تازہ ترین

تعلیمی اداروں میں ورچیول موڈ پرمکرسنکرانتی کے موقعہ پرسوریہ نمسکار کرنے کا معاملہ

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


 ہرفردپرمسلط کرنانامناسب:عمرعبداللہ

فرقہ وارانہ ذہنیت کا واضح ثبوت :محبوبہ مفتی

سرینگر//جموں و کشمیر کے سابق وزرئے اعلی عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی نے مکرسنکرانتی منانے کیلئے مسلم طلبہ کو مجبور کرنے پر برہمی کااظہار کیا ہے اور اس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان احکامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مکر سنکرانتی منانے کے لیے مسلم طلبہ کو یوگا سمیت کچھ بھی کرنے کے لیے کیوں مجبور کیا جارہا ہے ؟ مکر سنکرانتی ایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نہ منانا ایک ذاتی انتخاب ہونا چاہئے نہ کہ جبراً، اسے ہر فرد پر مسلط کرنا مناسب نہیں ہے۔ عمر عبداللہ نے مزید لکھا کہ اگر اسی طرح غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے تو کیا بی جے پی خوش ہوگی؟وہیں سابق وزیر اعلی و پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ٹویٹر پر اس حکم نامے کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط مہم جوئی کا مقصد کشمیریوں کی تذلیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا اور عملے کو مذہبی مقاصد کے لئے مسلط کردہ احکامات کے ذریعے سوریہ نمسکار کرنے پر مجبور کرنا حکومت کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا واضح ثبوت ہے۔'مکرسنکرانتی منانے کے لیے مسلم طلبہ کو مجبور کرنا مناسب نہیں ہے'' مکرسنکرانتی منانے کے لیے مسلم طلبہ کو مجبور کرنا مناسب نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ ڈائریکٹر کالجز نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کالج سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ طلبا و عملہ دونوں کو سوریہ نمسکار پروگرام میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
 

یوگا کا حصہ :مشیرفاروق خان

کوئی زورزبردستی نہیں

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے کہا کہ سوریہ نمسکارکرنا سرکاری ملازمین کیلئے لازمی نہیں ہے۔ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا سوریہ نمسکار یوگا کاحصہ ہے اوراسے مذہب کیساتھ نہیں ملایا جاناچاہیے ۔کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسانہیں ہے کہ اگر ملازمین سوریہ نمسکار نہیں کریں گے تو وہ کوئی جرم کریں گے اور ان کی نوکری برخاست کی جائے گی۔جوچاہے کرسکتا ہے کیوں کہ یہ یوگاکاحصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نمسکار کے عنوان سے اِسے مذہبی رنگ دیاگیا ہے نہیں تویہ یوگا کی مشق ہے۔
 

تعلیمی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے احترازکیا جائے:الطاف بخاری

سرینگر//اپنی پارٹی صدرالطاف بخاری نے جمعہ کو تعلیمی اداروں میں ورچیول موڈ پرمکرسنکرانتی کے موقعہ پرسوریہ نمسکار کرنے کی ہدایات دینے پر شدیدردعمل کاظہار کیاہے۔ایک بیان میں الطاف بخاری نے کہا کہ تعلیمی اداروں کوسیاست سے دوررکھاجاناچاہیے اور معیاری تعلیم دینے پر زوردیناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ تہوارمنانا فرد کا انفرادی انتخاب ہے اور ریاست کو اس میں دخل دینے کاکوئی حق نہیں ہے۔تاہم حالیہ حکم نامہ جس میں جموں کشمیرکے کالجوں میں سوریہ نمسکار منانے کی ہدایت دی گئی ہے ،ایک خطرناک رجحان ہے جس سے شدیدنتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو تعلیمی ماحول کا فرقہ وارانہ رنگ دینے سے اجتناب کرناچاہیے اور اس کے بجائے تعلیمی سہولیات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوزکرنی چاہیے۔بخاری نے کہا کہ بھارت کاآئین ہرشخص کو اپنے مذہب پر چلنے کی اجازت دیتا ہے اورحکومت کو کسی قانون کے تحت یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ برسراقتدار جماعت کے اعتقادات کوشہریوں خاص طور پر طلاب پر مسلط کرے۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ترقیاتی کاموں کوجموں کشمیرمیں شروع کریں اور کووِڈ کی تیسری لہر کاتوڑ کرنے کی کوشش کرے ،نہ کہ لوگوں کو کس اعتقاد پر چلنا چاہیے اس کا فیصلہ کریں۔انہوں نے حکومت سے یہ متنازعہ حکم واپس لینے کوکہا اور مستبقل میں ایسے احکامات جاری کرنے سے اجتناب کرنے پرزوردیا۔
 

بنیاد پرستوں کی تقلید:سجاد لون

سرینگر//پیپلزکانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے کہا ہے کہ حکام کی طرف سے جموں کشمیر کے کالجوں کے پرنسپلوں کو فیکلٹی ممبران اور طلاب سمیت ورچیول موڈ پر سوریہ نمسکار میں حصہ لینے کی ہدایات دینے سے حکومت اُس سارے کئے کرائے پرپانی پھیررہی ہے جو کشمیر کے آزادخیال مسلمانوں نے کیاتھا۔سماجی رابطہ گاہ ٹوئٹر پر سجاد لون نے ایک ٹوئٹ میں اس حکم کو بنیادپرست قراردیا اور کہا کہ حکومت غیرسنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا،’’کیوں حکومت اتنی غیر سنجیدہ ہے ۔اب سوریہ نمسکار کی قسط ہے۔میں چاہتا ہوں کہ وقت کی حکومت سمجھ لیں کہ کشمیر میں لڑی گئی کئی خون ریز لڑائیوں میں ایک جنگ بنیاد پرست اور آزادخیالوں کے مابین تھی۔‘‘ایک اورٹوئٹ میں انہوں نے کہا ،’’آپ کے کام کیسے آزادخیالوں کے کئے کرائے پر پانی پھیررہے ہیں اور یہ الفاظ کی لڑائیاں نہیں تھیں۔کشمیر کے وسیع قلب مسلمانوں کاخون سڑکوں پر بہاتھا۔انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ آزادخیالوں نے کشمیر کے سیکولرروایات کو زندہ رکھنے کیلئے جدوجہدکی ۔انہوں نے تشددکیخلاف لڑا۔گولیوں کامقابلہ کیا۔آزادخیالوں نے قربانیاں دیں اورسوریہ نمسکار سے آپ بنیادپرستوں کی تقلید کرررہے ہیں۔
 

آئین کی صریح خلاف ورزی:مظفرشاہ

سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ طلبا اور اساتذہ کو سوریہ نمسکار کرنے پر مجبور کرنا آئین کی صریح خلاف ورزی ہے،جو اس طرح کے احکامات جاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی ضمانت دیتا ہے۔ ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ ایل جی منوج سنہا کو محکمہ تعلیم کے اس حکم کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔ ۔اے این سی کے سینئر نائب صدر نے مزید کہا کہ ایل جی انتظامیہ کو ایسے اقدامات سے باز آنا چاہئے جن سے فرقہ وارانہ بھائی چارے پر مزید اثر پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے جموں و کشمیر میں خالصتا ًووٹ بینک کی سیاست کے لئے کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر نے کافی نقصان اٹھایا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ملک بھر میں تقسیمی سیاست کو مسترد کیا جائے اور ایسا لگتا ہے کہ عوام نے بڑے پیمانے پر نفرت اور فرقہ وارانہ جنون کی سیاست کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 

مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت:حکیم یاسین

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے لازمی طور’سوریہ نمسکار‘کرنے پرلوگوں کو مجبور کرنے کیلئے حکومت کی تنقید کی ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے جمعہ کو کہا اداروں کے سربراہوں کو اپنے اداروں میں ’سوریہ امر‘منانے کی ہدایات دینے کافیصلہ ہمارے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اظہاررائے اور مذہبی آزادی جس کی بھارت کے آئین میں ضمانت دی گئی ہے،پربھی حملہ ہے۔پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین نے ملک کے سیکولرذہنیت کے لوگوں پرزوردیا ہے کہ وہ ایسے آمرانہ اقدامات کی مذمت کریں جن کا مقصد لوگوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔
 

تنگ نظری کی واضح مثال  

متحدہ مجلس علماء کااظہار برہمی

سرینگر//وادی کی سرکردہ مذہبی تنظیموں کے اتحادمتحدہ مجلس علماء نے مکرسنکرانتی منانے کیلئے کالجوں کے طلاب اور فیکلٹی ممبران کو سوریہ نمسکار کرنے کیلئے مجبور کرنے پرشدیدردعمل اورسخت تحفظات کااظہار کیا ہے۔ایک بیان کے مطابق مجلس علما نے کہا کہ حکام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جموںوکشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے اور مسلمان دوسرے مذاہب کے اس طرح کی رسومات کی ادائیگی میں شرکت نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی شرارت آمیز ہدایات جان بوجھ کرجاری کی جاتی ہیں ،جو حد درجہ افسوسناک ہیں۔مجلس علماء نے حکمرانوں پر یہ بات واضح کی کہ مسلمانوں کیلئے اس طرح کی ہدایت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور یہ کہ وہ اس طرح کی ہٹ دھرمی کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے ۔بیان میں کہا گیا کہ جموںوکشمیر کے مسلمان تمام مذاہب اور عقائد کا احترام کرتے ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہم کے اصول کے مطابق زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں ۔بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ اگر ان کے عقیدے سے متعلق کسی بھی قسم کی مداخلت کی جاتی ہے تو وہ ہرگز کسی کے دبائو میں نہیں آئیں گے ۔مجلس علما نے کہا کہ یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ ہندوستان میں عملا  حکومت کی پشت پناہی کے نتیجے میں  ایک مخصوص  مذہب کے رسومات اور اعما ل کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو  نہ صرف دھمکی دی جاتی ہے بلکہ ان پر قدغنیں عائد کی جاتی ہیں ۔مرکزی جامع مسجد سرینگر کو مسلسل بند رکھا گیا ہے جہا ں گزشتہ کئی مہینوں سے نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ گڑگائوں میں مسلمانوںکو نماز جمعہ کی ادائیگی سے غنڈوں کے ذریعے روکا اور انہیں ستایا جارہا ہے ۔حال ہی میں گزشتہ دنوں ہری دوار میں ایک مذہبی کانفرنس کے دوران ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر اور ان کی نسل کشی کی دھمکیاں دینے اور اس ضمن میںحکومت کی مجرمانہ خاموشی نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ یہ مسلمانوں کیخلاف تعصب ، امتیازی سلوک اور تنگ نظری کی  واضح مثالیں ہیںاور افسوس اس طرح کی کارروائیاں ہندوستان کے طول و عرض میں روز کا معمول بن چکی ہیں ۔متحدہ مجلس علما نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جموںوکشمیر کے مسلمان کسی بھی قیمت پر حکومت کے آمرانہ حکم کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ  آئندہ اس طرح کے احکامات جاری کرنے سے گریز کرے۔واضح رہے کہ متحدہ مجلس علما میں درج ذیل تنظیمیں  انجمن اوقاف جامع مسجدسرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ ، مفتی اعظم کی مسلم پرسنل لابورڈ انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی،کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام،انجمن تبلیغ الاسلام،جمعیت ہمدانیہ،انجمن علمائے احناف،دارالعلوم قاسمیہ،دارالعلوم بلالیہ ، انجمن نصر الاسلام، انجمن مظہر الحق،جمعیت الائمہ والعلما، انجمن ائمہ و مشائخ کشمیر،دارالعلوم نقشبندیہ ، دارالعلوم رشیدیہ ،اہلبیت فاونڈیشن، مدرسہ کنز العلوم ،پیروان ولایت،اوقاف اسلامیہ کھرم سرہامہ ،بزم توحید اہلحدیث ٹرسٹ، انجمن تنظیم المکاتب ، محمدی ٹرسٹ، انجمن انوار الاسلام،کاروان ختم نبوت اور دیگر جملہ معاصر دینی، ملی ، سماجی اور تعلیمی انجمن کے ذمہ داران شامل ہیں۔
 
 

ہدایات حیران کن اورناقابل قبول : قیوم وانی

سرینگر//سول سوسائٹی کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ طلاب کو سوریہ نمسکار کرنے کے سرکاری ہدایت حیران کن اور مداخلت فی الدین ہے جو ناقابل قبول ہے۔ قیوم وانی نے کہاکہ مسلمانوں کے اکثریتی خطہ میں یہ انتظامیہ کی طرف سے زورزبردستی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ قابل مذمت اور باعث شرم ہے۔ 
 

تازہ ترین