تازہ ترین

روس کی امریکہ اور ناٹو کو جنگجویانہ دھمکی

(ندائے حق)

تاریخ    24 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


اسد مرزا
روس نے ایک مرتبہ پھر یوروپ میں نئے سکیورٹی نظام کو قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں اور ایک طریقے سے امریکہ اور ناٹو کو دھمکی بھی دے دی ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے تو پھر ایک نئی جنگ کی شروعات ہوسکتی ہے۔ دفاعی اور خارجی امور کے ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صدر پوتن کے اصل مقاصد کیا ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوروپ سے اپنے جوہری نگہداشت اور حملے کرنے کے نظام کو یکسر ختم کردے ۔ اپنے مطالبات کو روس نے کسی غیر سفارتی طریقے سے پچھلے مہینے دسمبرکی 17 تاریخ کو روسی وزارت خارجہ نے یکطرفہ طور پر دو نئے معاہدوں کا مسودہ شائع کیا تھا ، ایک مسودہ امریکہ کے لیے تھا اور دوسرا ناٹو کے لیے۔بظاہر کوئی بھی معاہدہ دو ملکوں کے درمیان باہمی بات چیت کے بعد عمل میں آتا ہےاور کوئی ملک کسی معاہدے کا اعلان کرکے اسے حتمی شکل دینے کا یکطرفہ اختیار نہیں رکھتا ہے۔ مطالبات کی پہلی فہرست کو ’’امریکہ اور روسی فیڈریشن کے درمیان سکیورٹی کی ضمانت‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنے جنگی طیارے اور جنگی بحری جہاز، فوجیں یا فوجی اسلحہ اپنے ہوائی ، بحری یا زمینی حدود سے باہر تعینات نہیں کرے اور نہ ہی وہ انھیں یورپ میں کسی ایسے مقام پر تعینات کرے، جہاں سے وہ روس پر مار کرسکیں۔ اگر ایسا کرتا ہے تو روس ان اقدامات کو اپنے خلاف حملہ تصور کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ یورپ سے اپنے تمام جوہری ہتھیار اور زمین سے مار کرنے والے چھوٹے اور درمیانہ درجے کے میزائل بھی ہٹا لے اور آئندہ ان کا استعمال صرف اپنی زمینی حدود میں رہ کر ہی کرے۔
مطالبات کی دوسری فہرست کو ’’روسی فیڈریشن اور ناٹو ممبران کے درمیان سکیورٹی معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس میں ناٹو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 27مئی 1997 کے بعد آزاد ہونے والے کسی بھی ملک کو ناٹو کا ممبر نہ بنائے، خاص طور سے یوکرین کو ۔مزید یہ کہ ناٹو کو زمین سے داغے جانے والے درمیانی اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو کسی ایسی جگہ پر تعینات کرنے سے بھی گریز کرے، جہاں سے وہ روس کے خلاف داغے جاسکیں۔ جب کہ روس توقع کرتا ہے کہ نیٹو اور امریکہ اس کے مطالبات کی تعمیل کریں گے۔ ماسکو نے بدلے میں، ''ایسے حالات یا حالات پیدا نہ کرنے کے لیے صرف ایک مبہم عہد کی پیشکش کی ہے جس سے دوسرے فریقوں کی قومی سلامتی کو خطرہ ہو۔'' معاہدے کے مسودے میں ماسکو پر روسی افواج کو دوبارہ تعینات کرنے کے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی ہے۔روس کو امید ہے کہ وہ امریکی اور یورپی حکام کے ساتھ آنے والی ملاقاتوں کے سلسلے میں نئی حفاظتی ضمانتیں حاصل کر نے میں کامیاب رہے گا۔ 
کشیدگی کم کرنے کے تئیںمغربی اقدامات:
امریکہ اور روس نے 10جنوری کے روز یوکرین اور دیگر سیکورٹی کے مسائل پر ایک دوسرے سے بات چیت کی، جس میں دونوں طرف سے انتہائی متوقع اسٹریٹجک مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دی ۔واشنگٹن اور ماسکو دونوں کی جانب سے جنیوا میں ہونے والے ہائی سٹیک سیشن کے بارے میں بہت کم توقعات پوری ہوئیں،تاہم کسی بھی فریق نے اس ملاقات کو مکمل ناکامی کے طور پر بیان نہیں کیا ہے۔ماسکو نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع کو روکنے اور یہاں تک کہ مشرقی یورپ میں فوجی اتحاد کی تعیناتیوں کو واپس لینے کی ضمانتوں پر اصرار کرتا ہے، جب کہ واشنگٹن ان مطالبات کو سختی سے مسترد کرتا ہے،کیونکہ واشنگٹن خودمختار ریاستوں کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو ترک نہیں کرسکتا جو امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، اوروہ یوکرین کے بغیر یورپ،یورب کے بغیر نیٹو اور ناٹو کے بغیریورپ کے بارے میں فیصلے نہیں کریں گے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور دیگر سابق سوویت ریاستوں تک نیٹو کی توسیع کو ماسکو کے لیے ایک ’’سرخ لکیر‘‘قرار دیتے ہوئے مغرب سے اس بات کی پابند ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے رکن نہیں بنیں گے۔تاہم، نہ تو شرمین اور نہ ہی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یہ کہا کہ کیا امریکہ پابندیوں کے ساتھ آگے بڑھے گا، جبکہ روس حملہ نہ کرنے کا انتخاب کرتا ہےاور سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانے سے بھی انکار کرتا ہے۔اس پورے قضیے میں جس تنظیم کی شمولیت نہیں ہوئی ہے ،وہ ہے یورپی یونین۔ یورپی یونین کا اپنے ہی گھر کے پچھواڑے میں جنگ اور امن پر بات چیت سے خارج ہونا تکلیف دہ ہے۔ پوتن اور بائیڈن کے درمیان، یورپ کو ایک طریقے سے الگ کر دیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتے فرانسیسی اخبار ’لی مونڈے‘ نے ایک سرخی لگائی تھی،جس میں یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار جوزف بوریل کو یہ کہتے ہوئے کہا گیا تھا ’’مجھے پرواہ نہیں ہے۔‘‘  انہوں نے کہا جب بی بی سی نے پوچھا کہ کیا امریکہ کو جنیوا مذاکرات کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تھا تو انہوں نے کہا کہ روسیوں نے ’’جان بوجھ کر یورپی یونین کو کسی بھی شرکت سے خارج کر دیا تھا‘‘ لیکن انہیں امریکہ کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ’’ہمارے مضبوط تعاون، ہم آہنگی اور شرکت کے بغیر کسی چیز پر اتفاق نہیں کیا جائے گا۔‘‘ رو س نے نیٹو کے 30 رکن ممالک سے بدھ 12جنوری  کے روز برسلز میں اتحاد کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی، جو روس اور مغربی ممالک کے درمیان اس ہفتے یورپ میں منعقد ہونے والی تین سفارتی میٹنگوں میں سے دوسری تھی، جو روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر 100,000 فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے خدشات کے درمیان ہوئی ہے۔ بات چیت میں، نیٹو نے روس کو پیشکش کی کہ وہ یوکرین کے ارد گرد کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسے قائل کرنے کی کوشش میں ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے دیگر اقدامات پر بات چیت کے لیے کئی اجلاس منعقد کرے گا۔ اتحاد کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ اس نے میزائلوں کی تعیناتی اور فوجی مشقوں کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ مواصلات اور شفافیت کو بہتر بنانے کے بارے میں بات چیت کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ روس نے کہا کہ اسے اس پیشکش پر غور کرنے کے لیے وقت درکار ہے، لیکن اس نے اسے یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم مل بیٹھ کر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان مذاکرات سے کوئی بامعنیٰ نتائج حاصل ہوسکیں گے اور ساتھ ہی ساتھ وہ جنگ کے خطرے کو بھی کم کرنے میں معاون رہیں گے۔لیکن نیٹو نے متفقہ طور پر ماسکو کے اس باضابطہ ضمانتوں کے بنیادی مطالبات کو مسترد کر دیا کہ یوکرین کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہو گا اور یہ اتحاد مشرقی یورپ کے ان ممالک سے اپنی افواج کو واپس بلا لے گا جو سرد جنگ کے بعد شامل ہوئے تھے۔امریکی وفد کی قیادت کرنے والی امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے ملاقات کے بعد کہا کہ ''امریکہ اور ہمارے نیٹو اتحادیوں نے مل کر واضح کیا ہے کہ ہم نیٹو کی کھلے دروازے کی پالیسی پر دروازہ بند نہیں کریں گے۔''
روس نے کئی دہائیوں سے ان ممالک میں نیٹو کی توسیع کی شکایت کی ہے جو پہلے سوویت یونین کے ماتحت ماسکو کے زیر تسلط تھے۔ کریملن اب الزام لگاتا ہے کہ یوکرین کو نیٹو کی مدد کا مطلب ہے کہ سابق سوویت ملک اتحاد کا ڈیفیکٹو(De Facto) حصہ بن رہا ہے۔ امریکہ اور نیٹو کا کہنا ہے کہ ماسکو کا مطالبہ مشرقی یورپ پر اپنے سوویت دور کے اثر و رسوخ کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش ہے اور یہ ممالک کے اپنے سیکورٹی اتحادوں کا انتخاب کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔13جنوری کو، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE)کے ساتھ روسی وفد کی تیسری میٹنگ ہوئی۔ OSCEسرد جنگ کے دور کا ایک فورم ہے جس میں براعظم کے تمام ممالک، امریکہ اور کینیڈا اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک بھی شامل ہیں۔ تاہم اس اجلاس میں بھی جیسا توقع کی جارہی تھی کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔دونوں فریق اپنے پرانے موقف پر قائم رہے اور کسی نے بھی کوئی نرم رخ اختیار کرنے کا اشارہ نہیں دیا ہے۔ مجموعی طور پر یہی تاثر قائم ہورہا ہے کہ دونوں فریق اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے اور اس بات کے قوی امکان ہیں کہ روس اس مہینے کے آخر تک یوکرین پر حملہ کردے کیونکہ اگر وہ اس میں تاخیر کرتا ہے تو پھر موسم تبدیل ہونے کی وجہ سے یوکرین میں برف پگھلنے کے بعد زمین نرم ہوکر دلدل میں بدل جائے گی اور اس حالت میں روس اپنے بھاری ٹینک اور زرہ بکتر کی گاڑیاں استعمال کرنے سے قاصر رہے گا ۔ 
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com
�����������������������������

تازہ ترین