ملک کاسیاسی مستقبل تعین کرنے والےیو پی کے اسمبلی انتخابات !

(حال و احوال)

تاریخ    24 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
     اُتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کی مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ کوویڈ کی قہر سامانی کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے انتخابی ریلیوں ، جلسوں اور جلوسوں پر وقتی طور پر پابندی لگا دی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو عوامی رابطہ کے لئے ورچول کانفرنسوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی ہدایات کو نظر انداز کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ خاص طور پر یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں میں اس وقت ریاست کی زمامِ کار ہے، اس لئے وہ اپنے اقتدار کا استعمال کر تے ہوئے یوپی کے رائے دہندوں کو رجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گز شتہ پانچ سال کے دوران انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو سننے اور اسے حل کرنے میں کوئی قابل ِ ذکر دلچسپی نہیں دکھائی ہے ، اب جبکہ الیکشن سَر پر آ گئے ہیں تو اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے عوام سے بلند بانگ وعدے کر تے ہوئے ووٹ مانگ رہی  ہے۔عوامی ردِ عمل کو دیکھتے ہوئے یوپی میں بی جے پی کے لئے حالات اب سازگار نہیں دکھائی دیتے ہیں۔ کل تک یوگی جی کی کابینہ میں بحیثیت وزیر کئی کام کرنے والے افراد اب اُ ن کے مدِ مقابل کھڑے ہو گئے ہیں۔ جس سےپارٹی میں بغاوتوں کا ایک نہ رُکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ آخری مر حلہ کی رائے دہی تک سیاسی پارٹیوں کی زمرہ بندی میں آخری درجہ تک بھی آ سکتی ہے۔ اُس کے لئے ووٹ بینک چاہے وہ برہمن ہو یا او بی سی یا پھر دلِت، اس کے ہاتھوں سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ کسان پہلے سے ہی ناراض ہیں اور بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی کوئی چاہت بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں سماج کے کون سے طبقے اُس کی حمایت میں آکر ووٹ ڈالیں گے،یہ دیکھنے والی بات ہے۔ 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی زبردست کا میابی کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب ملک ایک قومی پارٹی کی طرف جا رہا ہے۔ یہاں اب کسی دوسری پارٹی پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ لیکن جب مرکزی حکومت کے سارے وعدے فضاء میں بکھرنے لگے اور وزیراعظم ہندکے بیانات محض ’’جملہ ‘‘بازیوں میں بدلنے لگے تو ملک کی عوام کو اندازہ ہو گیا کہ قوم پرستی کے نام پر قائدین انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ یوپی میں بھی رائے دہندوں نے بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کر تے ہوئے یہ سمجھ لیا تھا کہ یوگی جی، جو گورکھپور کی مندر کے پجاری ہیں اور شادی کے بندھن اور اولاد کی فکر سے آزاد ہیں، برہماچاری ہونے کے ناطے عوام کا کافی بھلا کریں گے۔ لیکن سب کچھ بالکل اس کے برعکس ثابت ہوا ہے،بلکہ عوام کے مسائل پہلے سے بھی اور زیادہ بڑھ گئےہیں۔ چناچہ گزشتہ پانچ سال کے دوران یوگی جی نے عوام کو اُن کے حال پر ہی چھوڑ دیا ۔ ناگہانی حالات میں بھی وہ لوگوں کی مصیبتوں کو دورکرنے کے لئے متحرک نظر نہ آئےبلکہ اپنی ہی دھن میں مست رہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ کوویڈ۔19کی زبردست تباہی کے دوران یوپی میں عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ ہر روز مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی ،ہسپتال مریضوں سے کچھا کچھ بھرے ہوئے تھے، لوگ اپنے عزیزوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا دیکھ رہے تھے لیکن ان کی مدد کرنے کے موقف نہیں تھے۔ وہ اس لئے کہ حکومت نے کوئی طبی سہولتوں کا انتظام ہی نہیں کیا تھا۔ اب بھی کوویڈ کی تیسری لہر کے دوران یہ سب دیکھا جا رہا ہے جبکہ اس وقت بھی یوپی سرکار الیکشن کی ہی مہم میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اب ووٹ بٹورنے کی کوشش میں یہی کہا جارہا ہے کہ ملک کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ لہٰذا بی جے پی کو ووٹ دے کر ہی   ملک کو دہشت گردی سے محفوظ رکھا جا سکے گا۔     
      یوپی میں سرکار اپنے منصوبے کے مطابق آ گے بڑھ رہی ہے۔امکان ہے کہ آ نے والے دنوں میں مزید جارحانہ انداز اختیار کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ یوپی میں ایسی  قوتوں کو برسرِ اقتدار آنے سے روکنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کا کیارول ہوگا۔ یو پی سرکار کی اُ کھڑتی ہوئی سانسوں کا حتمی انجام کیا ہونے والا ہے ؟ کیا واقعی سیکولر پارٹیاں ملک سے فرقہ وارانہ منافرت کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو سکتی ہیں ؟ ملک کے جمہوری تانے بانے کے تحفظ کے لئے سیکولر پارٹیاں ایثار و قربانی کا جذبہ اپنے اندر رکھتی ہیں ؟ یا پھر مزید انتشار اور تقسیم کے ذریعہ یہ سیکولر پارٹیاں ، بی جے پی کو آکسیجن فراہم کر کے اُ سے تازہ دم کردیں گی؟ ابھی تک کی مجموعی صورتِ حال کوئی خوش آئند منظر پیش نہیں کر رہی ہے۔منافر طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کی جدوجہد تادمِ تحریر صفر نظر آرہی ہے۔ یہ محض الزام نہیں ہے،بلکہ تلخ حقیقت ہے۔ کانگریس ، یوپی میں ہر الیکشن کے موقع پر سکڑتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود اُسے تنہا الیکشن میں حصہ لینے کا جنون اب بھی سوار ہے۔ کسی سیکولر پارٹی سے اتحاد کرنے اور نشستوں پر مفاہمت کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہے۔ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے بھی اکیلے الیکشن میں کودنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مایاوتی کی سیماب صفتی ، مشہورِ زمانہ ہے۔ وہ کبھی بھی اقتدار کے لئے کسی کا بھی ساتھ لے سکتی ہیں یا دے سکتی ہیں۔ اصول اور نظریات اب اُن کے لئے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ جہاں تک اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کا تعلق ہے، اِس وقت اس کا ستارہ عروج پر نظر آرہا ہے۔ مختلف پارٹیوں اور خاص طور پر بی جے پی کے قائدین الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی سماجوادی پارٹی کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔ یوگی حکومت کے بعض وزراء اور ارکانِ اسمبلی نے بھی کنول کو چھوڑ کر سائیکل پر سواری کرنا گوارا کرلیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سائیکل انہیں اپنے ارادوں میں کا میاب ہونے دیتی ہے یا نہیں؟ یوپی میں الیکشن سات مرحلوں میں ہونے والا ہے، اس لئے موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کر تے ہوئے کسی ایک پارٹی کی کا میابی کی بات کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ یہ بات بھی طے ہے کہ اکھلیش یادو ، اپنی تمام تر تیاریوں کے باوجود اکیلے بی جے پی کو پچھاڑ نے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یوپی اسمبلی کی 403 نشستیں ہیں۔ یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہاں سیاست ذات پات کے نام پر چلتی آرہی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سماجوادی کے رہنما سب ہی ذاتوں کے لئے قابلِ قبول ہوں۔ اس لئے یوپی میں ایک سیکولر حکومت کے قیام کے لئے کانگریس، بہوجن سماج پارٹی اور سماجودای پارٹی کے درمیان کم از کم نشستوں کی بنیاد پر انتخابی سمجھوتہ ، بی جے پی کوہرانے کے لئے کار آمد ہوسکتا ہے۔ اگر ایک اسمبلی حلقہ سے تینوں سیکولر پارٹیوں کے امیدوار ہوں گے تو یہ صورت بھی بی جے پی کی کامیابی کا زینہ ثابت ہوگی۔ گز شتہ لوک سبھا اور اسمبلی الیکشن کے نتائج کو دیکھیں تو یہی بات سامنے آ ئی ہے کہ ایسے حلقے جہاں سے بی جے پی کی کا میابی کے دور، دور تک آ ثار نہیں تھے، وہاں بی جے پی نے میدان اس لئے مار لیا کہ سیکولر ووٹ آپس میں تقسیم ہوگئے۔ اس ضمن میں یوپی کے کئی اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی مثالیں بطورِ ثبوت کے پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس پر کافی ریسرچ بھی ہوا اور کئی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں۔ اب بھی سیکولر پارٹیاں اپنے مفادات سے اوپر اُٹھ کر ملک کی جمہوری روایات اور سیکولر قدروں کے تحفظ کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر نہیں آ تیں، تو بی جے پی کی کامیابی کو روکنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔بی جے پی چناؤ مہم میں ہر وہ حربہ اختیار کرے گی جس سے وہ اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکے۔ سیکولر پارٹیوں کو چا ہئے کہ وہ بی جے پی کی ناکامیوں کا خاکہ عوام کے سامنے لائیںاوراُن درپیش مسائل کو منظر عام پر لائیں جو واقعی ملک کی عوام سے راست تعلق رکھتے ہوں۔ ورنہ موجودہ سرکار کے لئےاپنے روایتی ایجنڈے کے تحت دوبارہ کا میاب ہوجانے میں کوئی دشواری پیش نہیںآسکتی ہے۔    
     اس بات پر کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مجوزہ اسمبلی انتخابات اور خاص طور پر یوپی کا الیکشن 2024میں ہونے والے لوک سبھا  الیکشن پر اپنا گہرا اثرڈالے گا۔ اگر یوپی کی موجودہ سرکار دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہےتو یہ یہاں کی سیکولر جماعتوں کے لئے کسی تباہی سے کم نہیںہوگا۔ گزشتہ سات سال سے ملک میں انتشار اور بے اطمینانی کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ ہرطرف نفرت اور تعصب کا دور دورہ ہے۔ شہریوں کی شخصی آزادیوں پر پابندیاں لگادی گئی ہے۔ حکومت کی کسی بھی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا بھی نا قابلِ معافی جرم تصور کیا جا رہا ہے۔ ملک کے دستور سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں کو دئے گئے دستوری تیقینات کو ختم کرنے کے حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ملک کی تعلیمی پالیسی میںتبدیلیاںلانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ نِت نئے قوانین کے ذریعہ محنت کش طبقوں اور خاص طور پر کسانوں سے ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں ۔عورتوں اور بچوں کی زندگی کا کوئی تحفظ نہیں رہا۔ معصوموں اور بے گناہوں کے قتل پر مجرموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے۔ ایسی نازک صورتِ حال میں ماہِ فروری ؍ مارچ میں ہونے والے پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ملک کی جمہوریت کو بچانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اس وقت جمہوری نظام کو جو خطرات لاحق ہیں اس کا سدباب کرنا اُن سب کی ذ مہ داری ہے جو ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب ایک دن بعد یعنی بدھوار کوہندوستانی قوم اپنی جمہوریت کا جشن منانے والی ہے۔ جمہوریت کے اصول صرف دستاویز کی شکل میں محفوظ رہیں تو اس سے قوم کو کوئی فائدہ ہونے ولا نہیں ہے۔ جمہوریت کی روح کو ختم کرکے ہم ملک کو ترقی اور امن کی طرف نہیں لے جا سکتے۔ جمہوریت میں انتخابات کی بڑی اہمیت ہے۔ ووٹ، عوام کی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ وہ بڑے سے بڑے آمر کو اس کی اوقات بتا سکتے ہیں۔ یوپی کی عوام کے لئے یہ بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ آیا ملک میں جمہوری قدروں کی پاسداری کے نقیب بنتے ہیں یا پھر نفرت اور عناد کی سیاست کا شکار ہوکر ان طاقتوں کا ساتھ دیتے ہیں جو نہ ملک کے بہی خواہ ہیں اور نہ قوم کے سچے مسیحا ہیں۔ سیکولر پارٹیوں کے انتشار سے اگرمنافرقوتوں کو کا میابی ملتی ہے تو ملک میں جمہوریت کی باقیات بھی تلاش کر نے پر نہیں ملیں گی۔ دایاں بازو کی طاقتیں مذہب، ذات، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر عوام کے درمیان تلخیاں پیدا کرکے اپنے مفاداتِ حاصلہ کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی اس منفی سوچ اور فکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ملک کے انصاف پسند اور انسانیت نواز افراد کو بھی حق کے علمبرداربننے کے لئے ایک مضبوط محاذ بنانا ہوگا۔ ملک کی سیول سو سائٹیز کے قائدین ، سماجی جہدکاروں، صحافیوں اور دانشوروں کو بھی الیکشن میںعوام کی صحیح رہبری کرنی چاہئے۔ جمہوریت کا استحکام محض سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔ اس میں فکرمند شہریوں کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران چلائی گئی احتجاجی مہمیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ذ مہ دار شہری میدانِ عمل میں آجائیں تو سیاست کے ایوانوں میں تہلکہ مچ جا تا ہے۔ ضرورت ہے کہ ملک اور قوم کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے باشعور عوام اور خاص طور پر سیکولر پارٹیاں یوپی کو منافرانہ سیاست سے چھٹکارا دلانے کے لئے وسیع پیمانےپر اپنا لائحہ عمل طے کرکے رائے دہندوں کے سامنے ایک مشترکہ پروگرام کے ساتھ جائیں تا کہ وہ بغیر کسی الجھن کے سیکولر پارٹیوں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے ہوئے ملک کی ایک بڑی اور حسّاس ریاست کو امن ، ترقی، انصاف اور محبت کی شاہراہ پر پھر سے گامزن کر سکیں۔ ورنہ فرقہ پرستی کا بھوت ، سیکولر پارٹیوں کو بھی بھسم کرجائے گااور اس وقت کفِ افسوس ملنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ’’اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی ۔ دوڑو زمانہ قیامت کی چال چل گیا ‘‘۔
(رابطہ۔9885210770)

تازہ ترین