منور رؔانا۔۔۔اردو شاعری کا درخشندہ ستارہ

فن اور فنکار

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
منور رانا کا اصل نام سعید منور علی ہے ۔اُن کا شمار اردو کےعالمی شہرت یافتہ شاعروں میں ہوتا ہے۔ یہ اُن گنے چنے شاعروں میں گردانے جاتے ہیں۔جنہوں نے غزل میں ماں کے موضوع کو پیش کرنے کی شروعات کی ہے ۔منور رانا ہندوستان کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہترین شعراء میں سے ہیں، جو پچھلے پانچ دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں  مشاعروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ چمکتا تارا 26 نومبر 1952 میں رائے بریلی اترپردیس میں طلوع ہوا ، تاہم انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ کلکتہ میں گزارا۔تقسیم ہند کے وقت منور رانا کے رشتہ دار پاکستان ہجرت کر گئے، منور رانا کے والد نے ہندوستان میں ہی رہے ۔ منور رانا سے پہلے اردو غزل گوئی میں صرف حسن و عشق کے موضوعات پیش کیے جاتے تھے۔لیکن مزکورہ شاعر نے غزل میں ماں جیسا موضوع پیش کیا ۔منور رانا سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ غزل میں ماں جیسے موضوع کو پیش کرنے کی کیسے سوجھی؟۔ توانہوں نے کہا کہ بنگال میں میرے کالج کے دوست مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ جب ہمارے بنگلہ ساہت انگریزوں سے لڑ رہے تھےتو تمہاری غزل وحشیا کے کوٹھے سے اُتر رہی تھی۔ تو میں نے سوچا بات تو سچ ہے، ہماری غزل میں محبوبہ کے کان، ناک، ہونٹ، ہاتھ، اور کمر وغیرہ کا ذکر اس طرح ہوتا ہے جیسے غزل نہیں کوئی گوشت کی دکان ہو ۔کیوں نہ اس روایت کو بدلا جائے اور ’ماں‘ جیسے مقدس موضوع کو غزل کی زینت بنایا جائے ۔چنانچہ میں نے غزل کو وحشیا کے کوٹھے سے نکال کر ماں کے قدموں میں لا کر رکھ دیا ۔ میں نے غزل گوئی میں ماں لفظ کو برتنے کی نئی راہ نکالی ۔اس پر سوالات بھی اٹھائے گئے اور اعتراض بھی جتایا گیا کہ غزل کے معنی ہیں محبوبہ سے باتیں کرنا ،ماں سے نہیں اور اس میں محبت، حسن و عشق کے موضوعات پیش کیے جاتے ہیں ماں جیسا موضوع غزل میں پیش کرنا ،اس صنف کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ تو میرا یہی جواب تھا جب ایک عام سی لڑکی کسی کی محبوبہ ہو سکتی ہے تو میری ماں میری محبوب کیوں نہیں ہو سکتی ،جو دنیا کے کسی بھی شخص سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہےاور میرے لیے اتنی تکالیف سے نبردآزما ہوتی ہے بقولِ منور رانا: ؎
اس طرح سے میرے گناہوں کو دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
منور رانا کی شاعری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔ وہ اپنی شاعری میں نئی پود کو ماں سے محبت کرنے اور ماں کا خدمت گزار بننے اور ماں کی دعائیں حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کہتے ہیں ؎
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
منور رانا کی شاعری اردو کے علاوہ ہندی، بنگالی اور گرومکھی زبانوں میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ ایک بار منور رانا سے پوچھا گیا کہ اب آپ ضعیف العمر ہیں لیکن آپ کی بینائی میں کوئی فرق نہیں آیا تو جواباً منور رانا نے یہ شعر پڑھا تھا کہ ؎
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجیے روشنی بڑھ جائے گی
اتنا ہی نہیں منور رانا نے اپنی شاعری میں نہ صرف ماں بلکہ بہن، بیٹی کی اہمیت اور عظمت کو بھی بیان کیا ہے ۔ ؎
رو رہے تھے سب تو میں بھی پھوٹ کر رونے لگا 
ورنہ مجھ کو بیٹیوں کی رخصتی اچھی لگی 
کچھ دن اور ماں کو خوش رکھنا چاہتی تھی 
وہ بچی کپڑوں کی مدد سے اپنی لمبائی چھپاتی تھی
لیکن ماں کے موضوع کو منور رانا کی شاعری سے ہر گز جدا نہیں کیا جا سکتا ہے ۔؎
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے ازاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
اداس رہنے کو اچھا نہیں بتاتا ہے
کوئی بھی زہر بھی کو میٹھا نہیں بتاتا ہے
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
ماں دنیا کی ایسی دولت ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ دنیا کی ساری دولت ایک طرف اور ماں کا پیار اور ماں کی دعا ایک طرف۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آجکل کے  بھائیوں میں جب بٹوارہ ہوتا ہے تو باقی ساری دولت کو حاصل کرنے پر جھگڑا ہوتا ہے۔ لیکن جب ماں کی بات آتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے اور ماں کو دولت کے بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اسی مضمون کو منور رانا نے کچھ اس طرح سے پیش کیا ہے کہ ؎
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
منور رانا کا کہنا ہے کہ اگر ماؤں کی بات مانی جائے تو نہ صرف بھائیوں میں بلکہ ملکوں میں بھی بٹوارہ نہیں ہوگا اور سب لوگ مل جل کر رہیں گے بقولِ منور رانا ؎
کوئی سرحد نہیں ہوتی گلیارہ نہیں ہوتا
اگر ماں بیچ میں ہوتی تو بٹوارہ نہیں ہوتا
منور رانا نے ماں سے منسلک ہر چیز کو اپنی شاعری میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ اور وہ ماں کی میلی چادر کو  ستاروں سے بھی افضل سمجھتے ہیں کہتے ہیں۔ ؎
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہونگے اے فلک
مجھ کو میری ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
دنیا میں جس قدر محبتوں اور چاہتوں کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ماں کی محبت اور چاہت کے سامنے سب کچھ پھیکا پھیکا سا لگتا ہے۔ مزکورہ شاعر نے اسی مضمون کو کچھ اس طرح سے ادا کیا۔؎
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا 
منور رانا کی جو تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں ان میں نیم کے پھول، کہو ظل الٰہی سے، جنگلی کبوتر، بغیر نقشےکا مکان ،مہاجرنامہ ،چہرے یاد رہتے ہیں، سفید جنگلی کبوتر اور ماں قابل ذکر ہیں ۔منور رانا نے بہت سارے انعامات بھی حاصل کئے ہیں،جن میں امیر خسرو ایوارڈ، میر تقی میر ایوارڈ، غالب ایوارڈ، شہود عالم آفاقی ایوارڈ، ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ ،اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ قابل ذکر ہیں۔ منور رانا نے 2015 میں ملک میں عدم رواداری کو لے کر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بطورِ احتجاج واپس کیا تھا، ایسا انہوں نے ایک راست ٹیلی ویژن شو کے دوران کہا تھا، اپنے بیانات اور اشعار کی وجہ سے منور رانا سرخیوں میں بھی رہے ہیں۔ کیونکہ منور رانا بے باک انداز میں اپنی بات رکھتے ہیں اور اکثر اوقات اپنی بڑی سے بڑی بات شعر میں پیش کرنے کی قابل قدر صلاحیت رکھتے ہیں۔ منور رانا کا شمار اردو کے ان چنندہ شاعروں میں ہوتا ہے،جنہوں نے اپنی غزلوں میں ماں کی اہمیت اور عظمت کے ساتھ ساتھ ماں کے احساسات، جذبات، محبت اور ایثار کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس امر میں بہت حد تک کامیاب بھی ہو گیے ہیں ۔مہاجر نامہ ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کے چند اشعار یوں ہیں : 
مہاجر ہیں مگر اک دنیا چھوڑ آئے ہیں 
تمارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں 
لیکن ان کی شاعری میں جس قدر ماں کا موضوع چھایا رہتا ہے شاید ہی کوئی اور موضوع ہو (منور رانا نے ماں کے مقدس موضوع کو غزل کی زینت بنا کر اردو غزل کا معیار بلند کیا ہے اور اردو غزل کو وہ عزت و توقیر بخشی ہے، جس سے اردو غزل ناآشنا تھی۔ غزل میں ماں کے موضوع کو پیش کر کے منور رانا نے اردو غزل میں مختلف موضوعات کو پیش کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ دیکھا جائے تو منور رانا نے غزل کو ایک محدود دائرے سے نکال کر اس کو کینوس وسیع سے وسیع تر کر دیا ہے)  منور رانا کے بعد بہت سارے شاعروں نے اس موضوع کو غزل میں پیش کرنے کی کوشش کی ۔مثال کے طور پر عباس تابش کا یہ شعر عرض کرنا چاہوں گا ۔؎
ایک مدت سے ماں میری سوئی نہیں تابش
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
اس حوالے سے افتخار عارف نے بھی قلم اٹھایا ہے لکھتے ہیں۔؎
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
اسی مضمون کی آبیاری کے لیے احمد سلمان نے بھی قلم اٹھایا تو کچھ یوں رقمطراز ہوئے۔؎
سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا
خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے کہ وہ پاگل بھی ہو جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں ۔
 ماں کی عظمت پر منور رانا کے تخلیق کردہ چند اور شعر ملاحظہ فرمائیں: ؎
اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہو گیا
ماں نے آنکھیں کھول دیں گھر میں اُجالا ہو گیا
بزرگوں کا میرے دل ابھی تک ڈر نہیں جاتا
جب تک جاگتی رہتی ہے ماں میں گھر نہیں جاتا
مسلسل گیسوؤں کی برہمی اچھی نہیں ہوتی
ہوا سب کے لیے یہ موسمی اچھی نہیں ہوتی
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کے نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو زیادہ نمی اچھی نہیں ہوتی
منور رانا نے اس طکے اشعار بھی تخلیق کئے ہیں جیسے : ؎
اس فاختہ کی کوکھ سے زخمی ہوں آج تک
جو فاختہ تم نے اس دن دعوت دی کاٹ دی
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں 
یہ وہ سچ ہے جو جھوٹے سے جھوٹا بول سکتا ہے 
ہندی اور اردو کی زبانوں کو منور رانا بہنیں قرار دیتا ہے اور کہتے ہیں : ؎
سگھی بہنوں کا رشتہ ہےجو ہندی اور اردو میں 
کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا 
منور رانا نے دنیا کی ترقی اور بلدی کو عارضی قرار دیا ہے کہتے ہیں کہ؎
بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے
فضا میں شام ہوتے ہی پرندے لوٹ آتے ہیں 
زمین پر جو سکون ہے آسمانوں میں نہیں ملتا 
آج کل اردو کے اس ممتاز اور منفرد شاعر کی طبیعت ناساز ہے اللہ انہی شفائی کامل عطا فرمائے اور اردو شعروادب پر ان کا سایہ بنا رہے ۔آمین 
bhatsubzar51@gmail.com
 

تازہ ترین