میوہ صنعت کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

فکروادراک

تاریخ    19 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


حامد صدیق
عجیب بحث جاری ہے کہ میوہ صنعت کی تباہ کاری کا ذمہ دار کون ہے، کہیں محکمہ اور حکومت کی عدم توجہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور کہیں باغ بانوں کی غلط پریکٹس کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مسائل بہت زیادہ ہیںاور ان کی کئی پرتیں ہیں۔ لیکن سب سے پہلے کچھ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے۔ تاکہ ہمیں پتہ چلیں کہ ہم اس دوڑ میں کہاں کھڑے ہیں۔ دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہے جن کی معیشت کا پہیہ پھلوں کی بدولت چلتا ہے۔ اس نیلگوں سیارے پر بالترتیب انگور، سٹرس یا سنگترے، کیلے اور چوتھے نمبر پر سیبوں کی کاشت equator کے دونوں اطراف میں یعنی North hemisphere اور South hemisphere میں کی جاتی ہے۔۔۔۔ گو کہ زیادہ تر سیب شمالی نصف کرہ ارض ہی میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا سیب پروڈیوسر اور ایکسپورٹر ہے، دنیا کی کل پیداوار کا لگ بھگ 50 فیصدسیب چائنا پیدا کرتا ہے۔ 
بین الاقوامی پیداواری صلاحیت میں انڈیا پانچویں نمبر پر ہے لیکن دنیا کی مجموعی پیداوار میں انڈیا صرف 3فیصد ہی سیب کاشت کرتا ہے، اس میں تقریبا کشمیر اکیلے 75فیصدسیب کاشت کرتا ہے جبکہ 25فیصد ملک کی دوسری ریاستیں ۔حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملکی سطح پر کشمیر، ہماچل اور اتراکھنڈ روایتی طور پر سیبوں کی کاشت کرتے ہیں جبکہ اس ٹیکنیک سے آج سے سو سال پہلے اپیل فارمنگ کی جاتی تھی۔ نہ کوئی ٹیکنالوجی، نہ کوئی ریسرچ، نہ کوئی مشینری اور نہ کوئی اعدادوشمار۔ بس دیکھا دیکھی میں کچھ محدود آوٹ آف ڈیٹیڈ ورائیٹیاں، روایتی طور پر کاشت کر رہے ہیں اور اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ ہمارا سیب امپورٹ ہائی کالٹی سے مقابلہ کریں۔ 
دنیا میں جدید ہائی ٹیکنالوجی کےذریعے سے تقریباً 90فیصدسیب M9 روٹ سٹاک ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن پے تیار کیا جاتا ہے۔ چین، امریکہ، ترکی، اٹلی، نیوزی لینڈ، ایران وغیرہ میں انہیں بنیادوں پر ہائی کالٹی فروٹ تیار کیا جاتا ہے۔شکر کرو ہمارے پہنچ میں دنیا کا سب سے بڑا مارکیٹ ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایشیا کا سب سے بڑا سیب امپورٹ کرنے والا ملک انڈیا ہی ہے۔ ملک کی مختلف منڈیوں میں سال بھر بیرونی ملکوں سے سیب درآمد کئے جاتے ہیں ۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی مارکیٹ میں سیبوں کی مانگ کتنی زیادہ ہے، اور ہمیں پریشانی لاحق ہو رہی ہیں کہ 3 کروڑ پیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ چند ہزار ایرانی سیب کریڈوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس وقت دنیا میں اُوپن مارکیٹ کا دور چلا ہے۔ دنیا گلوبلائزیشن میں تبدیل ہو گئی ہے اور ملکی پالیسیز شہریوں سے پوچھ کر نہیں بنائی جاتیں بلکہ سیاسی و معاشی مفاد کے تناظر میں پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
اگر ہمیں اپیل صنعت اور اپنی بقاء و پہچان قائم کرنی ہے تو روایتی باغبانی کو خیر باد کہنا ہو گا ۔پروگریسیو فارمنگ پر جانا ہو گا۔ریسرچ اورٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گا۔سیڈلینگ seedling کے بجائے سیڈلیس seedless پر جانا ہو گا۔ نئے نئے ہائی کلر ورائیٹیز پر کام کرنا ہو گا۔زیادہ سے زیادہ کولڈ اسٹوریج بنانے ہوں گے۔ ریفریجریٹر گاڑیوں کا استعمال کرنا ہو گا۔ہارویسٹنگ، گریڈنگ اور پیکینگ پر دھیان دینا ہو گا۔ باغوں تک آنے جانے کے لئے پکی سڑکوں کا جال بچھانا ہو گا۔ بی گریڈ اور سی گریڈ فروٹ ، منڈیوں میں سیل کرنے کے لئے بیچنا بند کرنا ہو گا۔ سیبوں کی کاشت کے ساتھ ساتھ ہمیں سٹون فروٹ یعنی چری، بادام، خوبانی، آلو بخارا وغیرہ پر بھی کام کرنا ہو گا۔ مسائل بہت زیادہ ہیں۔ان کی کئی جہتیںو پرتیں ہیں۔ کہیں ریاست و حکومت کا قصور ہے، بعض جگہوں پر محکمہ اور نوکر شاہی ذمہ دار ہے۔ کسی جگہ پر میوہ صنعت کو تباہ کرنے کا ذمہ دار خود کسان ہے۔ آگہی بڑھنی چاہیے، قوانین کے سقم موضوع بحث بنیں، نئی قانون سازی ہو، سائنسی بنیادوں پر نئے ادارے بنیں، ان تک سبوں کی رسائی آسان ہو۔ ٹیکنالوجی، لیبارٹریز، کتابوں وغیرہ کی سہولتیں بہتر ہوں، یہ ایک طویل سفر ہے، بھر پور جدوجہد کے بعد ہی مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ باغ بانوں کو بھی یہ سوچنا ہو گا کہ کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا، جب تک ہم خود اپنی مدد کے لئے اُٹھ نہ کھڑے ہوں، ہم خود ذمہ داریاں قبول کرنے، اپنی غلطیاں کھلے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام ڈالتے رہنے مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔ 
(لنگیٹ۔9149803558)
 

تازہ ترین