چمن کا وہ دیدہ ورغلام نبی شیدا

خراج عقیدت

تاریخ    22 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


احمد کشمیری
19 جنوری کو اس مردِ آہن کو ہم سے جُدا ہوئے ایک سال بیت گیا۔ غلام نبی شیدا ،جو اپنے زمانے کے یکتائے روزگار سرکردہ صحافی اور ایک تجربہ کار اردو روزنامہ وادی کی آواز کے مدیرِ اعلیٰ یعنی عام لوگ انہیں اسی طرح جانتے تھے۔ لیکن وہ لوگ جن کو ان کے قریب بیٹھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے پرکھنے کا موقع ملا تھا وہ انہیں ایک عظیم شخص کے طور پریادکر تے ہیں۔ غلام نبی شیدا سے ملاقات کے دوران کوئی بھی اجنبی شخص نفاستی طور پر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا ، کیونکہ شیدا صاحب کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک سے خیریت پوچھتے تھے اور اس کے بعد ہر اس شخص سے تعارف ہوتا تھا جو ان کے دفتر میں ان سے ملنے آیا ہوتا تھا یا کہیں اور ملتا تھا۔ بطور صحافی وہ ایک منجے ہوئے پیشہ ور تھے اور انہیں اس وقت کے صحافیوں / کشمیر پریس ایسوسی ایشن یا اِس جیسےعنوان کے صدر بننے کا اعزاز حاصل ہے ۔آج کے بہت سارے نامور اور اعلیٰ سطح کے صحافی ، مدیران  اور مصنفین نے ان کی رہنمائی اور رہبری کے تحت ان کے دفتر میں یا دفتر سے باہر کام کیا ہے اور شکر ہے کہ ان سب کو اس شخصیت، جو اب ہمارے درمیان نہیں ہے، کا بڑا احترام ہے ۔ 'وادی کی آواز ایک زمانے میں قارئین کا سب سے مشہور اور پسندیدہ اخبار رہا تھا ، یہ صرف شیدا صاحب اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کی وجہ سے تھا ،جنہوں نے پیشہ ورانہ اور ایماندارانہ صحافت کا کام کیا۔ ایک دِن  شیدا صاحب نے بتایا کہ جب بڈگام کے گاؤں رازوین میں پائے جانے والے انڈے کی کہانی جس میں کوئی مذہبی عبارت لکھی ہوئی تھی ،شائع ہوئی تو اس میں اخبار 'وادی کی آواز کس طرح قارئین کی توجہ کا مرکز بنا۔ اسی طرح کے دوسرے واقعات بھی بیان کئے۔
غلام نبی شیدا خواتین کی فلاحی تنظیم شمع فاؤنڈیشن کے بانی کار ہیں، اس کا نام شمع زیدی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ، شیدا صاحب مرحوم کی اہلیہ ، شمع فاؤنڈیشن جموں و کشمیر کی ایک قابل فلاحی تنظیم میں سے ایک رہی ہے ،جس نے بنیادی طور پر کینسر کے موذی مرض میں مبتلا لاچار خواتین کے حق میں اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بے سہارا خواتین کے لئے اور خواتین کے معاملات پر سیمینار کا انعقاد کرنا۔ شیدا صاحب اپنے پیشہ میں مصروف رہنے اور وسائل کی بھی رکاوٹوں کے باوجود فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے گہرے طور پر  وابستہ رہے ۔ وہ کسی بھی مستحق کو مایوس نہیں چھوڑتے ، بجائے اس کے ایسا سلوک کرتے جیسے خاندان کے کسی فرد نے مدد کے لئے رجوع کیا ہو۔ شمع فاؤنڈیشن کے ان کے دیگر جملہ ایگزیکٹو ممبران جیسے تجربہ کار ماہر آنکولوجسٹ ڈاکٹر اعجاز احمد ہمہ وقت تعاون کیا کرتے تھے اور ان کے خلوص اور سادگی کے احترام کے لئے شیدا صاحب کا احترام کرتے تھے۔
مجھے یاد ہے ایک بار جب کالج آف ایجوکیشن سری نگر میں ، خواتین کے مسائل کے بارے میں ایک سیمینار منعقد ہوا تھا، روانگی کے موقع پر باہر ایک جگہ ایک ہورڈنگ پر عورت کی شبیہہ کے ساتھ ایک تصویرتھی جو کسی نہ کسی طرح اس تناظر سے متصادم تھی، جس کے بارے میں اندر بحث کی گئی تھی۔ کچھ دن کے بعد ایک مضمون اردو روزنامہ کشمیر اعظمیٰ میں شائع ہوا ، جس میں سیمینار اور ہورڈنگ پر تجزیہ کیا گیا تھا۔جِس میںبند کمروں میں سیمینار اور بغیر کسی کارروائی کے گفتگو کی گئی تھی ، بعد میں جب میں شیدا صاحب سے مٗلاقات ہوئی ، ان کا پہلا جملہ تھا ، 'بند کمروں میں سیمینار اور بغیر کسی کارروائی کے،واقعی ، انہوں نے اس فیڈبیک کو بہت سنجیدگی سے لیا تھا اور اس پر مجھ سے گفتگو کی ، مجھے شرم محسوس ہوئی کہ مجھے جی این شیدا جیسے شخص کو اتنا حساس بنانے کے لئے سیمینار کو اس طرح کے نازک انداز میں مرکوز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ایک صحافی ، ایک اخبار کا مالک اور مدیرِ اعلیٰ، غلام نبی شیدا تمام شعبوں میں ایک سنجیدہ شخصیت تھے۔ اپنے پیشے میں اس نے کبھی بھی نام اور شہرت کے لالچ میں سمجھوتہ نہیں کیا لیکن خود کو گمنام رکھا  ۔ جدید دور کا ‘میڈیا’ مالی تشہیر بازی نقصانات اور مذہبی عقائد کی قیمت پر پروموشنل مادے سے پرہیز کرنے اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے کچھ نظریات کو قبول نہیں کرسکتا ہے لیکن جی این شیدا وہ آدمی تھا جس نے یہ کرکے دکھایا۔ ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے اگرچہ انہوں نے گمنامی کو ترجیح دی لیکن وہ چمن کا ایک دیدہ ورتھا اور بحیثیت انسان ایک نیک روح ، نرم دل ، شائستہ مزاج اور ایک سادہ بصیرت انسان تھا۔
الفاظ مجھے اس کی وضاحت کرنے میں ناکام کردیتے ہیں کیونکہ میں ان کی خوبیوں ، خصائص اور دوسروں پر مبارک نقطہ نظر کے مستحق ہونے کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔ اُن  کی عدمِ موجودگی ان کی انجمن اور لگاؤ ​​کے مستقل جذبات کے ساتھ ایک مایوس کن دور ہے۔تاہم اُنکی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ وہ ایک صدقہ جارحیہ کا کام دے رہی ہیں۔ ، ایسے لوگوں کا وجود روحانی تسلی کا ہوتا ہے۔ جب وہ چلے جاتے ہیں ، گویا روحانی کمر کا سہارا کھسک جاتا ہے، شیدا صاحب کو اللہ جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔

تازہ ترین