تازہ ترین

کووڈ طوفان…

احتیاط ہی علاج ہے !

تاریخ    20 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ملک میں ایک بار پھر کورونا معاملات میں اضافہ کا تشویشناک جاری ہے ۔اب یومیہ معاملات کی تعداد3لاکھ کے آس پاس تک پہنچ چکی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں بھی یہ تعداد 6ہزار کے قریب ہے ۔روزانہ اتنی بڑی تعداد میں کورونا معاملات کا سامنے آنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے اور یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی نہ صرف ہفتہ وار لاک ڈائون واپس لوٹ چکا ہے بلکہ ایک طرح کی طبی ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی ہے کیونکہ مختلف ہسپتالوں کو پہلے کی طرح صرف کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص کردیاگیاہے۔ چونکہ مستقبل کے حوالے سے اشارے کچھ اچھے نہیں مل رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میںکووِڈ کی نئی شکل اور معاملات میں اضافہ کے پیش نظر تمام ہسپتالوں میں آکسیجن پلانٹس ، مطلوبہ اَدویات کی دستیابی ، آئی سی یو اور آکسیجن سپورٹیڈ بستروں کے آڈِٹ کو یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کیں۔اْنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں اور صحت حکام کو ہدایت دی کہ وہ پنچایتی سطح سے شروع ہونے والے صحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور بہترین طریقے سے اِستعمال کرنے کو یقینی بنائیں۔ اضلاع میں صحت ٹیموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر رابطے کا پتہ لگانے ، آکسیجن سلنڈروں اور کنسنٹریٹروں کے آڈِٹ کے ساتھ ساتھ وینٹی لیٹروں کی دستیابی اور کام کرنے پر توجہ دیں۔
 لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایات اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکومت کو بھی تشویش لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ معاملہ برا ہ راست انسانی زندگیو ں کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ریاست کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کے جان ومال کی سلامتی یقینی بنائے ۔گوکہ ریاست اپنی طرف سے اس نظر نہ آنے والے دشمن سے اپنی رعایا کو بچانے کی کوششوںمیں لگی ہوئی ہے اور اس ضمن میں نہ صرف طبی ڈھانچہ کو مسلسل اپ گریڈ کیاجارہا ہے بلکہ ٹیکہ کاری کا دنیا کا سب سے بڑا مشن بھی چلایاجارہا ہے اور اب آج سے15سے17سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں کی ٹیکہ کاری بھی شروع کی جاچکی ہے تاہم حکومت کے یہ تمام اقدات جبھی کارگر ثابت ہوسکتے ہیں جب عوام کا تعاون شامل حال رہے ۔
فی الوقت عوام کے تعاون کے حوالہ سے صورتحال افسوسناک ہی ہے ۔بارہا ہم کہہ چکے ہیں کہ کورونا سے بچائو کیلئے احتیاط ہی علاج ہے لیکن مسلسل مشاہدے میں آرہا ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر بالکل بھول چکے ہیں اور کچھ اس طرح اپنے معاملات چلا رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیںہے ۔بازاروںمیں بھی وہی بھیڑ بھاڑ ہے ،پبلک ٹرانسپورٹ کھچا کھچ بھرا رہتا ہے ،دکانوںاور شاپنگ مالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ فیس ماسک کا استعمال تقریباً معدوم ہوچکا ہے اور ماسک کے استعمال کو جیسے معیوب سمجھا جارہا ہے۔
جب اس طرح کی صورتحال ہو تو حکومت کیا کرسکتی ہے ۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب ہم اُس طرح اپنے معمولات نہیں چلاسکتے ہیںجس طرح2020سے قبل چلاتے تھے ۔تب کورونا نہیں تھا ،لیکن آج کورونا ہر جگہ موجود ہے اور مسلسل ہمارا پیچھا کررہاہے ۔مانا کہ دو سال قبل ہمیں ماسک کی ضرورت نہیں تھی اور ہی بھیڑ بھاڑ میں کوئی پریشانی تھی لیکن آج ماسک نہ پہن کر اور بھیڑ بھاڑ جمع کرکے ہم نہ صرف اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ ہمار ی لاپرواہی کی وجہ سے دوسری انسانی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں جو قطعی دانشمندی قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔
اگر علاج اتنا سستا ہے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرتے ۔فیس ماسک کا استعمال ہو یا سماجی دوریوں کے پاس و لحاظ کا معاملہ ،دونوں احتیاطی تدابیر اتنی سستی اور آسان ہیں کہ ان پر ہمہ وقت عمل کیاجاسکتا ہے جبکہ ہاتھ منہ صابن سے دھونا بھی کوئی بڑا کام نہیں ہے اور وہ ویسے بھی ہمارا معمول ہی ہے ۔اگر احتیاط اور علا ج اتنا سستا اور آسان ہے تو پھر ہم پر بھی واجب آتا ہے کہ ہم احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوکر حکومت کا کام آسان بنائیں ورنہ آنے والے دنوںمیں صورتحال انتہائی گھمبیر ہوسکتی ہے جس کے شاید ہی ہم متحمل ہوسکتے ہیں۔
 

تازہ ترین