پارٹی بدلنے سےفکر وفہم بدل جاتا ہے؟

تلخ وشریں

تاریخ    19 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


جاوید اختر بھارتی
اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کا بگل بجتے ہی سبھی سیاسی پارٹیاں حرکت میں آگئیں۔ سیاسی لیڈران اپنی اپنی سیاسی زمین ہموار کرنے میں مصروف ہوگئے ،پارٹیاں بدلنے کے ساتھ ساتھ یوپی کابینہ سے وزراء کے مستعفی ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ مستعفی ہونے والے وزراء کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ میں رہ کر پوری ایمانداری کے ساتھ کام کیا تو کیامگر ہمیں وہ عزت نہیں ملی جو ملنی چاہیے۔ ریاست کے دلتوں، پچھڑوں، غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور ریزرویشن پر بھی یو پی سرکارکی نیت صاف نہیں ۔ ان وزراء کی بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت زیادہ ایسے بھی سیاسی لیڈران ہیں جنہیں عوام سے اور عوامی مسائل سے کوئی مطلب نہیں ہے نہ تو وہ ملک کے مفاد میں الیکشن لڑتے ہیں اور نہ قوم کی خدمت کے لئے۔ وہ تو محض اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کےتحت سیاست کرتے ہیں، الیکشن لڑتے ہیںاور اقتدار کا مزا چکھتے ہیں۔وہ حالات حاضرہ کی نبض ٹٹولتے رہتے ہیںاور جس پارٹی کی طرف بڑھتا ہواعوامی رجحان دیکھتے ہیں بڑھ رہا ہے،انتخابات کا اعلان ہو تے ہی اپنی پارٹی کو خیر باد کہہ کر اُس پارٹی کا دامن تھامتے ہیں۔سوامی پرساد موریہ کا بی ایس پی میں ایک زمانےمیں بڑا جلوہ تھا، وہ اترپردیش میں بی ایس پی صدر ہوا کرتے تھے مگر جب پارٹی کمزور ہونے لگی اور بی جے پی کی لہر دیکھی توفوراًاُسی میں شامل ہوگئے اور یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ میں وزیررہے۔یہی حال دارا سنگھ چوہان کا بھی ہے۔ اگر واقعی ایسے لوگوں کے سینے میں ملک کا اور عوام کا درد ہوتا تو جب عوام اپنے مسائل کو لے کر سڑکوںپر اُترتی تھی تو اُس وقت حمایت کرنے اور ان کی باتوں کو سننے کے لئے دو قدم چل کر کیوں نہیں آتے۔ اگر پاور میں رہتے ہوئے غریبوں، کسانوں، بنکروں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی باتیں سنتے یا اُن کی آواز کے حق میں استعفیٰ دیتے تو کچھ اور بات ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سچائی یہ ہے کہ انہیں اب بی جے پی ساتھ رہ کردوبارہ کامیابی ملنے میں شبہ ظاہر ہواہے، اس لئے مستعفی ہوئے ہیں۔ اب آنے والا وقت بتائے گا کہ ان کی کشتی دوبارہ پار لگتی ہے یا نہیں ۔عوام کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ بار بار پارٹیاں بدل رہے ہیں تو کس کے مفادات میں ایسا کررہے ہیں؟ لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ عوام کو یہ سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ تو بس ووٹ دینا جانتی ہے اور پھرووٹ پانچ سال تک رونا،دھونا اور شکوہ کرنا جانتی ہے۔جب حساب لینے کاوقت آتاتو سب کچھ بھول جاتی ہے ۔
سیاسی لیڈران نے سیاست کا معیار اتنا گرادیا ہے کہ افسوس ہوتا ہے ، غصہ آتا ہے اور شرم بھی آتی ہے کیونکہ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے ، اُس کی وہ ایک لمحے کے لئے بھی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتالیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔پارٹی بدلنے والے لیڈران نے پانچ سال تک دلتوں، پچھڑوں، غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی بے عزتی کیسے برداشت کی اور کیوں برداشت کی؟ الیکشن کے وقت ہی کیوں استعفیٰ دیا اور الیکشن کے وقت ہی کیوں پارٹی چھوڑی ؟اب یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی بدل کر جس پارٹی میں شامل ہورہے ہیں تو مان لیجئے اگر اس پارٹی کی حکومت میں بھی دلتوں، پچھڑوں، غریبوں، بے روزگاروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو کیا اس پارٹی سے بھی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں گے یا پھر اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے اگلے اسمبلی الیکشن کےاعلان کا انتظار کریں گے۔یہ سوال اترپردیش کی عوام کے ذہنوں میں گھوم رہا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس سوال کا جواب کوئی بھی سیاسی لیڈر نہیں دیگا۔عجیب حال ہے پارٹی چھوڑتے ہی اُس پارٹی کی بُرائی اور جس پارٹی میں شمولیت اختیارکی،اُسکی تعریف شروع  ہوجاتی ہے۔حد تو تب ہوجاتی ہے جب پارٹی اور پارٹی ہائی کمان کو خوش کرنے کے لئے ایسی باتیں بھی بول دی جاتی ہیں کہ کسی سماج کیا لحاظ کیا جاتا اور نہ کسی برادری کی پرواہ۔ یہاں تک مذہبی بنیاد پر منافرت کا ماحول بھی قائم کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ آج جو لوگ پارٹیاں بدل رہے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم گنگا نہا کر پوتر ہوگئے ہیں جبکہ ماضی میں دئیے گئے اُن کے بیانات آج بھی بیشترلوگوں کو یاد ہیں تو اب پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارٹی بدلنے سے سوچ اور نظریہ بھی بدل جاتا ہے؟
ان سیاسی لیڈران کے ان رویوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کافی حد تک عوام ہی ذمہ دار ہے اور شائد عوام کی نظروں میں بھی ایک پارٹی گنگا ہے تو دوسری پارٹی واشنگ مشین ۔ گویا اس واشنگ مشین میں دھل کے اُن کے سارے داغ دھبے ختم ہوگئے۔ یہی سوچ اور نظریہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد رکھنے والی برادری کی بھی ہے جس کا نظارہ ہر روز دیکھنے کو ملتا ہے۔ خود فیصلہ کن تعداد میں ہوکر اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوئی فکر نہیں ہے، بس فلاں نے پارٹی بدل دی تو خوش،، فلاں پارٹی  میں آگئے تو خوش۔ اور تبصرے ایسے کہ ایک کپ چائے میں ہی اُنہیں اسمبلی و پارلیمنٹ نظر آتی ہے اور تبصرے کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ روزانہ جس کی چاہتے ہیں، اس کی حکومت بنواتے ہیں اور جس کی چاہتے ہیں اس کی حکومت گرادیتے ہیں، مگر افسوس صد افسوس ! یہ سب کچھ چائے کی چسکیوں تک محدود ہوتا ہے۔
موبائل:،8299579972
javedbharti508@gmail.com

تازہ ترین