تازہ ترین

پانی۔۔۔زندگی کی بنیاد اور ایک ہمہ گیر محلل

انسانی جسم کا 70 فی صد وزن ’’مائع پانی‘‘ پر منحصر

تاریخ    24 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


تسلیم اشرف
کرّۂ اَرض پر موجود تمام قدرتی وسائل میں ’’پانی‘‘ کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی اہمیت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب یہ زمین پر موجود مختلف اطرافی ماحول میں اپنی تخلیقی جوہری اور سالماتی ساخت کی بقاء کی خاطر کئی پہلوئوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اس کا ہر پہلو اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 
اس بات کا اندازہ سب سے پہلے اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیات کا وجود توانائی کےحصول سے منسلک ہے جو خوراک میں موجود غذا اور غذائیت سے پیوستہ ہے۔ لیکن ایک متوازن خوراک جو زندگی کی نشو و نما کے لئے اہم ہے۔ بغیر ’’مائع پانی‘‘ کے ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خوراک کے بغیر کوئی بھی جانداز چند ہفتے تو گزار سکتا ہے لیکن ’’مائع پانی‘‘ کی غیرموجودگی میں چند ایام گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کا 70 فی صد وزن تخلیقی طور پر ’’مائع پانی‘‘ پر انحصار کرتا ہے۔ لہٰذا اس قدرتی مقدار کے توازن کو برقرار رکھنا ’’میڈیکل سائنس‘‘ کے حوالے سے یقیناً توجہ طلب ہے، کیوں کہ ’’مائع پانی‘‘ بیشتر مرکبات کو حل کر کے غذا کے ساتھ مل کر توانائی کے حصول کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ تمام قدرتی عمل جسم میں موجود ایک جیلی کی طرح کا مادّہ ’’سائی ٹو پلازم‘‘ میں انجام پاتا ہے جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہاں سے پانی غذائی اجزاء کو خون میں موجود سیال (Blood Plasma) کا ایک اہم جُز بنا دیتا ہے، جس میں 90 فی صد پانی ہوتا ہے۔
جس کی وجہ سے جسم کا نظام رواں دواں رہتا ہے۔ دُوسری طرف طبعی سائنس میں اَرضی علوم کے حوالے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ سطح زمین پر موجود چٹانیں جب نئے ماحول کا مقابلہ کرتی ہیں تو وہ اس ماحول کے مطابق (درجۂ حرارت، دبائو، دیگر عوامل) میں تبدیلی لا کر کسی نئے رُوپ (طبعی یا کیمیائی رُوپ) میں ڈھل جاتی ہیں ،تاکہ ان کی بقاء کو تحفظ حاصل ہو۔ مثلاً چونا پتھر زیرزمین حرارت میں اضافے کے ساتھ ’’سنگ مرمر‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ’’پانی‘‘ بھی اپنی ایٹمی اور سالماتی بقاء کے لئے کرّۂ اَرض پر ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنی قلمی ساخت کو ازسرِنو تشکیل دیتا ہے۔ 
مجموعی طور پر اسے ’’تغیّر پذیری (Metamorphism) کا عمل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت سرد اور بلند کوہستانی خطّوں میں جہاں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔ ’’مائع پانی‘‘ یعنی برف میں تبدیل ہو کر کوہستانی خطّوں کے اطراف موجود چٹانی جسم کے کمزور حصوں میں منجمد ہو کر شدید دبائو پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے چٹانیں شکست و ریخت ہو کر نہ صرف ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں بلکہ بتدریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریزہ ریزہ ہو کر ریت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ 
ان چٹانی جسم میں پیدائشی طور پر بلند کثافت کی حامل دھاتیں مثلاً طلاء (سونا) بھی شامل ہوتا ہے لیکن ان کا حصول اور استخراج ان سنگلاخ یخ بستہ پہاڑی علاقوں سے براہ راست ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال میں ’’مائع پانی‘‘ مثبت درجۂ حرارت والے علاقوں ’’عمل تبخیر‘‘ کے ذریعہ بھاپ میں تبدیل ہو کر بارش کا باعث بن جاتی ہیں ،جس کے ذریعہ ملبے اور معاشی دھاتی ذرّات میدانی علاقوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو حاصل کرنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ معیشت پر بھی سودمند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پانی کسی بھی حالت میں ہو اس کی کیمیائی ترکیب میں کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف پانی کے خواص اور رویہ میں تبدیلی آتی ہے، جس کا اندازہ مختلف درجۂ حرارت پر ’’مائع پانی‘‘ کے سالمات کے قلمی نظام سے ہو جاتا ہے۔ مائع پانی کے سالمات میں دو ہائیڈروجن جواہر آکسیجن کے جوہرکےساتھ مضبوط بانڈ رکھتےہیں،تاہم ہائیڈروجن جوہر کے ایک ہی کنارے میں دو ہائیڈروجن جواہر کی شکل میں غیریکسانیت (Asymmetrical) پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مائع پانی کے سالمات قطبی (Polarized) ہوگئے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ جب ہائیڈروجن کی بندش (Bonding) زیادہ برقی منفیت (Electronegativity) رکھنے والے عناصر مثلاً آکسیجن، فلورین، نائیٹروجن کے ساتھ ہوتا ہے تو سالمات قطبی (Polar) یعنی مثبت اور منفی چارج ہو جاتاہے۔ 
اس طرح تشکیل پانے والے سالمات کو دُہرا قطبی (Dipolar) کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہلکا مثبت چارج والا ہائیڈروجن جوہر کم منفی چارج برقی منفیت والے جوہر کے ساتھ کشش رکھتا ہے۔ اس طرح جیسا یہ سالمات کے درمیان ایک ’’برقی سکونی کشش‘‘ (Electrostatic attraction) اس وقت قائم ہوتا ہے، جب مثبت قطب والے سالمات اپنے پڑوسی منفی قطب والے جوہر کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔ ساتھ ہی جب پانی مائع حالت میں ہوتا ہے تو اس کے سالمات ایک دوسرے کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں۔ قطبیت (Polarize) کی وجہ سے سالمات باہم قریب ہوتے ہیں۔ 
مائع پانی کے سالمات میں معمولی برقی کشش ہونے کی وجہ سے دوسری اشیاء یعنی مرکبات باآسانی سالمات کی طرف مائل ہوتے ہیں اور پھر حل ہو جاتے ہیں یا پانی کے ساتھ منتقل ہو کر دُور چلے جاتے ہیں۔ مائع پانی اپنی اسی خصوصیات کی وجہ سے گندے کپڑوں کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود پانی غذا کو جسم کے پٹھوں اور رَگوں تک پہنچاتا ہے۔ باقیات کو گردے (Kidney) تک منتقل کر کے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کو ایک ’’ہمہ گیر محلّل‘‘ (Universal Solvent) کے درجہ پر فائز کیا گیا ہے، تاہم ’’ٹھوس پانی‘‘ یعنی برف میں ایسا نہیں ہوتا۔ 
برف میں سالمات آپس میں اتنے زیادہ (Packed) نہیں ہوتے جیسا کہ ’’مائع پانی‘‘ میں ہوتے ہیں۔ یہاں درجۂ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ’’قلمی نظام‘‘ ازسرِنو ترتیب پاتے ہیں۔ جب پانی صفر سینٹی گریڈ پر منجمد ہوتا ہے تو پانی کے سالمات کا مثبت پہلو پانی کے سالمات کے منفی پہلو سے منسلک ہو کر ایک خاص قسم کی بندش (Bonding) بناتا ہے۔ جسے ’’ہائیڈروجن بندش‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی قوتِ کشش جو ہائیڈروجن کو اپنے ساتھ شامل کرے۔ اس بندش کے نتیجے میں ایک تین رُخی (Three dimensional) یعنی طول، عرض، گہرائی یا موٹائی طرز کی شش پہلو قلمیں (Hexagonal Crystals) کی تخلیق ہوتی ہے جو شہد کی مکھی کے چھتے (Honey Comb) سے مشابہت رکھتے ہیں۔ 
برف کے گالے (Snow Hakes) شش رُخی شکل کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ اگر شہد کی مکھی کے چھتے کا برف کی قلمی ساخت سے موازنہ کیا جائے تو یہ مائع پانی کے سالمات کے مقابلے میں کم کسے (Less Packed) بنڈل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھوس پانی یعنی برف مائع پانی کے مقابلے میں کم کثیف (Less Dense) ہوتا ہے۔ یہ ایک ٹھوس مائع حالت کے درمیان غیرمعمولی تعلق کو ظاہر کرتا ہے ورنہ زیادہ تر مادّوں میں ٹھوس حالت زیادہ کثیف (More Dense) ہوتے ہیں، بہ نسبت مائع پہلو کے لیکن یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ برف مائع پانی کے مقابلے میں کم کثیف ہوتا ہے ،جس کے بہت گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت تو عام مشاہدے میں ہے کہ برف مائع پانی میں ڈوبنے کے بجائے تیرتا نظر آتا ہے۔ ’’آئس برگ‘‘ یعنی برف کے کئی کئی ٹن کے تودے بھی سمندر میں تیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جھیلیں اُوپر سے نیچے کی طرف منجمد ہوتی ہیں۔ جھیل میں منجمد ہوتی ہوئی برف نیچے موجود پانی کے لیے حاجز (Insulating Layer) کا کام سرانجام دیتے ہیں جو نیچے موجود پانی کے منجمد ہونے کے عمل کو کم کر دیتا ہے۔ اگر برف ڈوب جائے گی تو جھیل کا پانی زیادہ منجمد ہوگا، جس کی وجہ سے برف کے پگھلائو کا عمل سست پڑ جائے گا۔ اگر برف نیچے ڈوب جاتی ہے تو دُنیا کی آب و ہوا اور ماحول مختلف ہو جائے گا۔ مثلاً بحر منجمد (Artic Ocean) موسم سرما کے دوران یخ زدہ ہو جاتا ہے لیکن صرف سطح پر تقریباً 10 سے 15 فٹ تک۔ اگر برف نیچے غرق ہو جائے گی تو سمندر کا بیشتر پانی اُوپر آ کر سرد فضا میں ضم ہو جائے گا اور پھر برف میں تبدیل ہو کر نیچے کی طرف ڈوب کر پورے بحر منجمد کو برف کا ڈھیر بنا دے گا۔ نتیجے میں موسم گرما میں بھی برف نہیں پگھل پائے گی اگر ایسا ہوگیا تو پھر زندگی کا وجود ممکن نہیں رہے گا۔  ۔۔۔(جاری)۔۔۔

تازہ ترین