تازہ ترین

فارسٹ رائٹ ایکٹ کا نفاذ زبانی دعوؤں تک محدود، زمینی نتائج کے برخلاف

تاریخ    15 جنوری 2022 (15 : 03 PM)   
(File Photo/ Kashmir Uzma)

نیوز ڈیسک
 
جموں//مرکز میں بر سر اقتدار جماعت ہر ریلی، اجلاس، درباروں و فلیگ شپ پروگراموں و سرکاری وغیر سرکاری تقریبات میں فارسٹ رائٹ ایکٹ کو جموں وکشمیر میں نافذ کرنے کیلئے باربار کہتے تھکتی نہیںلیکن زمینی سطح پر عمل آوری نہایت سست روی وبہت سارے الجھن کا شکار ہے۔
 
 بعض جگہوں پرلگتاہے کہ اسطرح کا کوئی ایکٹ نافذ عمل ہی نہیں ہے گذشتہ سال پنچائتی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تھیں کسی بھی قسم کی کوئی ٹریننگ نہ دی گئی نہ ہی خاطر خواہ معلومات و مواد فراہم کروایا گیا۔
 
کچھ جگہوں پر کمیٹی تشکیل کا عمل خلاف ضابطہ عمل میں لایا اور ساری کاروائی کو عوام سے مخفی رکھا گیا۔ ابتداًپنچائت سطح کی کمیٹیوں نے متعدد دعوے دائرہونے کے بعد محکمہ مال اور جنگلات کو مفصل رپورٹ جوائنٹ ویریفکیشن کیلئے بھیجے مگرافسوس ہے کہ اہلکاران نے خاطر خواہ تعاون نہ دیا اور نہ ہی مقررہ تاریخ پر برموقع اراضی متدعویہ تشریف لانے کی زحمت گوارہ کی اورمتعدد جگہوں پر پٹواری و فارسٹ اہلکاران نے جانے کی زحمت تو گوارہ کی مگر ایف آر سیز کو رپورٹ و نقشہ موقع فراہم کرنے میں لعل ولیت و آج کل کررہے ہیں۔ 
 
کئی کئی مرتبہ نوٹس /اطلاع دی گئی مگر کوئی توجہ نہ دی جاتی ہے اور مشاہدہ میں آیا ہے کہ حکام و متعلقہ انتظامی آفیسران بھی اس ضمن میں اقدام اٹھانے سے گریز و مناسب وقت کا کہہ کر ٹال مٹول کردیتے ہیں۔
 
اسی حوالے سے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن عبدالحکیم نے کہا کہ واضح ہدایات بالاحکام سے ملنے کی انتظار میں ہیں اور گذشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر پونچھ نے ایک نوٹس تحصیلداران حدود ضلع پونچھ کو اجراء کرکے رابطہ سڑکوں کیلئے جوکہ بوجہ اجازت فارسٹ تعمیر التواء میں تھیں اس نوٹس سے بنیادی سہولت سے محروم محلہ جات و بستیوں کے لوگوں کوامید لگی تھی کہ ہمیں اب اجازت نامہ تعمیرسڑک براراضی جنگلات مشکلات کا و دفتری لوازمات مکمل کرنے میں کچھ راحت حاصل ہوگی مگر اس بابت بھی کوئی اقدامات نہ کئے گئے ہیں اور متعدد علاقے اور بستیاں جن میں اکثریت شیڈول ٹرائب آبادی رابطہ سڑکوں سے محروم ہیں۔ 
 
اُنہوں نے کہا کہ بوجہ اراضی فارسٹ کے تعمیر نہ ہو پائی ہیں باربار محکمہ فارسٹ سے رابطہ کیا گیا مگر فارسٹ کے اہلکاران کچھ کہتے ہیں اور محکمہ مال کے اہلکاران کچھ اور فارملٹیز(لوازمات) بتاتے ہیں۔ 
 
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری حکم نامے اور ہدایات کے بعد اس سے جڑے لوگوں کو اس کے نفاذ سے امید جاگی تھی مگر عمل آوری اور دعوے دائر کروانے کے بعد افسوس اور زیاں وقت کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگاہے۔اور متعدد بار باوجود قبضہ دیرینہ رپورٹ فارسٹ و محکمہ مال نہ ملتی ہے جوکہ دعوے داران کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے مرکز میں برجماں حکمران جماعت و ریاستی انتظامیہ کے دعوؤں وزمینی حقائق اس کے برعکس و برخلاف ہیں خصوصی طور پر ضلع پونچھ میں فارسٹ رائٹ کو عملائے جانے کی جانب کوئی واضح پالیسی نہ ہے۔
 
معاملے سے جڑے لوگوں نے مرکزی و ریاستی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ ایف آر اے کو مکمل طور پر عملانے کیلئے واضح ہدایات صادر فرمائیں اور دعوؤں کی منظوری ترجیحی بنیادوں پر عمل میں لائیں صرف کمیونٹی دعوے ہی انتظامیہ نہ لے بلکہ انفرادی دعوے بھی لے اور مطلوبہ لوازمات مکمل والے دعوؤں کی منظوری دے۔ 
 
 اس نسبت عوام میں پائے جانے والی شکایات و خدشات کے ازالے کیلئے مخصوص سیل ضلع اور سب ڈویژنل سطح پر قائم کریں۔ 
 
 علاوہ ازیں ایف آر اے میں قبائلی بستیوں کو جن بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ضمانت ورگرنٹی دی گئی ہے وہ سہولیات قبائلی بستیوں و علاقوں کو فراہم کرنے میں اب تاخیر و حجت نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ باقی ملک میں یہ قانون 2006سے نافذ ہے اور ریاست جموں و کشمیر میں ایسے سولہ سال بعد نافذ کیا گیا اور وہ بھی سست روی اور انتظامیہ کچھ معاملات میں خواہ مخواہ کی تاخیر و لعل و لیت کررہی ہے جو کہ کسی بھی طرح قبائلی عوام کے ساتھ انصاف نہ ہے۔دعوؤں کی منظوری پروسیس کو خواہ مخواہ طوالت نہ دی جائے۔ 
 
ریاستی انتظامیہ اس ضمن میں متعلقین سے جائزہ لے اور زمینی صورتحال سے آگاہی حاصل کرے اور اس کے ازالے کیلئے مناسب و ضروری ہدایات ترجیحی بنیادوں پر جاری کرکے ایکٹ کی بنیادی منشا کے مطابق حق داران کو حقوق دلانے میں نمایاں و انتظامی کردار اداکرے۔
 

تازہ ترین