہتے ہیںکہ اس سرمایہ کاری کے نتیجہ میں جموںوکشمیر میںپانچ لاکھ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔بادی النظر میں یہ ایک اچھی پہل ہے اور واقعی جموںوکشمیر میں فوری طور پانچ ہزار اور آنے والے برسوں میں12ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئے گی تو یقینی طور پر جموں وکشمیر کا نقشہ بدل جائے گاتاہم یہ جتنا کہنا آسان ہے ،کرنا اتنا ہی مشکل ہے ۔جس صنعتی پالیسی کی باتیں کی جارہی ہیں ،بے شک اُس سے بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے جموںوکشمیر میں سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوچکی ہیں اورسرمایہ کار جموںوکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرچکے ہیں جبکہ کئی سرمایہ کاروں نے جموںوکشمیر حکومت کے ساتھ معاہدے بھی کئے ہیں جن میں دوبئی کے سرمایہ کار بھی شامل ہیں تاہم مقامی صنعتکاروں کو اس پالیسی پر تحفظات ہیں اور اُن کا مانناہے کہ اس پالیسی کے نتیجہ میں مقامی صنعتکار پچھڑ کررہ جائیں گے اور یوں جمو ں وکشمیر میں اگر صنعتی انقلاب آئے گا بھی لیکن اُس میں مقامی صنعتکاروں کاکوئی رول نہیں ہوگا۔
مقامی صنعتکاروں کے خدشات اپنی جگہ ،لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ مسابقت کا ماحول ضروری ہے ۔ابھی تک مقامی صنعتکاروں کو مسابقتی ماحول سے واسطہ نہیں پڑا ہے اور ایک طرح سے مقامی مارکیٹ پر ان پر غلبہ تھا ،یہ اچھی بات ہے کہ اگر باہر سے سرمایہ کار جموںوکشمیر میں آکر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔اس سے مقامی صنعتکاروںکیلئے بھی مقابلے کی فضاء قائم ہوگی اور ایک طرح سے اُن کا دبدبہ بھی کم ہوگا جس سے یقینی طور پر زمینی سطح پر صارفین کو راحت مل سکتی ہے تاہم اس سارے عمل میں کہیں ایسا بھی نہ ہو کہ مقامی صنعتکارختم ہی ہوجائے ۔سرمایہ کاری اور صنعتکاری سے انکار نہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ جموںوکشمیر میں بھی بھاری سرمایہ کاری ہو لیکن یہ سب مقامی سرمایہ کاروں و صنعتکاروں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔باہر کے سرمایہ کار بلا شبہ کشمیر میں سرمایہ لگائیں لیکن مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جانی چاہئے ۔میڈی سٹی منصوبوں سے لیکر شاپنگ مالوں کی تعمیر کے منصوبوں تک اگر باہر کے سرمایہ کار پیسہ لگاتے ہیں تو اس سے یقینی طور پر مقامی آبادی کو فائدہ پہنچے گا اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں تاہم ایسا نہ ہو کہ ہم مقامی کھلاڑیوں کو ہی دوڑ سے باہر کردیں ۔اس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔علاوہ ازیں ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ جن سرمایہ کاروں کو ہم جموںوکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے بے پناہ مراعات فراہم کررہے ہیں ،کہیں وہ صرف اپنا الو سیدھا ہی نہ کریں۔اگر حکومت اُنہیں مراعات د ے رہی ہے تو اُنہیں اس بات کا پابند بنا یاجائے کہ اُن کی سرمایہ کاری کا فائدہ روزگار اور خدمات کی صورت میں مقامی لوگوں کو ہی پہنچے ۔ماضی کے تجربات انتہائی تلخ ہیں۔ریلوے پروجیکٹوں سے لیکر پن بجلی پروجیکٹوں تک مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے بلند وبانگ وعدے کئے گئے لیکن عملی طور ایسا کچھ نہ ہوا اور پھر ہم نے دیکھا کہ جموںوکشمیر کے مقامی شہریوں کو ان عظیم پروجیکٹوں سے لیبر کا کام بھی بڑی مشکل سے ملا جبکہ کلاس اے ،بی ،سی کیلئے ورک فورس سارا باہر سے لایاگیا اور ڈی کلاس کیلئے کسی حد تک مقامی انسانی وسائل کو بروئے کار لایا گیا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ موجودہ صنعتی پالیسی کے طفیل باہر کے لوگوں کیلئے جموںوکشمیر کے دروازے کھول دئے جائیں اور مقامی نوجوانوں کو احساس ِ محرومی سے دوچار ہونا پڑا۔
اسی طرح ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ جموںوکشمیر ملک کے ایک سرے پر واقع ہے اور یہاں خام مال مہنگے داموں پہنچتا ہے ۔زبردستی یہاں صنعتیں قائم کرنے کی کوششیں کرنے کی بجائے بہتر رہے گا کہ جموںوکشمیر میں مقامی ماحولیاتی ،موسمی اور جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہی اُسی طرح کی صنعتیں قائم کی جائیں۔ویسے بھی یہاں بجلی اور دیگر نوعیت کی سہولیات کے حوالے سے مسلسل مسائل درپیش ہیں اور بجلی کے بغیر صنعتوں کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔اس کامطلب ہے کہ اگر ہمیں یہاں صنعتیں لگانی ہیں تو پہلے ہمیں اُن صنعتوں کیلئے درکار خدمات وسہولیات بھی میسر رکھنا ہونگیں ورنہ یہ بھی مشق فضول ثابت ہوسکتا ہے ۔اس کے علاوہ ہمیں دیکھنا پڑ ے گا کہ یہاں کس طرح کی صنعتیں کامیاب رہ سکتی ہیں اور ہمیں اُسی طر ح کے صنعتی یونٹوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔امید ہے کہ ارباب بست و کشاد اس پالیسی پر آگے بڑھنے سے قبل ان چند گزارشات کو ملحوظ خاطر رکھیں گے تاکہ صنعتی پالیسی مقامی آبادی کی مکمل تائید و حمایت سے کامیابی سے ہمکنار ہوسکے۔
 

تازہ ترین