تازہ ترین

اقلیت کا تحفظ اکثریت کی ذمہ داری ہے

فکروادراک

تاریخ    22 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


اسامہ طیب
اے پی جے عبد الکلام سے کون واقف نہیں ہوگا۔ میزائل مین اور People's President کے نام سے دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔پچھلے دنوں بندہ ان کی کتاب Wings Of Fire کا مطالعہ کررہا تھا، اس کتاب میں انہوں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے ساتھ ہونے والی ایک زیادتی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:
میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا، درجہ میں پہلی صف میں ہمیشہ بیٹھا کرتا تھا اور میرے ساتھ میرا بہت پرانا دوست بھی بیٹھتا تھا، وہ دوست ہمارے گاؤں کے ہیڈ پجاری کا بیٹا تھا اور ہم دونوں کی دوستی بہت گہری تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک نئے ٹیچر آئے اور انہوں نے جب مجھے ایک ہندو لڑکے کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے دیکھا اور انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور ہیڈ پجاری کے بیٹے کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو انہوں نے مجھے سب سے پچھلی صف میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ میں بادِل ناخواستہ پچھلی صف میں چلا تو گیا لیکن پیچھے بھیجے جانے کی وجہ سے میں اور میرا وہ دوست بہت رنجور ہوئے۔ چھٹی کے بعد ہم دونوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے والدین کے گوش گزار کیا۔ جب اس دوست کے والد ہندو پجاری کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ بہت برافروختہ ہوئے، اُن کا چونکہ علاقہ میں اثر و رسوخ تھا، لہٰذا انہوں نے فورا ًاس ٹیچر کو طلب کرلیا، اور خوب ڈانٹ پلائی، نہ صرف ڈانٹ پلائی بلکہ پورے گاؤں کے سامنے معافی منگوائی اور صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا کہ اگر تم نے آئندہ ایسی کوئی متعصبانہ حرکت کی تو اس اسکول سے ہی نہیں بلکہ اس گاؤں سے تمہیں نکال دیا جائے گا اور پھر مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ وہاں نہیں ہوا۔
ابھی حال ہی میں کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کے ساتھ کھلی نا انصافی کی گئی اور انہیں حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس روم میں بیٹھنے سے منع کردیا گیا اور ایک دوسرے کو سلام کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ اس نفرت آمیز واقعہ کو پڑھ کر میرے ذہن کے کینواس پر ڈاکٹر کلام کا وہ واقعہ ابھر آیا، جسے اوپر راقم نے لکھا ہے۔ میرے ذہن میں یہی خیال مستقل چلنے لگا کہ اگراُس ہیڈ پجاری نے ٹیچر کی متعصبانہ حرکت پر اتنی سختی نہیں دکھائی ہوتی تو شاید نفرت کے خلاف اتنا مضبوط ایکشن کوئی اور نہیں لے سکتا تھا اور وہ حادثہ بھی بار بار پیش آتا، کیونکہ بات اس کی زیادہ مؤثر ہوتی ہے جو غالب ہوتا ہے۔ کرناٹک کے اسکول کے اس حادثہ کے بعد بھی اکثریتی طبقہ کا رد عمل نہایت افسوسناک رہا ہے، سوائے چند ایک آوازوں کے ملک بھر میں اس تعصب اور نفرت کے خلاف سناٹا ہے۔ کلام کے بچپن کے اس ہیڈ پجاری کی ذہنیت کے افراد اب ہندؤوں میں خال خال نظر آتے ہیں، مسلمانوں پر ظلم و نفرت اور تعصب کے خلاف ان میں اُس ہیڈ پجاری کی سی سختی نہیں ہے۔ 
ڈاکٹر کلام کے بچپن کے دور کے اس ہندو پجاری میں جو احساسِ ذمہ داری تھی وہ اب اکثریتی طبقہ میں عنقا ہے، تبھی ملک اس طرح کی ابتری کا شکار ہے۔ وہ کھل کر دہشت گردی کو دہشت گردی نہیں کہتے، وہ کھل کر مذہبی تعصبات اور ہندو مذہب کے نام پر ہونے والی غارت گری کے خلاف سماج میں نہیں بولتے، وہ واقعات و حادثات کو بیلینس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چند ایک نام ہیں جو ایسا کرتے ہیں لیکن نقار خانہ میں طوطی کی کون سنتا ہے۔ابھی ہری دوار کے ایک نفرت باز کو پولیس نے گرفتار کیا ہے، لیکن اخبارات اور نیوز چینلز کی سرخیوں میں اُسے محض مذہبی رہنما کہا گیا ہے؟ آپ سوچیں کہ قتلِ عام کی دعوت دینے والے شخص کو اکثریت محض مذہبی رہنما کہہ رہی ہے، یہ مسلم اقلیت کے خلاف نفرت اور غارت گری کو شہہ دینے والی ذہنیت نہیں ہے؟ اسی طرح خود ہندو مذہب کے بڑے سنتوں نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی، اس سے بھی تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں کا مذہبی طبقہ بھی اسی نفرت کے زیرِ اثر ہے جو نفرت مسلمانوں کو کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔اب اکثریتی ہندو طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ اس نفرت کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔میرا احساس ہے کہ اکثریتی طبقہ کے مؤثر افراد اگر چاہیں تو اس ملک سے نفرت اور تعصب کا خاتمہ بہت آسانی سے ہوسکتا ہے۔ راقم سمجھتا ہے کہ ملک میں بھائی چارہ قائم کرنے کی ذمہ داری اقلیتوں کی نہیں بلکہ اکثریت کی ہوتی ہے کیونکہ اکثریت ہی میں بھائی چارہ قائم کرنے کی استطاعت بھی ہوتی ہے۔ اقلیت تو ظلم و ستم پر سوائے واویلا مچانے کے اور کیا کرسکتی ہے، اسی طرح اگر اقلیت بھائی چارہ اور امن کی بات کرے تو اسے کمزوری پر محمول کرکے کوئی درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا، انتظامیہ بھی اکثریت کے زیرِ اثر ہوتی ہے، وہ بھی اقلیت کے ظلم و ستم پر اکثریتی طبقہ کے دباؤ میں کان نہیں دھرتی۔ ایسے ملک میں جہاں کی سب سے بڑی اقلیت کا سماج پر کوئی اثر نہ ہو تو اکثریتی طبقہ کے ذمہ دار اور انصاف پسند گروپ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک سے نفرت و تعصب کے خاتمے کی کوششیں کریں، بصورت دیگر مجرم خود اکثریت ہوگی۔
کچھ بھائیوں کا یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے کہ ہندو اکثریت دہشت گردانہ ذہنیت نہیں رکھتی، بلکہ یہ بس چند لوگوں کی ذہنیت ہے۔ تو سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ وہ اکثریت جس کی ذہنیت امن پسند ہے تو وہ قتل عام کی دعوت پر خاموش کیوں ہے؟ ایسی خوفناک سرگرمیوں کے خلاف اتنی بڑی اکثریت جس کے امن پسند ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے کیوں نہیں ملک بھر میں علمِ احتجاج بلند کرتے؟ کہاں ہیں وہ اکثریت جسے ہمارے بہت سارے بھائی اب تک انصاف پسند سمجھتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اکثریت اب اسے ایک عام سی بات سمجھنے لگی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دی جائیں، ان کی جائداد لوٹی جائے اور انہیں دربدر کردیا جائے۔کاش کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ اس ملک میں بھائی چارہ قائم کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری خود اکثریتی طبقہ پر عائد ہوتی ہے اور اکثریتی طبقہ کا چھوٹا سا جو انصاف پسند گروپ ہے ،اسے اس پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنی قوم کی منافرانہ سرگرمیوں پر روک لگانے میں ساری کوششیں صرف کریں ورنہ تاریخ پوری اکثریت کو ظالم مانے گی۔
(ندوہ کیمپس )utayeb779@gmail.com

تازہ ترین