چین کی بڑھتی ہوئی اختراعی بالا دستی

رفتار ِ دُنیا

تاریخ    20 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر خالد حسین
ایک بڑے ملک اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پرسال ۲۰۲۲ء چین کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے، اور آج کل چین میں ایسے بہت سے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں جن کا ایک صدی قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چین جہاں دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک بن گیا ہے، وہیں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے لحاظ سے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی طاقتوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ بیجنگ چین کا مصروف ترین تجارتی اور سیاحتی شہر جسے ایک صدی قبل غاصب سامراجیوں نے تباہ کر دیا تھا، اب دوسری بار ۲۰۲۲ء کے اولمپک گیمز کی میزبانی کر کے تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ موجودہ وبائی صورتحال میں بیجنگ اولمپک گیمز کی میزبانی یقیناً دنیا کے لیے اتحاد، تعاون، طاقت اور یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک موقع ہوگا۔
ورلڈ آرگنائزیشن فار انٹلیکچوئل پراپرٹی کے ’گلوبل انوویشن انڈیکس۲۰۲۱ء کے مطابق چین کی مجموعی اختراعی صلاحیت اب بارویں نمبر پر ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مسلسل نوواں موقع ہے کہ چین نے ۲۰۱۳ء سے عالمی جدت طرازی کے انڈیکس میں اپنی درجہ بندی میں مسلسل بہتری لائی ہے یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں چین کو ’جدیدیت کا عالمی رہنما‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ اس کی نئی ترقی پسندی کا پہلا مظہر  ’انوویشن‘ ہے۔ چین نہ صرف سائنسی اور تکنیکی اختراعات کی تیز رفتار راہ پر گامزن ہے بلکہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تمام جدید شعبوں میں بھی سب سے آگے ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں اختراعات میں سب سے آگے دکھائی دیتا ہے۔ اعداد و شمار پر ایک نظر سے پتہ چلتا ہے کہ چین سوشلسٹ جدیدیت کی طرف اپنے نئے سفر میں ’جدیدیت اور اختراع‘ کی بنیاد کو مضبوط بنا رہا ہے، اور اسے پالیسی سازی کی حمایت حاصل ہے۔
سائنسی ترقی کے لحاظ سے چین ۲۰۲۲ء میں اپنے خلائی اسٹیشن کی تعمیر مکمل کر لے گا۔ اسی طرح چینی قوم کے عظیم نشاۃ ثانیہ کی طرف سفر کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، جس میں۴.۱بلین چینی باشندوں کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) تمام رکاوٹوں اور چیلنجوں پر قابو پاتے ہوئے قوم کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ سال جولائی میں اپنی سوویں سالگرہ منائی تھی اور اس سال اپنی بیسویں قومی کانگریس منعقد کرے گی۔ اسی طرح ایک مستحکم اور پائیدار اقتصادی ماحول، ایک محفوظ سماجی ماحول، اور ایک شفاف اور منصفانہ سیاسی ماحول کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ سال ایک اہم موڑ پر نشان لگا دیا گیا جہاں سی پی سی کی صد سالہ تقریب کے موقع پر ایک جامع اعتدال پسند اور خوشحال معاشرے کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور جلد ہی قوم کی بنیادی تعمیر کے ہدف کوبھی مکمل کرنا ہے۔ اس نئے سفر میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور چینی صدر شی جن پنگ بلاشبہ تاریخ کے دھارے کو تشکیل دینے والی اہم ترین شخصیت ہیں۔ نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر شی نے کہا کہ ’’ہمیں ہمیشہ ایک طویل المدتی وژن رکھنا چاہیے، ممکنہ خطرات کو ذہن میں رکھنا چاہیے، اسٹریٹجک توجہ اور عزم کو برقرار رکھنا چاہیے، اور حساس مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ ہمیں ان سے نمٹتے ہوئے وسیع تر اور عظیم اہداف تلاش کرنا ہوں گے‘‘۔ انہوں نے تمام چینی شہریوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے سخت محنت کی اور سی پی سی کے غیر معمولی سفر کو جاری رکھا، اور اس اعتماد اور امید کا اظہار کیا کہ چینی قوم کے تمام شہری ملک کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد میں سب سے آگے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نئے مواقع کا بہترین استعمال کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں بیجنگ میں ’چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز‘میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اشیا کی تجارت میں ۳۱ فیصد اور خدمات میں۹.۵۴ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۹ ء تک ڈیجیٹل تجارت میں ۳.۷۰ فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلا دور جدت اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔چین نے اپنے چودہویں پانچ سالہ منصوبے (۲۰۲۱-۲۰۲۵) میں جدت کی اہمیت پر زور دیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم انفارمیشن، مربوط سرکٹس، زندگی اور صحت، افزائش نسل، ایرو اسپیس اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبے شامل ہیں۔ متعدد تزویراتی منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے، چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کی مجموعی ترقی میں جدت کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور چین کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک مضبوط ملک بنانے اور اس شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار کوششوں پر زور دیا۔ دنیا نے گواہ ہے کہ چین نے ۲۰۲۱ میں صنعتوں، دستکاری، سیاحت، تعلیم، ثقافت اور تہذیب میں تیزی سے ترقی کی ہے جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی، فایوجی، اور نقل و حمل کے جدید ذرائع بھی عروج پر ہیں۔ اسی طرح چین نے وبا ء کی روک تھام اور کنٹرول کو یقینی بناتے ہوئے بڑے ڈیٹا سمیت دیگر ٹیکنالوجیز کی مدد سے وباء کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے، ساتھ ہی ساتھ ڈیجیٹل معیشت کے اہم کردار کو بھی آگے بڑھایا ہے تاکہ کووڈ-۱۹ کے بعد چین کی ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔
چین جدیدیت کے ایسے ماڈل پر عمل پیرا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک جدید، مربوط، سرسبز اور ہر ایک کے لیے کھلے ترقی پسند راستے پر ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو سوشلسٹ چین کو ترقی کے اس سفر پر گامزن رکھتا ہے جس میں ماحولیاتی نقصان کی قیمت پر ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بعض بین الاقوامی اداروں کے مطابق چین کی معیشت گزشتہ سال ۸ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۱۰ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنا بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سلسلے میںچین پورے ملک میں سرمائے کے بے جا پھیلاؤ کو روکنے، مارکیٹ کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور تمام قسم کے کاروباری اداروں بالخصوص مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے حقوق کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے اور کارکنوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔ چین کے ’مشترکہ خوشحالی‘اقدام کا مقصد اجارہ داریوں کو ختم کرنا، اختراعات اور مسابقت کو بڑھانا اور منصفانہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ چین میں جدید کاری صرف شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ کم ترقی یافتہ خطوں تک پھیلی ہوئی ہے، جیسے کہ جنوب مغربی صوبہ Guizhou ، چونکہ اس خطے نے ۲۰۱۶ء میں ملک کے ’پہلے نیشنل بگ ڈیٹا کمپرہینسو پلاٹ زونـ‘کی تعمیر کی منظوری دی تھی، چین کی بڑی ڈیٹا انڈسٹری میں سب سے آگے ہے۔ ایپل اور مائیکروسافٹ سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یہاں علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کیے ہیں جن میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بگ ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ اپنی خوشگوار آب و ہوا، شفاف ماحول، سازگار حالات اور بہترین جغرافیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئےGuizhouاب ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں چین اور یہاں تک کہ دنیا میں سب سے زیادہ میگا ڈیٹا سینٹرز ہیں۔
دوسری جانب چین میں جدت کا دائرہ دیگر تمام شعبوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ ماحول دوست صنعتوں کو آگے بڑھا کر ماحول کے ساتھ اختراع کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نے جدت کے ذریعے سبز انقلاب کا راستہ بھی اختیار کیا ہے اور خود کو ’سبز اور کم کاربن ترقی‘ کے راستے پر گامزن کیا ہے، جس میں توانائی اور دیگر صنعتوں میں تبدیلی بھی شامل ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں۲۰۲۱ء میں، چین کے جنگلات کا احاطہ ۲۳ فیصد سے تجاوز کر گیا ہے اور ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر، جامع سبز تبدیلی، اور انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے ہم آہنگ بقائے باہمی اور زندگی کے مشترکہ معاشرے کو فروغ دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین ثقافت، تعلیم، ہنر، کھیل اور صحت کے شعبوں میں مضبوط کلیدی عناصر کے ساتھ ۲۰۳۵ء تک سوشلسٹ جدیدیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔عصر حاضر میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں میں خود انحصاری ہی دیرپا کامیابی کی ضمانت ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ترقی باقی دنیا سے الگ تھلگ رہ کر آگے بڑھے گی، دنیا کے دیگر حصوں میں سائنس کے میدان میں ہونے والی بڑی کامیابیوں اور پیش رفت سے سیکھنے کا عمل جاری رہے گا۔ اس لیے سال ۲۰۲۲ء میں دنیا یہ دیکھنا چاہے گی کہ چین کس طرح  ہم آہنگ فطرت مادی ترقی کو فروغ دیتا ہے اور اس سلسلے میں چین کی جانب سے سبزانقلاب کے حصول کے لیے کیا پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔ کیا’چینی حکمت‘ عالمی مسائل پر قابو پانے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گی؟ یہ آنے والے سالوں میںقابل بحث موضوع کی بات ہوگی۔
(مصنف بی جی ایس بی یونیورسٹی، راجوری، جموں و کشمیر، میں اسلامیات کے ایک سینئر محقق یں۔رابطہ۔khalid6484@bgsbu.ac.in )
 

تازہ ترین