جموں وکشمیر بہتر حکمرانی کی راہ پر گامزن | حالیہ مہینوں میں کئی اِی۔ گورننس اِصلاحات شروع | اِی ۔ آفس نے جموں وکشمیر کے سرکاری محکموں میں آسان ورک کلچرمتعارف کرایا

تاریخ    24 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سری نگر//جموںوکشمیر جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ نے حالیہ مہینوں میں جموںوکشمیر میں مختلف اِی۔ گورننس اِقدامات متعارف کرتے ہوئے دفتر ی نظام میں اِنقلاب لایا ہے ۔اِی ۔ آفس اَپنانے سے جموںوکشمیر کے بیشتر سرکاری دفاتر میں ایک آسان ، جواب دہ ، مؤثر اور شفاف کاغذی کام کا کلچر قائم ہوا۔ اِی ۔ آفس سسٹم ملازمین کوجانکاری اور خدمات کے لئے ایک گیٹ وے پیش کرتے ہوئے اَپنے کام اور علم کے اشتراک کے ہر پہلو سے متعلق معلومات تک رَسائی کا ایک آسان طریقہ فراہم کر رہا ہے۔اِی ۔ آفس دفاتر میں فائلوں کی تاخیر کو ختم کر کے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں سرکاری محکموں کی مدد کر رہا ہے ۔ اِی ۔ آفس کے آغاز سے نہ صرف فائلوں کو نمٹانے کی رفتار اور کارکردگی میں اِضافہ ہوا ہے بلکہ اِس سے عوامی اہمیت کے مختلف معاملات پر بروقت اور تیز فیصلے بھی کئے جارہے ہیں۔مزید برآں، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے جموںوکشمیر اِنتظامیہ کے اَفسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹوں ( اے پی آرز) کو لکھنے اور ٹریک کرنے کے لئے سمارٹ پر فارمنس اپریزل رِپورٹ ریکارڈنگ آن لائن وِنڈو( ایس پی اے آر آر او ڈبلیو) سسٹم بھی متعارف کیا۔اِس منفرد نظام کو متعارف کرنے کا بنیادی مقصد بروقت اے پی آر ز کو الیکٹرانک طریقے سے بھرنے کی سہولیت فراہم کرنا ہے جو نہ صرف صارف دوست ہے بلکہ اَفسروں کی سہولیت کے مطابق کسی بھی وقت کہیں سے بھی تفصیلات بھرنے کی اِجازت دیتا ہے ۔سسٹم سے پوری طرح سے بھرے ہوئے اے پی آر جمع کرنے میں تاخیر کو کم کرنے کی بھی توقع ہے۔اِس کے علاوہ محکمہ نے الیکٹرانک ویجی لینس کلیئرنس سسٹم بھی شروع کیا۔ یہ نظام تمام سرکاری ملازمین کے حق میں الیکٹرانک / بذریعہ آن لائن موڈ ویجی لینس کلیئر نس فراہم کرتا ہے اور جب انہیں اَپنے سروس کیئر یرکے دوران ضرورت ہو تی ہے۔ملازمین کو اِس سسٹم کے ذریعے اِی میل / ایس ایم ایس کے ذریعے ان کی درخواستوں کی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔جموںوکشمیر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے شہر ی دوست عوام پر مبنی حکمرانی قائم کرنے کے لئے  ’’ستارک ناگرک ایپ‘‘بھی شروع کی جس سے کوئی بھی عام شہری اینٹی کورپشن بیورو( اے سی بی ) کے پاس آن لائن شکایات درج کرسکتا ہے ۔ موبائل ایپلی کیشن رشوت ستانی کے بارے میں معلومات کے بغیر کسی رُکاوٹ کے آسان بنانے اور شہریوں کو آسانی اور نقل و حمل کے ساتھ اَپنی شکایات پیش کرنے کے قابل بنانے کے مقصد سے تیار کی گئی ہے۔جموں وکشمیر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے رشوت ستانی سے پاک اِنتظامیہ کو اِدارہ جاتی بنانے کے اَپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے پراپرٹی ریٹرن کی اِی۔ فائلنگ ( پی آر ایس۔ پورٹل )کے لئے آن لائن پورٹل شروع کیا۔ نیا پورٹل تمام ملازمین کی جائیداد کی تفصیلات تک رَسائی اور نگرانی کی سہولیت فراہم کرے گااور ملازمین کو چوکسی کی منظوری حاصل کرنے میں سہولیت فراہم کرے گا۔یہ پورٹل رشوت خور ملازمین کے خلاف غیر متناسب اثاثہ جات کے معاملات کی تیزی سے جانچ کرنے میں اے سی بی کی مدد کرے گا۔جموںوکشمیر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے جموں وکشمیر یوٹی میں نظم و نسق اور اِنتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کئی اِنتظامی اور اِنسانی وسائل کے اِنتظام میں اِصلاحات بھی متعارف کرائیں۔صوبائی کمشنروں ، ضلع ترقیاتی کمشنروں اور سب صوبائی مجسٹریٹوں کو ان کے ماتحت پر مؤثر کنٹرول کے لئے مزید اِختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔جموںوکشمیر کو ترقی کی راہ پر تیزی سے گامز ن کرنے اور عوامی رَسائی پروگراموں کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کے لئے ، اِنتظامی سیکرٹریوں کو ترقیاتی سکیموں کی نگرانی کے لئے اَضلاع مختص کئے گئے ہیں۔ اِنتظامی سیکرٹریز اِن اَضلاع میں عوامی رَسائی پروگراموں کے دوران عوام سے بات چیت بھی کرتے ہیں تاکہ ترقیاتی کاموں کو ہاتھ میں لینے سے پہلے جائزہ لیا جاسکے۔جموںوکشمیر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے محکموں میں خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کے لئے مختلف محکموں میں تقریباً 25,000 خالی اَسامیوں کی نشاندہی کے بعد تیز ی سے بھرتی کا عمل شروع کیا ہے ۔ مختلف محکموں / سروسز کے لگ بھگ 54 ریکروٹمنٹ رولز کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔ اِس کے علاوہ تنظیم نو کی وجہ سے ابہام / بے ضابطگی کو دُور کرنے کے لئے 98 مختلف قوانین میں نئے سرے سے ترمیم / جاری کیا گیا ہے۔مختلف سطحوں پر اَفسروں اور ملازمین کی حوصلہ اَفزائی کے لئے جی اے ڈی کے زیر اِنتظام مختلف خدمات کے سلسلے میں محکمانہ پروموشن کمیٹیوں کا اِنعقاد کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 500 گزیٹیڈ اور 120 نان گزیٹیڈ سٹاف ممبران کو ترقی دی گئی اور جے کے اے ایس کے تقریباً1,000اَفسروں کو مختلف سطحوں پر ترقی دی گئی ۔ اپریل 2021ء میں نظر ثانی شدہ سنیارٹی لسٹ کے اجرأ کے بعد جے کے اے ایس اَفسروں کے درمیان ایک دہائی پر محیط سنیارٹی کا تنازعہ بھی طے پایا گیا جس کے بعد اَفسران کی کافی ترقیاں کی جائیںگی۔اَفسران اور ملازمین کو دفتری کام میں جدید ترین ٹیکنالوجیوں کے تعارف سے اَپ ڈیٹ رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے تقریباً 2,500 ملازمین کو جے اینڈ کے امپارڈ سمیت مختلف اِداروں میں تربیت دی گئی ۔ اِس کے علاوہ آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے بارے میں جے اینڈ کے امپارڈ سے تقریباً300 سی پی آئی او کو آن لائن تربیت دی گئی۔یہ بات واضح ہے کہ  اِس سال جے کے اے ایس کے  تقریباً 60 سینئر اَفسروں کو نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس ( این سی جی جی ) ، ڈیپارٹمنٹ آف ایڈمنسٹریٹیو ریفارمز اینڈ پبلک گریوینس ( ڈی اے آ ر پی جی )، مرکزی حکومت کے کپسٹی بلڈنگ ٹریننگ پروگرام کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر س دفتر کو موصول ہونے والی عوامی شکایات / شکایایتی ازالے کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لئے جے کے جی اے ڈی نے لیفٹیننٹ گرنر کے حوالہ جات مانیٹرنگ سیل قائم کیا ہے ۔ سیل کو موصول ہونے والی 15,886 شکایات میں سے اَب تک 13,587 شکایات کا ازالہ کیا جاچکا ہے۔نئی ٹیکنالوجیوں کی آمد اور کام کو بہتر طریقے سے نمٹانے کے لئے مزید مضبوط دفتری ٹولز کے تعارف سے جموںوکشمیرجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اِنتظامیہ کا اعصابی مرکز ہونے کی وجہ سے جموںوکشمیر یوٹی میں حکمرانی کی کارکردگی کو بڑھانے کے لئے مستقل بنیاد وں پر تیار ہو رہا ہے۔
 
 
 
 

لداخ میں کووِڈ-  19 179نئے کیس

لیہہ//لداخ میں کووِڈ- 19کے مزید283نئے معاملے سامنے آئے ہیں اوراس طرح خطے میںوباء پھوٹ پڑنے سے اب تک اس بیماری میں مبتلاء ہونے والوں کی تعداد 24,496ہوگئی ہے جبکہ فی الوقت مرکزی زیرانتظام علاقہ میںکووڈکے1,101فعال معاملات ہیں۔لداخ میں ابھی تک اس بیماری نے222لوگوں کی جان لی ہیں جن میں164لیہہ میں اور58کرگل میں شامل ہیں۔تاہم جمعرات کو خطے میں کورونا سے کسی کے فوت ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔خطے میں ابھی تک اس وباء سے22765لوگ شفاپاچکے ہیں۔نئے179معاملوں میں248کاتعلق لیہہ سے ہے جبکہ35کاتعلق کرگل سے ہے۔
 
 
 
 

سندربنی میں دم گھٹنے سے ایک شخص کی موت 

سمت بھارگو
راجوری// راجوری ضلع کے سندر بنی سب ڈویژن میں دم گھٹنے کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقعہ ہو گئی جبکہ دوسرے کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ کہ اس واقعہ میں ھگڑیا بہار کے ایک شخص کی موت ہوگئی جبکہ مادھوپورہ بہار کے رہنے ولا ایک شخص دم گھٹنے سے مشتبہ طور پر متاثر ہونے کی وجہ سے نازک حالت میں ہے ۔پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔دونوں افراد سندر بنی کے لوہارے کوٹ علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔مرنے والوں کی شناخت دھرم ویر سنگھ ولد اکلیش سنگھ سکنہ کھگڑیا بہار کے طور پر کی گئی ہے اوردوسرے شخص کی شناخت وپن سنگھ ولد شادی سنگھ سکنہ مادھوپورہ بہار کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ یہ دونوں سندر بنی کے لوہارے کوٹ میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے اور علاقے کے کچھ لوگوں نے دم گھٹنے کے سلسلہ میںہسپتال منتقل کیا ۔پولیس نے بتایا کہ ان میں سے ایک شخص کو اسپتال میںمردہ قرار دے دیا گیا جبکہ دوسرے کی حالت بھی تشویش ناک تھی ۔
 
 
 
 

نیشنل کانفرنس ہندپاک دوستی کی حامی:کمال

سرینگر//نیشنل کانفرنس اور اس کی پُرخلوص قیادت روز اول سے ہی ہندپاک کی دوستی اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی حامی اور علمبردارر ہی ہے، جس کی تاریخ گواہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل  ہی برصغیر جنوبی ایشیا خصوصاً ریاست میں پائیدار امن کی واحد ضمانت ہے۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری اور سابق کابینہ وزیر ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے جموں میں کارکنوں، عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا جس قدرریاست کے خصوصی درجہ  کی بحالی میں طول دیا جائے گا اور ملک کی سالمیت اور آزادی کے لئے اچھا نہیں ہے اور ریاست میں عوامی نمائندہ سرکار ہی تمام عوامی مسائل حل کرنے کی اہل ہوتی ہے اور کسی بھی بڑے سے بڑے حکمران (مرکز کی قیادت) کو ایسے احکامات صادر کرنے کی اجازت نہیں ہے جب تک نہ ریاست کو آئینی اور جمہوری درجہ واپس کیا جائے جو ریاست کے لوگوں سے 5اگست 2019 کو غیر آئینی طور چھینا گیا ہے جس کی بحالی کے لئے ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ برسر احتجاج ہیں ۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اچھی حکمرانی کا کہیں نام و نشان ہی نہیں۔ ہماری جمہوری، آئینی، پریس کی آزادی سے یہاں کے لوگوں کو محروم کردیا گیا ہے جو ملک کی آزادی اور جمہوریت پر ایک سیاہ دھبے کی مانند ہے۔ ڈاکٹر کمال نے امید ظاہر کی کہ وادی کے تباہ کن اقتصادی اور معاشی بدحالی کے حالات ختم کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ریاست کا خصوصی درجہ واپس کیا جائے۔
 
 
 
 

پریس اور اظہار رائے کی بحالی بنیادی ضرورت

حکیم یاسین کا اسمبلی انتخابات پرزور

سرینگر//عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں گڈ گورننس کے نظریے کو نامکمل قراردیتے ہوئے پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے جموں کشمیرمیں بغیر کسی مزیدتاخیرکے فوری طور اسمبلی انتخابات کے انعقاد پرزوردیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا گڈگورننس انڈکس اورجموں کشمیر میں ترقی پراِترانے سے قبل حکومت کو لوگوں کے بنیادی اورآئینی حقوق کو بحال کرناچاہیے اورپریس اور اظہاررائے کی آزادی کو یقینی بنانا چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں گڈگورننس اور ترقی کے بلند بانگ دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ہر سطح پرگوناگوں مشکلات درپیش ہیں ،چاہے وہ سڑکوں کی ابتر حالت ہو،یابجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن،پینے کے پانی کی عدم دستیابی یا موجودہ سماجی وسیاسی غیر یقینی صورتحال،لوگ ہرطرح سے پریشان ہیں،جو موجودہ حکومت کی نشان راہ ہیں۔
 
 
 
 

 گڈ گورننس رپورٹ زمینی حقائق کے برعکس:اے این سی

سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس نے مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان کہ جموں کشمیر میں عسکریت پسندی میں 40 فیصداور ہلاکتوں میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور کشمیر میں سردیوں کے مہینوں میں بھی سیاحوں کی بھاری آمد کے ساتھ سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، پر ردعمل ظاہر کرتے ہوے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جموں کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے جیسا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے  ایوان میں وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق صورتحال نارمل ہے پھر انہیں اپنے وعدے پر پورا اترنے سے کون سی چیز روکتی ہے؟ ۔اے این سی کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے ہفتہ کو وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعہ گڈ گورننس دستاویز کے اجرا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ،’’وزیر داخلہ، براہ کرم نوٹ کریں کہ آپ جموں و کشمیر میں ایک ایسی حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں جس کا زمینی سطح پر لوگوں سے مکمل رابطہ ختم ہو گیا ہے اور 1947 کے بعد سے سب سے زیادہ مختلف ہے۔‘‘ اے این سی کے سینئر نائب صدر نے کہا،  21.6 فیصد بیروگاری ، اس سے بالکل مختلف منظر پیش کرتی ہے جو ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مظفر شاہ نے وزیر داخلہ سے کہا کہ وہ 12,500 کروڑ کی سرمایہ کاری کو اس کی شرائط و ضوابط کے ساتھ شناخت کریں جن پر جموں وکشمیرحکومت نے دستخط کئے ہیں اور اس کی نشاندہی کریں کہ دیگر 50,000 کروڑ کی سرمایہ کاری کس بنیاد پر آنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے نام پر باہر کے لوگوں کو زمین کی فروخت جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ناقابل قبول ہے، اس سے بھی بڑھ کر جب جموں خطہ میں ملک کے آئین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے گجر اور بکروال بھائیوں کے اثاثوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاحکومت ہند نے نوجوانوں سے سالانہ بنیادوں پر 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، اسے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو 5 لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کے جھوٹے وعدے نہیں کرنے چاہئیں جیسا کہ گڈ گورننس دستاویز میں کہا گیا ہے۔ مظفر احمد شاہ نے کہا کہ جے کے ایس ایس بی بھرتی امتحانات کے تحت دی گئی 25,000 نوکریوں کے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں، جموں و کشمیر کے نوجوان آپ سے پوچھ رہے ہیں؟
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

نوشہرہ میں نوجوان کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی 

راجوری//نوشہرہ سب ڈویژن کے نونیال گائوں میں ایک 24 سالہ نوجوان اپنے گھر کے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا گیا جس کے بعد پولیس نے موت کو پراسرار قرار دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔مرنے والے نوجوان کی شناخت نتیش کمار (24) ولد سریندر کمار سکنہ نوشہرہ کے نونیال گاؤں کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب متوفی کی لاش گھر کے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی جس کے بعد اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس سٹیشن نوشہرہ کی پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ لاش کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اورقانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔
 
 
 
 
 

راجوری میںڈیلی ویجر کرنٹ لگنے سے شدید زخمی 

سمت بھارگو
راجوری//محکمہ بجلی میں نیڈ بیس ورکر کے طورپر کام کرنے والے ایک ملازمین دوران ڈیوٹی بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گیا ۔محکمہ کے مذکورہ ملازمین کو بجلی کی سپلائی کو بحال کرنے کے سلسلہ میں کام کے دوران کرنٹ لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگیا جس کو بعد میں علاج معالجہ کیلئے ہسپتال داخل کروایا گیا ہے ۔متاثرہ ڈیلی ویجز کی شناخت محمد سلیم کے طور پر کی گئی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازم راجوری قصبہ کے جواہر نگر علاقہ میں بجلی کے ایک کھمبے پر تکنیکی طورپر کام کررہا تھا ۔حکام کا کہنا تھا کہ علاقے میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے بجلی منقطع تھی اور بجلی کی بحالی کا کام جاری تھا کہ نیڈ بیس ورکر کو بجلی کا جھٹکا لگا ۔انہوں نے بتایا کہ اسے فوج کی ٹیموں اور محکمہ کے دیگر ملازمین نے کھمبے کے اوپر سے بچایا اورگور نمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں منتقل کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ ملازم کے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے اس کو بعد میں گور نمنٹ میڈیکل کالج جموں مزید علاج معالجہ کیلئے منتقل کر دیا گیا ۔
 
 
 

’تھری ایڈیٹس‘ سے شہرت پاچکا لداخ کا اسکول CBSEسے منسلک ہوگا

نئی دہلی//20برس گزرجانے کے بعد ،اب لداخ کے ڈروک پدماکارپواسکول جسے عرف عام میں ’’رینچوکااسکول‘‘بھی کہتے ہیں،کوسینٹرل بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے اس سال تسلیم کیاجائے گا،کیوں کہ اِسے جموں کشمیر بورڈ کی طرف سے تاخیر کے بعد ہری جھنڈی مل چکی ہے۔سینٹرل بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے قواعد کے تحت لازمی ہے کہ اسکول کو متعلقہ ریاستی بورڈ کی طرف سے ’’کوئی اعتراض نہ ہونے کی سند‘‘حاصل ہو۔ غیرملکی اسکولوںکیلئے لازمی ہے کہ انہیں بھارت میں متعلقہ ملک کے سفارتخانے کی طرف سے ایسی ہی دستاویزحاصل ہو۔اس اسکول کو عامر خان کی فلم’’تھری ایڈیٹس ‘‘کی وجہ سے2009میں زبردست شہرت ملی اورفی الوقت یہ اسکول جموں کشمیر بورڈ سے منسلک ہے۔ اسکول کے پرنسپل منگورانگمو نے کہا کہ ہم کئی برسوں سے اسکول کو سینٹرل بورڈ آف اسکول ایجوکیشن تسلیم کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگرچہ ہمارے پاس تمام لازمی ڈھانچہ ہے ،بہترین نتائج کاریکارڈ ہے اور درس وتدریس اورسیکھنے سکھانے کے اختراعی طریقے ہیں،ہمیں بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی نواوبجکشن سرتیفیکٹ نہیں مل رہی تھی۔انہوںنے کہا کہ بالآخر ہمیں اس ماہ دستاویز مل گیا جس کی ہمیں ضرورت تھی اور ہم سینٹرل بورڈ سے منسلک ہونے کا عمل بھی جلد ہی مکمل کریں گے۔ہمیںامید ہے کہ ہم اس سال سینٹرل بورڈ کی ایفی لیشن حاصل کریں گے اورمزیدکوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ 21سالہ اسکول کو میپم پیماکارپو(1527-1592)کے نام پرنام رکھاگیا ہے جو ایک بڑے دانشورتھے ،جبکہ پدماکارپوبوٹھی زبان میں سفیدکنول کو کہتے ہیں۔اسکول کی دیوار بالی ووڈ فلم تھری ایڈیٹس کے آخری منظر میں شامل ہے جہاں فلم کا ایک کریکٹر پیشاب کرنے کی کوشش کرتاہے لیکن اُسے بجلی کاجھٹکالگتاہے
 
 
 
 

ڈورو شاہ آباد فائر اسٹیشن کادرجہ بڑھانے کی ضرورت | 300 دیہات کیلئے آگ بجھانے والی محض ایک ایک گاڑی 

عارف بلوچ
اننت ناگ // ڈورو شاہ آباد کا فائر اسٹیشن گذشتہ 50 برسوں سے درجہ بڑھانے کا منتظر ہے۔مذکورہ اسٹیشن کا قیام 1971 میں لایا گیا اور تب سے اسٹیشن کا درجہ نہیں درجہ بڑھایا گیا ۔ایک آگ بجھانے والی گاڑی و 11 افراد پر مشتمل عملہ، اسٹیشن مقامی اوقاف کمیٹی کی بلڈنگ میں کام انجام دے رہا ہے۔اسٹیشن کے دائرے میں قریبا 300 دیہات آتے ہیں جو کہ لارکی پورہ سے ہنگی پورہ کپرن و منزموہ سے تراجن جیسے دوردراز دیہاتوں پر مشتمل ہیں ۔جب بھی ان دوردراز دیہات میں کہیں آگ نمودار ہوتی ہے تو لمبی مسافت اور افراد ی قوت کی کمی کی وجہ سے ہر کوشش رائیگاں ہوجاتی ہے جس کے باعث عملہ کو غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شاہ آباد سٹیزن فورم کے سربراہ جاوید احمد خان کا کہنا ہے کہ ڈورو فائر اسٹیشن کو مزید گاڑیاں فراہم کرنا ناگزیر بن چکا ہے ۔وسیع علاقہ کے لئے 1 گاڑی ناکافی ہے، حتی کہ کپرن علاقے میں بھی 1 گاڑی میسر ہونی چاہئے تاکہ آگ نمودار ہوتے ہی بروقت کارروائی سے آگ پر قابو پایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ فائر اسٹیشن کا درجہ بڑھانے کے لئے کئی بار ارباب اقتدار کی توجہ مبذول کرائی گئی لیکن آج تک داد رسی نہ ہوئی نتیجے کے طور پر اسٹیشن کے دائرے اختیار میں سینکڑوں ڈھانچے بروقت آگ پر قابو نہ پانے سے مکمل طور پر خاکستر ہوگئے اور  لاکھوں روپے کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ۔انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اسٹیشن کا درجہ بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 پی ڈی پی قائد سابق ایم ایل سی یشپال شرما فوت | محبوبہ مفتی ،رانا اورحکیم یاسین سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کا اظہار رنج

حسین محتشم+نیوز ڈیسک
پونچھ+سرینگر// پونچھ کے نامور لیڈر اور سابقہ قانون ساز کونسل یشپال شرما حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس دنیا کو خیر آباد کہہ گئے ہیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق یشپال شرما کی موت سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات کو اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے پونچھ میں واقع ان کے گھر پرہوئی۔ یشپال شرما کا تعلق جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا اور ان کی عمر 76 سال تھی۔یشپال شرما کو شیرِ پونچھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔مرحوم کی آخری رسومات پونچھ کے شمشان گھاٹ پر انجام دی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کہکشاں کلچر آرگنائزیشن کے صدر شیخ سجاد حسین پونچھی نے نہایت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یشپال شرما کی موت سے جو خلا پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ شرما نے جو سماجی کام انجام دیئے ان کی وجہ سے وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے بتایا جس طرح انہوں بتایا کہ ملی ٹینسی کے دوران عام لوگوں کی مدد کی اور ان کی مدد میں نہ رات دیکھا نہ دن۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور پی ڈی ایف چیئرمین حکیم یاسین سمیت مختلف سیاسی و سماجی جماعتوںنے دکھ کا اظہار کر کے کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ان کی وفات پر مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے علاوہ پیلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یشپال شرما کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پورے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ادھر جموںو کشمیر سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں نے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے ایک تعزیتی پیغام میں یشپال شرما کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے سرحدی ضلع پونچھ میں لوگوں میں سماجی سیاسی بیداری لانے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ حکیم یاسین نے سوگوار خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی روح کیلئے ابدی سکون کی دعا کی ۔ادھرسینئر بی جے پی لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے یشپال شرما کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے عوامی زندگی میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ رانا نے کہا کہ جموں و کشمیر نے ایک تجربہ کار، عوامی جذبہ رکھنے والے اور سرشار سیاست دان کو کھو دیا ہے اور پونچھ نے اپنے پیارے، قابل احترام اور وسیع دل لیڈر کو کھو دیا ہے جس نے عوامی خدمت کو ہر چیز سے بالاتر رکھا۔اپنے پیغام میں رانا نے کہا کہ یشپال شرما عوام کے ایک بہت ہی شریف اور ملنسار آدمی تھے، جن کی موت جموں و کشمیر کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مرحوم کی روح کیلئے سکون اور خاندان کے سوگوار ارکان اور ان کے خیر خواہوں کی بڑی تعداد کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت کی دعا کی۔
 
 
 

تعمیراتی انجینئرنگ میں ترقی

وائس چانسلر پی ٹی یو کا آرینز طالب علموںاورفیکلٹی سے خطاب

سرینگر//آل انڈیا کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، نئی دہلی (AICTE) اور مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی (MRSPTU) بھٹنڈہ کے زیر اہتمام چھ روزہ آن لائن فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام (FDP) ’’تعمیراتی انجینئرنگ میں ترقی‘‘ پر محکمہ سول، آرینز کے زیر اہتمام کالج آف انجینئرنگ، راج پورہ، نزد چندی گڑھ کا افتتاح ہوا۔ افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر بوٹا سنگھ سدھو، وائس چانسلر، ایم آر ایس پی ٹی یو، بھٹنڈہ نے شرکت کی۔ ڈاکٹر انشو کٹاریہ چیئرمین آرینز گروپ نے پروگرام کی صدارت کی۔ ملک بھر کے مختلف انجینئرنگ کالجوں کے سینکڑوں طلاب اورفیکلٹی نے بطور شرکا رجسٹر کیا۔تمام فیکلٹی ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بوٹا سنگھ نے کہا کہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام اساتذہ کو خود افادیت کے ذرائع سے سیکھنے اور ہنر پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرام یقینی طور پر فیکلٹی ممبران، ابھرتے ہوئے انجینئروں، محققین اور ماہرین تعلیم کو اپنے شعبے میں تکنیکی منطقی پیش رفت کو اپنانے، اختراعی تحقیق کرنے اور نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ سول انجینئرنگ ایپلی کیشنز میں آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ہفتہ بھر کے پروگرام میں، مختلف موضوعات جیسے سٹرکچرل انجینئرنگ فائبر ریئنفورسڈ کنکریٹ میں حالیہ رجحانات، گرین بلڈنگ، ہائیڈرولکس، سافٹ کمپیوٹنگ تکنیک، جیو ٹیکنیکل تحقیقات ایڈوانس سروینگ، ڈاکٹر امیش شرما، پروفیسر، پی ای سی، چندی گڑھ سمیت مختلف ماہرین بحث کریں گے۔
 

تازہ ترین