موہالی پنجاب میں کشمیری طلباء کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنانا قابل مذمت: این سی اراکین پارلیمان

تاریخ    21 جنوری 2022 (32 : 04 PM)   


یو این آئی
سری نگر//جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبرلون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے موہالی پنجاب میں ایک ہجوم کے ذریعے کشمیری طلباءکو نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
 
انہوں نے مرکزو پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کی فوری طور پر نشاندہی کرکے ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔
 
انہوں نے کہا کہ وقفے وقفے سے کشمیریوں کو بیرونِ ریاست نشانہ اب معمول بن گیا ہے اور مرکزی حکومت اس صورتحال کو روکنے کیلئے کسی بھی قسم کی سنجیدگی نہیں دکھا رہی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ بھی ایسے واقعات سے متعلق خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے اور دیگر ریاستوں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا جارہاہے۔
 
اراکین پارلیمان نے کہاکہ جس طرح سے موہالی میں ایک ہجوم کشمیری نوجوانون پر ٹوٹ پڑا ہے اور انہیں بے رحمی کیساتھ مارا اور پیٹا گیا اُس سے وہاں قیام پذیر کشمیری طلباءاور تاجروں میں زبردست تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور بیرونِ ریاست قیام پذیر کشمیریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
 
اراکین پارلیمان نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیساتھ یہ معاملہ اُٹھائیں گے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیں گے۔
 

تازہ ترین