غریب والدین کی بیٹیاں اور مجبوریاں

شادی بیاہ کے معاملات میں شریعت کے تقاضے نظر انداز

تاریخ    22 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مشتاق فریدیؔ
اسلامی معاشرہ میں عام طور پر ماہِ صیام کی آمد آمد اور موسم سرما سے پہلے پہلے شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ان شادیوں میں اہم کردار ائمہ مساجد (نکاح خوانوں )کا ہو تا ہے ۔ جن کی منصبی ذمہ داری ہوتی ہے کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعات و خرافات اور غیر مشروع رسو مات کا حکمت سے خاتمہ کریں۔
یہ دینی المیہ ہے کہ عام طور پر نکاح، شادی، بیاہ ، منگنی اور رخصتی کی تقریبات میں اسلام کی روح کو مجروح کیاجاتا ہے۔
شادی بیاہ میں جہاں تک لڑکی (دلہن) کی شادی خانہ آبادی کا تعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دلہن والوں کے ہاں دعوت کھانا اخلاقی لحاظ سے غیر مستحسن  ہےلیکن صورتِ حال یہ ہے کہ یہ صرف کہنے کی بات ہے حق بات یہ ہے کہ وادِی چناب میں بھی جموں و کشمیر کی طرح دولھا کے ساتھ رشتہ داری دوست و احباب کا ایک ذی شان جلوس ہوتا ہے۔ 
دینی المیہ یہ ہے کہ عالم طور پر مہنگی نکاح اور شادی بیاہ (رخصتی) کی تقریبات میں شریعت کے تقاضوں کو عملاً نظر انداز کیا جاتاہے اور طرح طرح کی خرافات بدعات کو عملایا جاتا ہے۔
یہ چندِ واقعات ان خرافات و بدعات کے حوالہ سے چشم کُشاہیں۔
صغیر کشمیر کہلانے والے قصبہ سے تعلق رکھنے والے ایک دانا نے قصبہ ڈوڈہ میں سسرال والوں سے کہلا بھیجا کہ میں جہیز قطعاً نہیں لوں گا، البتہ اس کے عوض اپنے ساتھ سو (۱۰۰) براتیوں کو لاؤں گا، لڑکی کے والدین نے سہواً و کرہاً یہ فرمائش قبول کی ، بغداد ثانی کہلانے والے قصبہ کشتواڑ کے معزز خاندان نے اپنے فرزندِ ارجمند کا رشتہ بٹوت، کشتواڑ ہائی وے پر موضع ٹھاٹھری میں طے ہوا، شادی سے تین دن پہلے دُلہا والوں نے مہندی بھیجنے کا اہتمام کیا اور پندرہ نفوس پر مشتمل کارواں ترتیب دیا، اور یہ کارواں بڑی شان کے ساتھ لڑکی دلہن والوں کے ہاں آفت ناگہانی کی طرح آدھمکا، ٹھیک اسطرح بغداد ثانی قصبہ کشتواڑ سے اکتوبر کے آخری عشرہ میں پندرہ کے قریب خواتین مہندی لیکر ڈوڈہ پہنچیں۔ اور لڑکی (دلہن) والوں کے کس و بل نکال کر کان و دہن سے سرتار ہو گئیں جبکہ عام طوریہ تھا کہ دونفوس (ایک مرد ایک خاتون) مہندی لیکر لڑکی دُلہن والوں کے ہاں تشریف لاتے تھے۔ 
قصبہ ڈوڈہ میں بیس پچیس سال پہلے دلہا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پچاس افراد جاتے تھے، ان کے ساتھ ایک یا دو خواتین جایا کرتی تھیں۔ رب کریم مولانا محمد عطا اللہ سہروری (مرحوم) امام جامع مسجد مرکزی ڈوڈہ کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔ انہوں نے ایک فیصلہ فرمایا کہ صرف پچیس (25) افراد دُلہےکے ساتھ جایا کریں گے ۔ عوام نے اس فیصلہ پر آمنّا و صدقنا کہا۔ سیاسی عداوت کی وجہ سے کچھ کچ فہموں نے اس فیصلہ سے اعتراض کیا اور اپنی عاقبت خراب کر ڈالی۔ مرحوم کے فرزند ارجمند خالد نجیب سہروردی امام مرکزی جامع مسجد ایسی بدعات کے خلاف مجاہدانہ رول ادا کر رہے ہیں ۔ دُلہا کے ساتھ جانے والے براتیوں کا مقصد و ہدیہ نکاح کا جو شرعی نکتہ ہے وہ حقِ مہر ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ امارت پسندی اور نام و نمود کے تتہیر کے لئے حقِ مہر حد استطاعت سے زیادہ مقرر کیا جاتاہے جو بعد میں شاز و نادر ہی ادا کیاجاتا ہے۔ یہ اَئمہ حضرات کی منصبی ذمہ داری ہے کہ عوام کو حقِ مہر ادا کرنے کی فرضیت سے آگاہ کیا جائے۔ 
اسلام زہد و ارتقاء کے دائروں میں اسلامی معاشرہ کو محدود نہیں کرتا ہے ۔ بلکہ اظہار شادمانی کا بھی روا دار ہے ۔ نبی رحمت ﷺ کے دور رحمت میں ایک لڑکی کی رخصتی ہوئی ۔ آقائے نامدار ﷺ نے دلہن کے والدین سے فرمایا لڑکی (دُلہن) کے ساتھ چند گانی والیوں کو بھی بھیج دو، کیونکہ جس خاندان میں لڑکی (دلہن) جارہی ہے وہ خاندان گِنا کو پسند کرتا ہے ۔ مگر آج کیطرح خواتین حیا شرافت کی حدود کو نہ پھلانگا کرتی تھیں اور نہ غیر محرموں کو دعوت نظارہ دیتی تھیں۔ 
ایک اور بدعت طوفانِ بدتمیزی کی طرح ہمارے معاشرہ میں زوروں پر ہے، وہ یہ کہ غیر کیمرہ مینوںں کو بلا کر دُلہن اور خواتین کی ویڈیو فلم بنائی جاتی ہے، پھر اس کو اخلاق سوز طریقوں سے منظر عام پر لایا جاتا ہے ۔
ائیمہ حضرات سے مخلصانہ اور مودبانہ گذارش ہے کہ دو رکعت کے امام کی سطح سے بلند ہو کر منگنی نکاح ، رخصتی (شادی بیاہ) کو تہذیب و شائستگی اور شریعتِ مظہرہ کی روح کی مد نظر رکھ کر عوام کو یہ سب تقریبات منانے پر اپنی صلاحیتیں صرف کریں اور امامت کا حق ادا کریں۔ 

تازہ ترین